معروف شاعر منیرنیازی کی91 ویں سالگرہ

https://youtu.be/kRvuQudjSFA

منفرد انداز بیان ، جداگانہ اسلوب ،ترقی پسند اور احتجاج کے شاعر منیرؔ نیازی کی 91ویں سالگر ہ آج منائی جا رہی ہے۔

منیرنیاز ی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے لیکن احتجاج انکی شاعری کا خاصہ تھا۔ اپنے ہم عصروں منیرؔ ایک منفرد اندازِ بیاں اور جداگانہ صدا رکھتے تھے جوسینکڑوں صداؤں کے ہجوم میں بھی باآسانی پہچانی جاسکتی تھی ۔ اسکی اہم وجہ شاعری میں منیرؔ کے الفاظ کا چناؤ بھی یے۔

معنی  نہیں  منیرؔ  کسی  کام   میں   یہاں

اطاعت کریں توکیا ہے، بغاوت کریں توکیا

منیر نیازی 19 اپریل 1926 ءکو ہندوستان کے ضلع ہوشیار پور پنجاب میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی اور بھارتی بحریہ میں بھرتی ہوگئے لیکن جلد ہی انہوں نے بحریہ کی ملازمت چھوڑ دی۔

 تقسیم ہند  کے بعد وہ پاکستان آگئے جہاں وہ کئی اخبارات و ریڈیو اور بعد میں ٹیلیویژن سے وابستہ رہے۔ انہوں نے  جدو جہد بھری زندگی گزاری۔

منیر نیازی بیک وقت شاعر، ادیب اور صحافی تھے۔ وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے تھے۔ اردو میں انکے نصف درجن اور پنجابی مین تین شعری مجموعے شائع ہوئے۔

کج اونج وی راھواں اوکھیاں سن

کج گَل وچ غم دا طوق  وی  سی

 

کج شہر دے لوک وی ظالم سن

کج سانوں  مَرن دا شوق وی سی

اردو میں ’’ تیز ہوااور تنہا پھول‘‘ ،’’ جنگل میں دھنک ‘‘ ، ’’ دشمنوں کے درمیان شام ‘‘ ، ’’ سفید دن کی ہوا‘‘ ، ’’ سیاہ شب کا سمندر‘‘ ،’’ ماہ منیر‘‘ ،’’  چھ رنگین دروازے ‘‘ ، ’’ آغاز زمستاں ‘‘  اور’’ ساعت سیار ‘‘شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ’’ کلیات منیر ‘‘ کی بھی اشاعت ہوئی جس میں ان کا مکمل کلام شامل ہے۔

منیر نیازی سرتاپا شاعر تھے۔ وہ صاحبِ اسلوب تھے۔ دراصل انکی شاعری اور شخصیت میں کوئی فرق نہ تھا کیونکہ ان کی شاعری جمالیاتی اظہار سے عبارت تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ قدرت نے انہیں صرف شاعری کے لئے پیدا کیا تھا۔ اسی لئے وہ بے تکان لکھتے رہے اور آخر وقت تک انہوں نے شاعری کی۔

ان کا سیاسی اور سماجی شعور انہیں احتجاجی شاعری کرنے کے لئے اکساتا تھا کیونکہ منیر نے خود کو کبھی بھی حکومتِ وقت کے ساتھ وابستہ نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ حزب مخالف کا رول اد اکرتے رہے۔ اِسی لئے غزل میں بھی ان کا لب و لہجہ بلند آہنگ ہو جاتا ہے ۔

اس شہر سنگ دل  کو  جلا  دینا   چاہئے

پھر اس کی خاک کو بھی اڑا  دینا چاہئے

ملتی  نہیں   پناہ   ہمیں  جس   زمین   پر

اک حشر اس  زمیں  پہ  اٹھا  دینا  چاہئے

منیرؔ کے لب ولہجے میں کڑواہٹ ضرور ہے لیکن وہ سب کچھ شعری پیرائے میں بیان کردیتے ہیں اور کچھ بھی نہیں چھپاتے۔ شاید انہیں چھپانا آتا بھی نہیں۔

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو

کسی سے دور رہنا ہو کسی کے پاس جانا ہو

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو

حقیقت اور تھی کچھ، اس کو جا کر یہ بتانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

اگرچہ انہیں فلمی شاعر کہا جاتا تو وہ برا مان جاتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلموں میں جتنی پائے کی غزلیں ملتی ہیں ان میں بیشتر منیرؔ ہی کی ہیں مثلاً

اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو

 

اردو شاعری میں احتجاج کی آواز جب بھی بلند کی جائے گی  منیر نیازی کا نام ضرور یاد آئے گا۔ان کی اپنی زندگی یا پھر عمومی طور پر زندگی کی بہترین اوربھرپور عکاسی اس شعر سے کی جاسکتی ہے۔

 

اک اور  دریا کا سامنا  تھا  منیر مجھ    کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

 

منیر نیازی کو 1992 میں پرائڈ آف پرماننس جبکہ 2002 میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ شاعری کا یہ ایک اہم باب 2006ء میں بند ہوگیا ۔منیرؔ نیازی 26 دسمبر 2006 کو خالق حقیقی سے جاملے۔

 

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay