جب قوم نے ننھے لاشے اٹھائے

APS

تحریر: طہٰ جلیل الرحمٰن

سنہ 1947 سے لیکر 2017 تک پاکستان کی تاریخ المناک واقعات اور خونریزی سے بھر پور ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد سے کلمہ حق کے نام پر بننے والی اس مملکت کے خلاف دشمن سرگرم ہوگئے تھے جو کئی موقعوں پر کامیاب بھی ہوئے۔

1965 کی جنگ ہو یا 1971 میں مشرقی پاکستان کا علیحدگی کا معاملہ ہو پاکستانی قوم نے صبر و تحمل سے سانحات کو جواں ہمتی کے ساتھ برداشت کیا ، اور اب تک کرتی آرہی ہے۔

دسمبر کا سرد موسم رکھنے والےاس ماہ کو پاکستان کی تاریخ میں خاصی اہمیت حاصل ہے ۔ پاکستان کی عوام نے 1971ء میں سقوط ڈھاکہ جیسا عظیم سانحہ اسی مہینے میں برداشت کیا۔ جب دسمبر 2014 میں دوبارہ پلٹا تو اس نے قوم کے ہر ایک چھوٹے بڑے کو “آرمی پبلک اسکول پشاور” جیسا عظیم سانحہ دیا جو کبھی نہ بھلایا جا سکے گا۔

16 دسمبر 2016 کا سورج بادلوں میں ڈھکے پشاور جیسے حسین شہر میں طلوع ہوا تو کون جانتا تھا آج یہ قوم کو وہ سانحہ دیکر ڈوبے گا جسکا کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا۔ ماؤں نے خود اپنے لاڈلوں کو تیار کرکے ان کی مقتل گاہ روانہ کیا ۔ اس وقت انہوں نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ صاف ستھرے یونیفارم میں سج کر ان کے لخت جگر واپس ان کے ہاتھوں میں سرخ رنگ سے اٹی ہوئی وردی میں لوٹیں گے۔

آرمی پبلک اسکول میں کالعدم جماعت سے تعلق رکھنے والے 6 جانور صفت انسان سیڑھی لگا کر داخل ہوئے۔ مسلح شدت پسندوں نے اسکول کے داخلی اور خارجی راستوں پر پوزیشن سنبھال لیں  ۔

ان سفاک قاتلوں میں سے کچھ نے اسکول کے مرکزی ہال کا رخ کیا جہاں مستقبل میں ڈاکٹرز ، انجئینرز ، پائلٹ ، فوجی اپنی قوم کے رہنما اور پاکستان کو کامیابیوں سے ہمکنار کرانے، آسمانوں اور کرہ ارض کے رازوں سے پر دہ اٹھانے کے لیے جدوجہد  کرنے کے جذبے سے سرشار طلباء ، ملک کے معمار اساتذہ کی رہنمائی میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ اسی اثناء میں اچانک قاتل اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے اسکول کے مرکزی ہال میں داخل ہوگئے۔

دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں آکر 132 چراغ اور اپنے ماؤں کے لخت جگر ہمیشہ کے لیے بجھ گئے۔ جو کلیاں ستھرے لباس میں باغ سینچنے کے خواب لیے گھروں سے درسگاہ کو گئی تھیں، سفاک قاتلوں نے ان کے گلستان کو باغیچہ بننے سے پہلے ہی روند دیا۔

آرمی پبلک اسکول میں ہرطرف معصوموں کی لاشیں سرخ وردیوں میں سوال کر رہی تھیں کہ ہمارے بستوں میں تو کتابیں تھیں ، قلم تھے ، علم تھا جو روشنی ہی دیتا ، آگ تو نہ لگاتا، پھر ہمیں مرجھا کیوں دیا؟؟؟ ہمیں درندگی سے مار کیوں دیا؟؟ ہم نے تو کچھ نہ کیا تھا؟؟؟؟ ابھی تو بس خواب دیکھے تھے اور کچھ وقت ہی ہنسے تھے، بولے تھے، ابھی تو بہت سی شرارتیں کرنا تھیں؟؟؟ ہمیں مار کیوں دیا؟؟

بستہ  اٹھائے، ستھرا بھیجا تو نے

ماں! نہ ڈانٹنا

بھگودیا لہومیں ظالموں نے!!

مرکزی ہال سے نکل کر مسلح حملہ آوروں نے 9 اساتذہ اور 3 فوجی جوانوں کو بھی شہید کیا جو مستقبل کے معماروں کی تربیت اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ شہید اسٹاف نے اس خونریزی کے دوران بھی ثابت کیا کہ ہم سفر آخر میں بھی اپنے شاگردوں کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھیں گے اور ان کی رہنمائی کریں گے۔ گولیوں کی بارش میں بھی اپنے شاگردوں کو تنہا نہ چھوڑا اوراستاد آخری سفر میں بھی شاگردوں کے ساتھی بن گئے۔

تین سال قبل دہشت گردی کی سفاکیت کا شکار ہونے والے گلوں کے لواحقین آج بھی انصاف کے منتظرہیں ۔ یہ حکومتی بے حسی ہے یا حکمران طبقے نے شطرنج کی بساط پر مہروں کا رخ کسی اور طرف ہی کیا ہوا ہے۔

آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کی سفاکیت کا نشانہ بننے والے ایک سو اکتالیس شہداء کے لواحقین کو جوابدہ کون ہے؟ آج تین سال کا طویل عرصہ گزرجانے کے باجود عوام یہ جان ہی نہیں سکی ہے۔

معصوموں کی شہادت پر آج بھی ہر آنکھ اشکبار ہے اور جن کے لخت جگر گولیوں سے چھلنی کیے گئے ان ماؤں کے آنسوؤں کا سیلاب آج بھی پہلے دن کی طرح رواں ہے۔ قوم تین سال بعد بھی یہ نہ جان سکی کہ پتھر جیسا دل یا شاید انسانوں کا لبادہ اوڑھے درندے معصوم کلیوں کو روند کر مقصد حاصل کیا کرنا چاہتے تھے؟؟

اس عظیم سانحہ کا ذکر آج بھی قوم کے ہر ایک چھوٹے بڑے کو اشکبار کر دیتا ہے۔ اس عظیم سانحے کی برسی پر پاکستانی عوام ان بے حس درندوں جو انسانیت نے نام پر دھبہ ہیں ,ان کے خلاف متحد ہو کر ہر محاذ پر دہشت گردوں کو شکست دینے کے عزم کو دہراتے ہیں۔

انصاف کی منتظر دہلیز پر بیٹھیں ہیں مائیں

چراغ جن کے بجھائے گئے درس گاہ میں

مدت لگائی تھی ننھی کلیوں پر باغباں نے

نہ جانے کیوں بجھادیے گئے مقتل گاہ میں

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔