یہ پرچموں میں عظیم پرچم ، عطائے ربِ کریم پرچم

FLAG

تحریر : عنبر حسین سید

آ زادی ایک نعمت ہے اس کی قدر وہی قومیں جانتی ہیں جنھوں نے غلامی کے عذاب کو جھیلا ہو۔ہم اُن خوش نصیبوں میں سے ہیں جنھوں نے آزاد فضا میں آنکھ کھولی۔

اس لیے ہر سال 14 اگست کو ہم اپنی آزادی کا دن بڑے جو ش وخروش اور ولولے کے ساتھ مناتے ہیں ،اپنے بچوں کو 14 اگست کی مناسبت سے لباس خرید کے دیتے ہیں،گھروں کو جھنڈوں اور جھنڈیوں سے سجاتے ہیں ۔ ہاتھوں میں پہننے کے بینڈز سے لے کر سینوں پر سجنے والے بیجز تک اپنے بچوں کو دلاتے ہیں اور یہ خریدوفروخت کا سلسلہ یکم اگست سے شروع ہو کے 14 اگست کی رات تک جاری رہتا ہے۔

ہم بہت عقیدت سے یہ دن مناتے ہیں،بہت پیار اور چاہ سے گھروں میں جھنڈیاں لگاتے ہیں،اپنے بچوں کو سمجھاتے ہیں کہ جھنڈیاں ایسے لگاو،جھنڈے کو ایسے سیٹ کرو۔

لیکن 14 اگست کے دوسرے ہی دن سے بلکہ ذیادہ تر اُسی دن سے وہ جھنڈے اور جھنڈیاں مختلف گلیوں میں،سڑکوں پر اُڑتی اور پیروں میں آتی دکھائی دیتی ہیں، کیا یہ  صحیح ہے؟ ہم کیوں اپنے بچوں کو یہ نہیں بتاتے کہ جس طرح شوق سے اور ضد کر کے آپ نے یہ جھنڈیاں خریدی اور سجائی ہیں اب اسی شوق اور محبت کے ساتھ اس کو سمیٹ کر اور لپیٹ کر رکھیں کیوں کہ اپنے پرچم اور جھنڈیوں کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔

ہم اپنے قیمتی لباس اور زیورات کو تو شادی بیاہ اور دیگر تقریبات سے فارغ ہو کر بہت احتیاط سے اُتار کر رکھتے ہیں مگر یوم ِ آزادی کے بعد ہم سب سے قیمتی چیزاپنے پرچم اور خاص کر اُن کاغذ کی جھنڈیوں کو کیوں سنبھال کر نہیں رکھتے جس کے لیے ہمارے آباو اجداد نے اپنے تن من اور دھن کی قربانی دی۔

اگر ہم ہی اپنے جھنڈے کی عزت نہیں کریں گے تو کوئی اور کیسے کرے گا؟اور کس طرح ہم آنے والی نسل کواس کی حرمت اور پاسداری کا درس دیں گے۔

ہمیں بچوں کی ایسی تربیت کرنی چاہیے کہ وہ جھنڈے کی حرمت کا خیال رکھتے ہوئے جس ذوق و شوق سے جھنڈیاں لگائیں اُسی شوق،جذبے اور احترام کے سا تھ اِن جھنڈے اور جھنڈیوں کو سنبھال کر رکھیں نہ کہ کچرے کے ڈھیر کی زینت بنتے دیکھیں۔

ایک قوم کے لیے اس سے ذیادہ شرمندگی کا مقام کیا ہوگا کہ اُس کا پرچم کچرے کے ڈھیر میں پڑا ہے یااُسی قوم کے قدموں تلے آ رہا ہے۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔