پاکستان کی باہمت اور کامیاب خواتین

پاکستانی خواتین کسی بھی میدان میں کسی سے بھی پیچھے نہیں بلند حوصلہ باہمت محنتی ہونے کا اعزاز پاکستانی خواتین کو حاصل ہے گھر کی چار دیواری میں رہ کے گھر میں حکومت کرنا ہو یا کے ٹو کا پہاڑ سر کرنا ہو ہرفیلڈ میں خواتین نے اپنی مہارتوں کا لوہا منوایا اور یہ ثابت بھی کیا کہ وہ مردوں سے ہر گز کم نہیں ہیں ۔
آج خواتین کے عالمی دن پر ہم ایسی ہی خواتین کو کراج تحسین پیش کریں گے جنھوں نے نا صرف پاکستان میں ساری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے ۔

بلقیس ایدھی
بابائے انسانیت اور ایدھی فاونڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی کا شمار ان خواتین میں ہو تا ہے ج ا نھوں نے اپنی زندگی پاکستان میں دکھی انسانیت کی خد مت کے لیے وقف کر دی اور لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہتری لانے میں مصروف عمل ہیں۔
بلقیس ایدھی نے اپنی پوری زندگی پاکستان کے نہایت پسماندہ، دکھی اور بے سہارا لوگوں کی خدمت میں صرف کر دی ہے۔ ان کی خدمات کے نتیجے میں حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا ۔

bilquees

 

ملیحہ لودھی
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جنھوں نے سفارتکاری کا شعبے میں وہ مقام حا صل کیا جو بہت کم خواتین کو نصیب ہوتا ہے ان کی بہترین کار کر دگی کی وجہ سے انھیں دنیا کی 5 کامیاب خواتین سفارت کاروں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے جو پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے سفارتکاروں کے عالمی دن کے موقع پر روس کی سرکاری ویب سائٹ نے 5 کامیاب خواتین سفارت کاروں کی فہرست جاری کی جس میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی بھی شامل ہیں ۔

 

maleeha

ثمنیہ بیگ

باہمت ، مضبوط اور خطروں کا سامنا کرنے والی ثمینہ بیگ پاکستان کی وہ نوجوان پہلی خاتون جس نے دنیا کی کٹھن ترین پہاڑ کے ٹو کو سر کیا ۔
اس کے علاوہ ثمینہ بیگ وہ خاتون ہیں جنھوں نے دنیا کے سات بر اعظموں کی سات بلند ترین چوٹیوں کو بھی سر کر کے پاکستان بلکہ دنیا بھر میں عزم و ہمت کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔

samina

شرمین عبید چنائے
شرمین عبید ایک فلم ساز ہیں۔ وہ معاشرتی مسائل پر کئی فلمیں بنا چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی دستاویزی فلموں کے ذریعے پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے اور عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل ایسے موضوعات پر بنائی گئی دو دستاویزی فلموں پر آسکر ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ ان کی کاوشوں کی بدولت آج پاکستانی معاشرے میں ان مسائل کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور ملک میں ان کے حل کے لیے بحث اور قانون سازی کے عمل کا آغاز ہوا ہے۔

shrmeen
ملالہ یوسف زئی
تعلیم کے حصول کی علمبردار ملالہ یوسف زئی اپنی جرات اور بہادری کے باعث طالبان کے ظلم اور بربریت کا براہ راست شکار بنی تھیں۔ دہشت گردانہ حملے میں بال بال بچنے کے بعد ملالہ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے انتہائی سر گرم ہیں۔ ملالہ فاؤنڈیشن پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہے۔

malala

منیبہ مزاری
مصورہ، مقررہ اور گلوکارہ وہیل چیئر تک محدود نوجوان خاتون منیبہ مزاری بچوں اور معذور افراد کے حقوق سے متعلق سماجی منصوبوں پر کام کرتی ہیں۔
معزوری کے باوجود انہوں نے کامیابیوں کو اپنا مقدر بنایا ہے۔

muniba

جہاں آرا

یہ خواتین اور ان کے جیسی بے شمار عورتیں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے کر ملک و قوم کا نام روشن کر رہی ہیں  جیسے جہاں آرا پاکستان سافٹ وئیر ہاؤسز ایسوسی ایشن فار انفارمیشن ٹیکنالوجی( پاشا) کی صدر کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کی سافٹ وئیر انڈسٹری کو بین الاقوامی رسائی دلوانے میں یہ اہم کردار ادا کر چکی ہیں۔

Jehan-Ara

نفیس صادق

نفیس صادق دنیا کی پہلی خاتون جو اقوام متحدہ میں اتنے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئیں سن 1987 میں ڈاکٹر صادق اقوام متحدہ میں انڈر سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئی تھیں۔ انہوں نے ہمیشہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی شمولیت پر زور ڈالا ہے۔

Nafis-sadik

نرگس ماول والا

کراچی میں پیدا ہونے والی آسٹروفزسٹ اور میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے شعبہ طبیعیات کی ایسوسی ایٹ ڈپارٹمنٹ ہیڈ نرگس ماول والا بھی سائنسدانوں کے اُس گروپ میں شامل ہیں، جنھوں نے خلاء میں کشش ثقل کی لہروں کی موجودگی کا اعلان کیا۔

Nargis-Mavaalvala

ثمر خان

خیبرپختونخوا کے علاقے دیر سے تعلق رکھنے  والی خاتون سائیکلسٹ ثمر خان پہلی پاکستانی خاتون جنھوں نےتنزانیہ میں5895میٹرکی بلندی پرکلمانجروکی چوٹی پرسائیکلنگ کی۔

samar

 

یہ اور ان جیسی کئی خواتین اپنے اپنے شعبوں میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور یہ ثابت کر رہی ہیں کہ پاکستان کی خواتین کسی بھی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں اگر مواقع میسر ہوں تو وہ کامیابیوں اور نئی جہتوں کی اعلیٰ مثال قائم کر کے ملک کا نا م روشن کر سکتی ہیں ۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay