عمران خان کی خفیہ شادی کے چرچے

ایمن محمود

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی تیسری شادی کا چرچا عام ہے اور  ان کی ایک خاتون کے ساتھ  ایک تقریب میں لی گئی تصویر بھی میڈیا میں  گردش کر رہی ہے۔

نجی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق  چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ایک بار پھر خفیہ شادی رچالی اور  ان کی تیسری دلہن وہ خاتون ہے جن کے پاس وہ روحانی رہنمائی کے لیے جایا کرتے تھے۔اس رپورٹ کے مطابق  چیئرمین پی ٹی آئی نے سالِ نو کا آغا ز یکم ۔جنوری کی شب لاہور میں خاتون سے شادی کرکے کیا۔ وہیں سے اگلے روز سیدھے اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت پہنچے جہاں سے انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عمران خان کا نکاح پی ٹی آئی کور کمیٹی کے رکن مفتی سعید نے پڑھایا، 8جنوری 2015ء ،کو ریحام خان سے شادی کے موقع پر ان کے نکاح خواں مفتی سعید ہی تھے۔

لیکن مفتی سعید  عمران خان کی تیسری شادی کی تصدیق  کرنے پرفی الحال  تذبذب کا شکار ہیں ۔عمران خان اور ریحام کی شادی پر بھی مفتی سعید نے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی  کے  پولیٹیکل سیکریٹری عون چوہدری اور چیئرمین کے ترجمان نعیم الحق نے شادی کی  خبروں کو رد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دے دیا۔ لیکن کچھ ہی دیر میں عون چوہدری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’’ میری تو خواہش ہو گی کہ عمران خان کی شادی ہو اور انھیں ایسا شریک حیات ملے جو انکی زندگی کو خوبصورت بنا ئے، لیکن سیاست سےاس کا کوئی تعلق نھیں ۔‘‘

جبکہ عمران خان کے پولیٹیکل سیکریٹری نعیم الحق نے سخت الفاظ میں خان صاحب کی شادی کی خبر کی تردید کی اور یہ دعویٰ  بھی کیا ہے کہ کپتان سے35سالہ رفاقت کے پیش نظر میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ ایساکچھ ہواہی نہیں ہے۔ وہ اگر شادی کریں گے بھی تو 2018ءمیں عام انتخابات کے بعد کریں گے ۔

پی ٹی آئی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیریں مزاریں نے اس معاملے کو عمران خان  کا ذاتی معاملہ قرار دیا ہے۔شیریں مزرایں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’’ یہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا ذاتی معاملہ ہے کہ وہ کب، کس سے اور کہاں شادی کرتے ہیں‘‘۔

عمران خان کی یہ تیسری شادی ہے جو کہ تاحال افواہوں کی حد تک ہی ہے ۔کپتان نے پہلی شادی جمائما گولڈ اسمتھ سے 16 مئی 1995کو کی جو کہ 22جون 2004ء کو 9 برس بعد طلاق پر ختم ہوئی۔

عمران خان نے دوسری شادی ٹی وی اینکر ریحام خان سے کی جو مشکل سے دس ماہ ہی چل سکی۔عمران خان نے اپنی دوسری شادی کا اعلان 8 جنوری 2015ء کو کیا تاہم تب بھی یہ اطلاعات تھیں کہ انکا نکاح نومبر 2014ء میں انجام پاچکا تھا۔  لیکن عمران خان کی دوسری شادی کی خبریں جب عام ہوئیں تھیں تو انہوں نے اسے   افواہ ہی قرار دیا تھا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اپنی تیسری شادی کا اعلان انتخابات سے قبل کرتے ہیں یا بعد میں یا پھر اعلان کرتے بھی ہیں کہ نہیں۔

 عمران خان اگر اپنی شادی کا اعلان انتخابات سے قبل کرتے ہیں تو یہ  شادی انکے سیاسی کیرئیر  کے لیے مثبت ثابت ہوگی یا منفی اثرات مرتب کرے گی  یہ فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔

کپتان کو انکی  تیسری شادی کے حوالے سے مخالفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی آج کل مسلم لیگ (ن) نے عدالت کے عمران خان کو اہل قرار دینے کے فیصلے پر انکا نام ہی لاڈلا رکھ دیا ہے ۔

عمران خان اپنی شادی کی تصیق یا تردید جب بھی کریں انکی تیسری شادی کی خبروں نے یہ آثار تو ظاہر کردیے ہیں کہ کپتان چار شادیوں کی سنت پوری کرنے پر عمل پیرا ہیں۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔