معروف شاعر جون ایلیا کا 89 واں یوم پیدائش

عمر گزرے گی امتحان میں کیا

داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

میری ہر بات بے اثر ہی رہی

نقص ہے کچھ مرے بیان میں کی

 باغی شاعر کہلائے جانے والے جون ایلیاء برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر،فلسفی، سوانح نگاراور عالم تھے۔

جون ایلیاء 14 دسمبر 1937 کو امروہہ اترپردیش کے ایک نامور گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ معروف صحافی رئیس امروہی اور فلسفی سید محمد تقی کے بھائی تھے۔ جون کو عربی ، انگریزی ، فارسی ، سنسکرت اور عبرانی زبان میں اعلیٰ مہارت حاصل تھی۔

جون ایلیاء نے اپنی زندگی کا پہلا شعر 8 سال کی عمر میں کہا۔

 چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں

دیکھ لوسرخی میرے رخسار کی

جون ایلیاء کو وہ بصیرت اور بصارت حاصل تھی کہ قطرے میں دجلہ اور ذرے میں صحرا کو دیکھ لیتے تھے۔ انکی شاعری اور انکے انداز بیاں کا کمال اپنی جگہ، مگر انکی اپنی فنی خوبی یہ تھی کہ وہ آسان لکھنے کی دشواریوں سے واقف تھے۔ جون ایلیاء کو ہم سے بچھڑے کئی برس بیت گئے۔ مگر آج بھی وہ اپنی شاعری کی صورت میں ہم میں موجود ہیں۔

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

خموشی سے ادا ہو رسم دوری

کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

روایت شکن ، باغی اور منفرد لب و لہجے کے شاعر نے اپنی شاعری کو ایک منفرد رنگ دیا۔ جون ایلیاء سرتاپا شاعر تھے۔ سوائے شاعری کے انھوں نے کوئی اور کام کیا ہی نہیں۔ انھوں نے شاعری کو صرف اوڑھ نہیں رکھاتھا بلکہ شاعری کو خود میں بسر کرتے تھے۔ جون ایلیاء کی شاعری انسانی کیفیت کے گرد گھومتی ہے۔ وہ کہتے ہیں۔

 بےقراری سی، بے قراری ہے

وصل ہے اور فراق طاری ہے

جو گزاری نہ جاری ہم سے

ہم نے وہی زندگی گزاری ہے

فلسفہ ، منطق ، اسلامی تاریخ ، اسلامی صوفی روایات ، اسلامی سائنس ، مغربی ادب اور واقعہ کربلا پر جون کا علم انسائیکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انھوں نے اپنی شاعری میں بھی دخل کیا تاکہ خود کو ہم عصروں سے نمایاں کرسکیں۔

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی

شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی

تیرا فراق جان جاں عیش تھا کیا مرے لیے

یعنی ترے فراق میں خوب شراب پی گئی

جون ایلیاء ایک انتھک مصنف تھے،لیکن انھیں اپنا تحریری مجموعہ شائع کروانے میں راضی نہیں کیا جاسکا۔ انکا پہلا شاعری مجموعہ شاید1991 میں شائع ہوا جب وہ 60 سال کے تھے۔ دوسرا مجموعہ یعنی انکی وفات کے بعد 2003 میں شائع ہوا ، چوتھا مجموعہ لیکن 2006 اور پانجواں مجموعہ گویا 2008 میں شائع ہوا۔

جون ایلیاء کی شادی پاکستان کی مشہور کالم نویسی زاہدہ حنا سے ہوئی۔ جن سے انکے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا ہوئے۔ 1980 کی دہائی میں جون کی زاہدہ حنا سے طلاق ہوگئی۔ جس کے بعد وہ تنہائی میں چلے گئے۔ کثرت شراب نے انکو مژمردہ کردیا اور طویل علالت کے بعد شاعری کا سنہرا باب اپنے مداحوں سے بچھڑگیا۔ جون ایلیاء 8 نومبر 2002 کو 70 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے جون ایلیاء کو اردو ادب کی لازوال خدمات پر سال 2000 میں حسن کارکردگی کے اعزاز سے نوازا گیا۔

 میں بھی بہت عجیب ہوں،اتنا عجیب ہوں کہ بس

خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay