سروں کے بادشاہ ، شہنشاہ قوال کی70 ویں سالگرہ

سروں کے بادشاہ ، شہنشاہ قوال جو بھی گایا کمال اور لاجواب گایا ، قوالی کو ایک جدید انداز دینے والے عظیم قوال استاد نصرت فتح علی خان کے مداح آج ان کی  70 ویں برسی منا رہے ہیں  نصرت صاحب کے گانے وفات کے  بعد بھی سنے جاتے ہیں۔ کانوں میں رس گھولتے نغمے ہم میں آج بھی زندہ ہیں۔

نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 میں فیصل آباد کے قوال گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نصرت صاحب کے والد فتح علی خان بھی ایک نامور قوال تھے۔ نصرت فتح علی خان نے لوک اور قوالی میں اپنا سکہ منوایا۔ آپ کی گائی ہوئی قوالی ’’دم مست قلندر‘‘ سے آپ نے مقبولیت حاصل کی۔

نصرت فتح علی خان نے قوالی کیساتھ ساتھ پوپ میوزیک میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ آپ کی گائیگی نے دنیا بھر میں اپنے سُر بکھرے۔ ہالی وڈ کی فلموں میں ’’ڈیڈ مین واکنگ‘‘ اور ’’دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ‘‘ میں بھی موسیقی ترتیب دی۔

 اس کے علاوہ 90 کی دہائی میں خان صاحب نے بھارتی فلموں میں بھی اپنی گائیگی کے جوہر دکھائے۔ بھارتی فلموں میں خان صاحب نے بطور موسیقار اور گلوکار کام کیا۔ اے آر رحمان ، آشا بھوسلے ، لتامینگیشکر اور جاوید اختر کیساتھ کام کیا اور شائقین سے پزیرائی حاصل کی۔

خان صاحب نے بطور قوال 125 البم ریکارڈ کئے جو سب کے سب نے بلندیوں کو چھوا اور گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام سنہری الفاظ میں اندراج کروایا۔ خان صاحب کی مشہور قوالیوں میں دم مست قلندر دم ، اللہ ہو اللہ ہو ، میرا پیا گھر ایا ، علی مولا علی ، کینا سوہنا تینو رب نے بنایا ، یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے جیسے لاتعداد قوالی نے دنیا بھر میں دھوم مچائی۔

استاد نصرت فاتح نے لہو گراما دینے والے ملی نغمیں بھی گائیں جس میں میری پہچان پاکستان آج بھی لوگوں کے دلوں میں بسیں ہیں۔

خان صاحب کے گائی قوالیاں اور گانے غیر ملکی گلوکاروں نے بھی اپنے انداز میں گائے۔ جن میں برطانوں گلوکار سامی یوسف نے خان صاحب کی مشہور قوالی دم مست قلندر کو گایا اور داد وصول کی۔

ٹائم میگزین نے ایشین ہیروز کی فہرست میں انکا نام بھی ڈالا۔ حکومت پاکستان کیطرف سے نصرت فتح علی خان کو تمغہ حسن کارگردگی سے نوازا۔ اس کے علاوہ خان صاحب کو یونسکو میوزک ایوارڈ دیا گیا اور 1997 میں گریمی ایوارڈ کے لیے بھی نامزد ہوئے۔

16 اگست 1997 کو 48 سال کی عمر میں جگر کے عارضی مرض میں مبتلا قوال کے بے تاج بادشاہ اپنے مداحوں سے بچھڑگئے۔ پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔ وفات کے 20 سال بعد بھی نصرت فتح علی خان کی قوالیاں اور گیت اپنے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔