انقلابی شاعر کا لقب پانے والے برصغیر کے عظیم شاعر جوش ملیح آبادی

ترتیب و تدوین : عنبر حسین سید 

انقلابی شاعر کا لقب پانے والے برصغیر کے عظیم شاعر جوش ملیح آبادی کو اس دیارِ فانی سے کوچ کیے 38برس بیت گئےہیں  اور آج  ان کے  چاہنے  والے جوش کا  126واں یوم  پیدائش نہایت عقیدت  اور محبت سے منا رہے ہیں ۔

کام ہے میرا تغیر نام ہے میرا شباب

میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب

جوش ملیح آبادی  5 دسمبر 1898ء  کو ہندوستان کے علاقے ملیح آباد کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شبیر حسن خان تھا۔ جوش کے والد نواب بشیر احمد خان، دادا نواب محمد احمد خاں اور پر دادا نواب فقیر محمد خاں گویا سبھی صاحبِ دیوان شاعر تھے۔

انہوں نے 1914ء میں سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا۔ جوش ملیح آبادی انقلاب اور آزادی کا جذبہ رکھنے والے روایت شکن شاعر تھے انہوں نے 1925ء میں عثمانیہ یونیورسٹی میں مترجم کے طور پرکام شروع کیا اور کلیم کے نام سے ایک رسالے کا آغاز کیا اور اسی دوران نظم ’’حسین اور انقلاب‘‘ لکھنے پر انھیں شاعر انقلاب کے اعزاز سے نوازا گیا۔

اٹھائے گا کہاں تک جوتیاں سرمایہ داروں کی

جو غیرت ہے تو بنیادیں ہلا دے شہر یاروں کی

جوش برطانوی شعار کے سخت مخالف اور ہندوستان کی آزادی کے علمبر جوش برطانوی شعار کے سخت مخالف اور ہندوستان کی آزادی کے علمبردار تھے۔تقسیمِ ہند کے چند برسوں بعد جوش نے ہجرت کرکے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ جوش نہ صرف اردو پر عبور رکھتے تھے بلکہ عربی، فارسی، ہندی اورانگریزی پربھی انکی  دسترس تھی۔ اپنی انہیں خداداد لسانی صلاحیتوں کے باعث انہوں نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپورعلمی معاونت کی۔

جوش ملیح آبادی کثیر التصانیف شاعر و مصنف ہیں۔ ان کی تصانیف میں نثری مجموعہ ’یادوں کی بارات‘،’مقالاتِ جوش‘، ’دیوان جوش‘اور شعری مجموعوں میں جوش کے مرثیے’طلوع فکر‘،’جوش کے سو شعر‘،’نقش و نگار‘ اور’شعلہ و شبنم‘ کولازوال شہرت ملی۔

اب اے  خدا عنایت بے جا سے  فائدہ

مانوس ہو چکے ہیں غم جاوداں سے ہم

کراچی میں 1972ء میں شائع ہونے والی جوش ملیح آبادی کی خود نوشت یادوں کی برات ایک ایسی کتاب ہے جس کی اشاعت کے بعد ہندو پاک کے ادبی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست واویلا مچا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ جوش کو ان کی خود نوشت کی وجہ سے بھی بہت شہرت حاصل ہوئی کیونکہ اس میں بہت سی متنازع باتیں کہی گئی ہیں۔

اس دل میں ترے حسن کی وہ جلوہ گری ہے
جو دیکھے وہ کہتا ہے کہ شیشے میں پری ہے

جوش نے عمر بھر صاف گوئی، صداقت اور جرأت کا علم بلند رکھا۔ 22 فروری 1982 کو 84 سال کی عمر میں جوش دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔ جوش نے شاعری کا جو خزانہ چھوڑا وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay