کانگوسےمتاثرہ ایک اورمریض جناح اسپتال پہنچ گیا

Congo-virus

کراچی میں کانگو وائرس کا ایک اور مریض سامنے آگیا ، 20 سالہ پرویز صفورا گوٹھ کا رہائشی ہے جسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

جناح اسپتال کی ایم ایس سیمی جمالی کے مطابق مريض کونجی اسپتال سےجناح اسپتال منتقل کیاگیا،پرویزپنہول کی حالت تشویشناک ہےعیدقرباں کےبعدکانگوسےمتاثرہ مریضوں کی تعدادمیں اضافہ ہوا ۔

کراچی میں  گزشتہ روز کانگووائرس سے ایک اور شخص دم توڑ گیا ۔تفصیلات کے مطابق احمد منہاج نامی شخص اورنگی ٹاؤن کا رہائشی تھا جو کہ کانگووائرس کا شکار ہو کے لقمہ اجل بن گیا ۔خیال رہے کہ رواں سال کانگووائرس سےہلاکتوں کی تعداد 6 ہوگئی ہے ۔

اس سے قبل بھی 20 اگست کو نیو کراچی کے رہائشی 23 سالہ سلمان کو ہفتے کے روز اسپتال لایا گیا تھا، جس کے ٹیسٹ کے بعد اس کے جسم میں کانگو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔

کانگووائرس کیا ہے؟

کانگووائرس اس وقت دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے، کانگو نامی کیڑا مویشیوں کی جلد پر پایا جاتا ہے اور یہ اپنے شکار کا خون چوستا رہتا ہے۔

وجوہات

اگر کسی انسان کو یہ کیڑا کاٹ لے یا اس سے متاثرہ جانور ذبح کرتے ہوئے انسان کو زخم لگ جائے تو اس بیماری کا شکار ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

علامات

ماہرین کے مطابق ہڈیوں اور پیٹ میں درد، تیز بخار اور جسم کے کسی بھی حصے سے خون آنا کانگو کی علامات ہیں اور یہ مرض ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

کانگو سے بچاؤ اور اس پر قابو پانا تھوڑا مشکل ہے کیوں کہ جانوروں میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں البتہ ان میں چیچڑیوں کو ختم کرنے کے لیے کیمیائی ادویات کا اسپرے کیا جاسکتا ہے۔کانگو سے متاثرہ مریض سے ہاتھ نہ ملائیں،مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت دستانے پہنیں،مریض کی عیادت کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں،لمبی آستینوں والی اور ہلکے کپڑے کی قمیض پہنیں۔

نتیجہ

کانگو وائرس سے متاثرہ انسان کے پھیپھڑے، جگر اور گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔