نادیہ مرزا کا کراچی کی سیاسی صورتحال پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر نادیہ مرزا نے کراچی کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں آنے والے نامور سیاست دانوں ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی ، پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ اور جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن سے خصوصی گفتگو کی۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

ایم کیو ایم پی آئی بی گروپ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار ہیں ۔ جس کو ایم کیو ایم کا وہ وقت یاد ہو کہ سوئی گرنے کی آواز بھی ایم کیو ایم کے مرکز سے باہرنہیں آتی تھی ۔ لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ عدالتوں میں فیصلےہوںگے ۔ اس دفعہ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کو اس لیے غصہ آیا ہوا تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار اس دفعہ کسی کو ایڈریس کرکے کہہ رہے تھے کہ وہاں سے پریشلائز کیا جاتا ہے ہمارے لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ پی ایس پی جوائن کرو ۔ پھر انہوں نے کہا کہ کہیں سے فون کرا دیے جاتے ہیں۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ اضافی نوٹ انھوں نے یہ لکھا کہ میں مرجاؤں گا لیکن میں پی ایس پی میں نہیں جاؤں گا ۔

یہ ان لوگوں کو جواب تھا جو کسی کے دباؤ میں آتے ہیں۔ لیکن غصہ مصطفی کمال صاحب کو آیا کہ وہ بھول گئے کہ ماضی میں وہ فاروق ستار کو کیا کیا کہتے رہے ہیں اور ایک دفعہ پھر وہ آئے اور انھوں نے کہا کہ اب اگر کسی کے لیے دروازے بند ہیں تو فاروق ستار صاحب کے لیے دروازے بند ہیں۔ لیکن یہاں پر سوال یہ ہے کہ ایک بات پر جس پر فاروق ستار نے ان کا نام بھی نہیں لیا ۔ ان کو ڈائریکٹلی کچھ کہا بھی نہیں کسی اور کی بات کر رہے تھے کہ کوئی اور ان کو دباؤ میں لیتا ہے تو مصطفی کمال کو غصہ کیوں آیا ۔

مصطفی کمال صاحب پہلے فاروق ستار کو کیا کہتے رہے ہیں، کس کس نام سے یاد کرتے رہے ہیں اور دو دن پہلے انھوں نے کس نام سے یاد کیا وہ ہم ٹیلی وژن پر چلا بھی نہیں سکتے جس طرح کی زبان انھوں نے استعمال کی۔ مگر پہلے کیا کہتے رہے ہیں ۔ یہی ڈاکٹر فاروق ستار صاحب تھے جو فاروق بھائی تھے اور بڑے معصوم تھے۔

مصطفی کمال کا بیان: فاروق بھائی ابھی تک ہمارے محترم ہیں ، ہمارے بڑے ہیں ، معصوم ہیں ، مظلوم ہیں۔

یہ جماعتوں کی آپس کی لڑائی ہے ۔ ایم کیو ایم بہادر آباد ہوگیا ، پی آئی بی ہوگیا ، پی ایس پی ہوگئی اس کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو لو اور اپنی جماعت میں شامل کرلو اور پھر بتاو کہ ہم پاکستان کی ایک بہت بڑی جماعت ہیں ، ہم مہاجر کارڈ نہیں کھیلیں گے ، ہم اردو بولنے والو کا نام استعمال نہیں کریں گے ، ہمارے پاس منجن یہ ہے بیچنے کو کہ ہم نے ایم کیو ایم کے لوگوں کو توڑنا ہے اور اپنی جماعت میں شامل کرنا ہے ۔ اور دوسری جماعت سے لوگ ان کے پاس کیوں نہیں آرہے؟ کراچی نے کیا قصور کیا ہے کہ پہلے اسی ایم کیو ایم کے ہاتھوں کراچی مظلوم بنارہا ۔ جو کچھ کراچی کے ساتھ ہوتا رہا اس سے ہم اور آپ بہت ہی اچھی طریقے سے واقف ہیں ۔ دوسری جماعتیں جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے اگرکراچی میں حکمرانی ہوگی تو پی ٹی آئی کی ہوگی ۔

سوال: مجھے یہ بتائیں کہ کراچی کے مسائل پر کسی کی توجہ ہے ، کراچی کے ایشوز کو کوئی ایڈریس کر رہا ہے اور کسی کے پاس اس کا کوئی حل ہے یا کراچی کے مسائل کو لاوارث چھوڑا ہواہے؟

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن : ہوتا یہ ہے کہ جس پارٹی کو مینڈیٹ ملا ہوا ہے پرائم رسپانسبلیٹی اسکی ہوتی ہے کہ وہ ایشوز کو آئیڈینٹفائی بھی کرے اور اس کو ایڈریس بھی کرے اور اس کے لیے جدوجہد بھی کرے جن بنیادوں کے اوپر لوگوں نے انکو ووٹ دیے ہیں تو وہ انکے مسئلے حل کرائے۔ بہت بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ کراچی کی مینڈیٹ تو سترہ قومی اسمبلی کی سیٹیں اور ایک بہت بڑی تعداد میں صوبائی اسمبلی کی سیٹیں تھیں اور یہ سلسلہ تقریباانیس سو ستاسی سے جب سے انہوں نے بلدیاتی انتخابات جیتے تھے تب سے چلا آرہا تھا ۔ 2002 میں ایم کیو ایم صرف جماعت اسلامی اور ایم ایم اے سے ہاری تھی ۔ پندرہ سال یہ بات ہوتی تھی کہ ایم کیوایم کا جو میڈینٹ ہے وہ ٹھپہ مینڈیٹ ہے ۔ اس میں پر بے شمار ٹٓاک شو ہوئے ۔

سوال: ہم نے وہ الیکشن بھی دیکھے جو فوج اور رینجرز کی زیر نگرانی میں ہوئے اور ووٹ کی تعداد ضرور کم ہوئی لیکن ووٹ ان کو پڑے؟

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن : ووٹ ان کو پڑے لیکن جب بھی پورے شہر میں الیکشن ہوئے تو ایم کیوایم مہاجر کمیونٹی میں بھی ہاری ہے ۔ الطاف حسین کی موجودگی میں بھی اور اس وقت بھی جب چھ، سات جماعتیں اکٹھی تھیں تب بھی ۔ صورتحال یہ ہے کہ اب جتنی بھی ایم کیو ایم کی پارٹیز ہیں وہ پرسنل ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ آپ مجھے بتائیں کہ پانی کا مسئلہ جو صرف دو بینر لگانے سے ساڑھے چارسال میں حل نہیں ہوتا ۔ اس کے لیے آپ کو جدوجہد کرنی چاہیے تھی ۔ جماعت اسلامی کے پاس کوئی ایم این اے ، اور ایم پی اے نہیں ہے ۔ جماعت اسلامی کے پاس کوئی سینیٹر نہیں ہے ۔

سوال : جماعت اسلامی کے پاس کراچی کا ووٹ ہی نہیں ہے ۔ یہ المیہ ہے

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن : جدوجہد ہم کر رہے ہیں۔ نادرا کا مسئلہ ہم نے حل کرایا ۔ کے الیکٹرک کے حوالے سے ہم جدوجہد کر رہے ہیں تو آپ کے خیال میں کیا ووٹر ہمیشہ پاگل بنا رہے گا؟ اور اب جب اس کو تھوڑا سکون ملے گا اور جب وہ چاروں طرف دیکھے گا توا س کو پتا چلے گا کہ کون اس کا مسئلہ حل کر رہا ہے۔

سوال: کتنا نقصان آپ لوگ کر رہے ہیں آپسی جنگ سے ؟ اور کراچی کا کتنا بڑا نقصان ہو رہا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ پوچھنا ہے کہ فاروق ستار صاحب اچانک معصوم سے ویلن کیسے بنے ؟ فاروق ستار صاحب نے ایسا کیا کیا ہے؟

ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی : اس وقت بہت انفورچونیٹ سچویشن ہے کہ متحدہ کا فال آؤٹ ہوا وا ہے ۔ پچھلے دو ، ڈھائی مہینے سے لگے ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں کچھ تصحیح کرنا چاہوں گا کچھ چیزوں کی کہ نادارا کا ایشو پانی کا سیوریج کا یہ ہم آج سے نہیں جب سے ایم این اے بنا ہو تب سے اپنے علاقوں کا معاملہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح جو ہمارا لوکل گورنمنٹ سسٹم ہے اس میں جو ہمارا چئیرمین ، وائس چئیرمین ، مئیر جو موجود ہے وہ بھی اپنے اختیارات کے مطابق اس کے تحت وہ موجود ہیں۔ نیشنل اسمبلی میں ہم نے کالنگ اٹینشن نوٹس پیمرا کو ، سوئی سدرن گیس کو اور کے الیکٹرک کو مدعو کرتے ہوئے اس میں منسٹر ہیں ان سے ہم نے سوال پوچھا اور جوابات مانگے ۔

سوال: جتنا آپ لوگوں نے خود کو ایکسپوز کیا ہے اب کوئی آپ لوگوں کو سیرئس لینے پر تیار ہی نہیں ہے ۔

ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی : بالکل سیرئس لیا جارہا ہے ۔ اگر آپ اب بھی دیکھیں تو علاقوں میں ایم کیو ایم کے ہی چئیرمین اور وائس چئیرمین اور کونسلر موجود ہیں ۔ اگر یہ جماعت اسلامی سے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے آخر کے دنوں میں الیکشن کے قریب کے دنوں میں آکر یہ اس طرح کے پروٹسٹ کر کے کوئی ہمدردی لے لیں گے تو وہ ان کی منافقت بہت عرصے سے نظر آرہی ہے ۔

سوال : آپ کو لگ رہا ہے کہ اگر وہ کراچی کے لوگوں کے لیے آگے بڑھ کر بات کر رہےہیں تو یہ ان کی منافقت ہے؟

ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی : بے شک ، کیوں کہ اگر انھوں نے کرنا ہوتا تو پچھلے پانچ سال سے کر رہے ہوتے ۔ میں اپنی کلئیریٹی دے رہا ہوں کہ جو پبلک ایشوز ہیں ہم اس کو ابھی بھی ایڈریس کر رہے ہیں ۔ ہم اس کا اتنا زیادہ شور شرابہ نہیں کرتے جو میڈیا پر اور ٹی وی پر کور ہو رہا ہو ۔

سوال: مجھے آپ یہ بتائیں کہ ایسے میں جہاں پر ورڈ وار چل رہی ہے ان لوگوں کی آپس میں ۔ ایسے میں آپ کو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی بینفشری ہے ؟

پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ : پہلے بھی ہمیں کراچی میں ساڑھے آٹھ لاکھ ووٹ ملا تھا اور ہم اس وقت بھی میدان میں ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ہمارے ممبرز بن رہے ہیں ۔

سوال: 2013 کے بعد کراچی میں آپ کو کوئی اور جیت نصیب ہوئی تھی؟

پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ : انشاء اللہ آپ 2018 میں دیکھیے گا۔ کیوں کہ اتنی ٹوٹ پھوٹ ہوچکی ہے ۔ اب نہ ان کے پاس ٹھپے کی طاقت رہ گئی اور یہ پارٹی تین پارٹیوں میں تبدیل ہوچکی ہے۔

سوال: ایم کیو ایم جو اس وقت دھڑے بندی کا شکار ہے ۔ مصطفی کمال صاحب کو اچانک فاروق ستار صاحب معصوم سے ویلن کیوں لگنے لگے ہیں اور ایسا کیا ہوا کہ فاروق ستار صاحب کہتے رہے کہ مجھے پریشلائز کیا جاتا ہے کہ آپ پی ایس پی جوائن کریں۔ میں نے نہیں کرنا تو مصطفی کمال صاحب نے ان پر دروازے کیوں بند کردیے۔

ایم کیو ایم کے رہنما ساجد احمد: ایم کیو ایم پر ہمیشہ کرائسز مسلط کیے گئے ہیں ۔ جب جب کراچی کے اندر آپریشن ہوا اس میں زیادتی بھی ہوئی ایم کیو ایم کے ساتھ اس میں یہی جماعت اسلامی ہوا کرتی تھی جو شادیانے بجایا کرتی تھی ۔ میرا سوال یہ ہے نعیم الرحمٰن صاحب سے کہ آپ نے پاکستان کو کیا دیا ۔ طالبان کے علاوہ ۔ پاکستان میں ساٹھ ، ستر ہزار لوگ شہید ہوئے۔ آپ نے جو ساتھ دیا وہ طالبان کا ساتھ دیا ۔ ہمیں مختلف چینلجز کا سامنا ہے مثال کے طور پر آپ نے ایک بات ابھی کہی کہ مصطفی کمال صاحب نے دروازے بند کردیے ۔ اچھا ہوا کہ دروازے بند کردیے بلکہ میں درخواست کروں گا ایم این اے اور ایم پی ایز اور ان ورکرز پر جن پر پریشر ڈالا جا رہا ہے ہم سب کے دروازے بھی بند کردیں۔

سوال: فاروق ستار صاحب نے یہ معصوم بھائی سے یہ ویلن تک کا سفر کیسے اور کیوں طے کیا؟

ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی : پہلے تو میں یہ کلئیر کردوں کہ جماعت اسلامی یا پی ٹی آئی یا پیپلز پارٹی یا کوئی بھی جو نظر رکھا ہوا ہے کہ اگر ایم کیو ایم مصیبت میں ہے تو اس کی جگہ پر آجائے گی۔ اور ظاہر ہے کہ دوسری پارٹیوں کا حق بھی ہوتا ہے لیکن یہ پھر بھی نہیں کرسکیں گے ۔ جتنی گروپنگ بھی ہوجائے۔ دوسری طرف مصطفی کمال جو کہہ رہے ہیں کہ فاروق ستار آجائیں ہمارے پاس۔ یہی منجن یہ بہت عرصے سے ہمارے اور ساتھیوں کو اور کارکنان کو اور جو بہت سارے جیسے لیکر جائے گئے ہیں وہاں پر ۔ یہ انکو بھی یہی کہتے تھے کہ تم بھی آجاؤ فاروق ستار بھی آجائیں گے ۔ پی ایس پی والے ہر جگہ پر یہی کہتے تھے کہ فاروق ستار بھائی بھی تھوڑے دنوں میں ہمارے پاس آجائیں گے اور جن کو دھونس دھمکی سے لا سکتے تھے ان کو لے آئے ۔ جن کو سمجھانا چاہتے تھے ان کو لے آتے تھے۔

سوال : آپ کے لوگ پی ایس پی کی دھونس دھمکیوں میں کیوں آتے تھے؟

ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی : دھونس دھمکیوں میں کیوں آتے تھے تو وہ تو سب کو پتا ہی ہے ۔ اور اپنی جان عزیز بھی ہے ،اپنے بچے اور اپنی فیملیز اور جس طرح کی دھمکیاں آتی ہیں تو ہمارے لوگوں نے پریس کانفرنس میں دلیری کے ساتھ اس کو ایکسپوز کیا ۔

سوال: یہ جو دھونس دھمکیوں کی باتیں کہ دھمکیاں دیکر ادھر بلا لیتے تھے ۔ ان کو زندگی عزیز ہے ان کے بچوں کی زندگی عزیز ہے یہ سنی سنائی باتیں لگ رہی ہیں آپ کوکراچی کی سیاست کی؟

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن : ہمارے بھی بیوی بچوں کا مسئلہ ہوتا تھا ۔ ہمارے لیے بھی یہی ہوتا تھا کہ کب لندن سے حکم آئے گا اور یہ لوگ فولوکریں گے اور قتل کردیے جائیں گے اور بے شمار ہمارے کارکنوں کو مار دیا اور سیاسی ورکرز اور علماء کو مار دیا یہ سب باتیں چھوڑیں۔ جس کے پاس سچ ہوتا ہے وہ بیان کرتا ہے۔ ان کی فائلیں بنی ہوئی ہیں ان کے مقدمے بنے ہوئے ہیں ان کی جے آئی ٹی بنی ہوئی ہے ۔ تو اگر پاک صاف ہیں تو سامنے آکر ڈٹ کر مقابلہ کریں ؟ لیں نام کون ان کو فون کر رہا ہے ۔ فون اسی کو کیا جاتا ہے جس کے اندر کوئی پرابلم ہوتی ہے ۔

ہمیں کرے کوئی فون ہم سامنے آکر بتائیں گے ۔ دوسری بات کہ انھیں جماعت اسلامی سے پریشانی کیا شروع ہوگئی ہے ۔ یہ کہہ رہے ہیں کہ ابھی ۔ بھائی ہم پچھلے سال بھی سڑکوں پر تھے ۔ آپ ہیں جنھوں نے واٹر بورڈ میں بھرتیاں تو کردیں کام نہیں کیا ۔ اور اب پوری پییپلز پارٹی نے قبضے میں لے لیا۔ آپ پیپلز پارٹی کے خلاف بات کرتے تھے ۔ اور پھر آپ نے پیپلز پارٹی کے وڈیروں کو کراچی کا مینڈیٹ کروڑوں میں بیچ دیا۔ آپ کے پچاس ایم پی ایز ہیں ۔ آپ کے پاس پچیس ایم این اے ہیں ۔ آپ کے پاس آٹھ سینیٹر ہیں ۔ آپ کے پاس گورنر تھا ۔ آپ کا مشرف تھا ، آپ کا امریکا تھا ۔ سب چیزوں کی موجودگی میں آپ نے کراچی کو کیا دیا ۔ ؟

آپ نے کراچی کے شہریوں کو شناخت تک نہیں دی۔ بہاریوں کو شناخت نہیں دی ، ہم دے رہے ہیں، ہم ان کی شناخت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ان کے شناختی کارڈ کے لیے ، ہم کراچی کے لوگوں کو اون کر رہےہیں ۔ اسی لیے میں کہہ رہا تھا کہ لوگ پاگل نہیں ہیں اور تعاصب کی بنیاد پر اورپاگل نہیں بنیں گے۔ سچ اور جھوٹ کی بنیاد پر مقابلہ ہوگا اور انشاء اللہ جماعت اسلامی عوام میں موجود ہے اور عوام کے مسئلے حل کرے گی۔

سوال: آپ کراچی کے لوگوں کے لیے کچھ خاص کیا لا رہے ہیں؟

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن : کراچی میں کیا پورے ملک میں ایک عمل جو جاری ہے وہ کسی طرح بھی اچھا نہیں کہا جاسکتا ۔جیسا کہ سینیٹ کے الیکشن میں ہوا وہ خراب بات تھی ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ بدقسمتی سے دھاندلی میں جو پارٹیاں شریک رہی ہیں اور جن کے لوگوں نے ووٹ ڈالا ہے ۔ کروڑوں میں بکے ہیں ۔ ہمارا کوئی آدمی نہیں بکا ۔ تو ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ایسے لوگ سامنے آئیں قوم کے جو ان کے مینڈیٹ کی حفاظت کرے ۔اور کسی کے کہنے پر کراچی کا مینڈیٹ وڈیروں کو فروخت نہ کرے ۔

پی ایس پی بھی یہی کر رہی ہے کہ وہ تو ڈرائے کلین مشین ہے کہ وہاں جوبھی جائے گا دھل کر آجائے گا۔ اور سب لوگ اس عمل میں شریک ہیں اور یہ لوگ خود بھی پروٹکشن چاہتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو پی ایس پی میں جاتے ہی اس لیے ہیں کہ ان پر کیسز بنے ہوئے ہیں۔ اگر کیسز نہ بنے ہوئے ہوں تو کوئی اپنی مرضی کے خلاف کیسے جائے گا۔ اور میں یہی تو سوال کر رہا ہوں ۔ اب لوگوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جس کو ووٹ ڈال رہے ہیں ۔ اب کراچی کے لوگوں کا یہ کام ہے کہ اس کو ووٹ ڈالیں جو ان کے ووٹ کا تحفظ کر سکیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ : میں آپ کو پہلے یہ بتا دوں کہ ہم کوئی منجن نہیں بیچ رہے ، ہماریاں کوئی جوتی میں دال نہیں بٹ رہی جو ان کے ہاں بٹ رہی ہے پی آئی بی ، بہادر آباد نہ جانے کون کون ۔ ہم جو بیچنا چاہ رہے ہیں کہ اس کراچی کو قومی دھارے میں جانے دو ۔ اس کراچی کی اگر محرومیاں دور کرنی ہیں ۔ کراچی جو سب سے بڑا ٹیکس بئیر شہر ہے وہ اگر اس کو کوئی نیشنل پارٹی ڈیل کر رہی ہوگی تو بہتر رزلٹ آئیں گے ۔ یہ روتے بھی ہیں ۔ آج مئیر بھی ان کا ہے ۔ ایم پی ایز بھی ایم این بھی ان کے ہیں ۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو تو کوئی حق نہیں ہے کہ آج وہ بات کریں ۔ اگلے الیکشن میں کیا بیچیں گے وہ جا کر ان کا منجن فارغ ہوچکا ہے ۔ ہمارا پلان یہ ہے کہ بہت ہوگئی ۔ اس کراچی میں اب بوریاں نہیں ہونی چاہیں ۔

سوال: آپ کیا آفر کر رہے ہیں کراچی والوں کو کے وہ آپ کو ووٹ دیں؟

پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ : کراچی جب قومی دھارے میں جائے گا تو اس کراچی کے معاملات ٹھیک ہوں گے ۔ اس کراچی میں لوگ گٹر کا پانی پے رہے ہیں اور یہ لوگ ہی پلا رہے ہیں ۔ اس شہر میں گٹرستان بن گیا ہے ۔ عباسی شہید اسپتال میں ایک سیکیورٹی والا زخمی کو ڈرپ لگوا رہا تھا ۔ اس عباسی شہید جس میں بلا شرکت غیری کنٹرول رہا ہے اس جماعت کا ۔ انشاء کراچی میں خوشحالی لائیں گے ، کراچی میں صفائی کریں گے اور کراچی میں صاف پانی دیں گے ۔ کراچی کے اداروں کو ٹھیک کریں گے۔ کراچی کی پولیس ٹھیک کریں گے ۔ وہ آئیڈیل شہر جو اس کا حق بنتا ہے جو کراچی والے کا حق بنتا ہے تحریک انصاف وہ دے گی اور وہ وقت قریب آچکا ہے اور ہمیں فیڈبیک مل رہا ہے کراچی والوں کا کہ وہ ان سے تنگ آچکے ہیں ۔

میزبان: یہ سب اگر پروسس کے تھرو ہو تو بہت اچھی بات ہے ۔ لیکن جس طرح سے پی ایس پی کا رول ہے اور اگر یہ باتیں ہورہی ہیں کہ ان کا تو ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ انھوں نے تو ایم کیو ایم توڑنی ہے اور وہ بھی کسی کے کہنے پر توڑنی ہے ۔ جب انجینئر پولیٹکس ہوجائے گی کراچی میں اگر تو کراچی میں امن و چین کتنے عرصے کے لیے بحال ہوگا اور اگر بحال ہوا بھی تو کتنا دیرپا ہوگا۔

عوام کی رائے: کراچی میں مخلوط حکومت ہوگی ۔ کراچی میں چانس زیادہ ہے ایم کیو ایم کے ۔ پی ایس پی کے بھی چانسز ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے مشکل ہیں۔ سندھ میں زرداری کی حکومت ہوگی۔ پی ایس پی کا اتنا پاورفل وجود نہیں ہے چانس متحدہ کا ہی ہے ۔ کراچی میں جماعت اسلامی ہو۔ کراچی میں شاید ایم کیو ایم کی حکومت ہو۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کی حکومت آنی چاہیے ۔ کراچی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونی چاہیے ۔ کراچی میں جماعت اسلامی اور مصطفی کمال کی حکومت ہونی چاہیے ۔ کراچی میں ایم ایم اے کو کامیابی حاصل ہوگی۔ کراچی میں آصف زرداری آئے گا، کیوں کہ باقی کوئی کام ہی نہیں کر رہا ۔ ایم کیو ایم تین بن گئی اب چوتھا ٹکڑا بھی بننے والا ہے۔ کراچی کے اندر پی ایس پی آئی گی ، کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی آئے گی۔ کراچی میں ملی جلی حکومت ہوگی جس میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی سیٹیں ہوں گی ، کراچی میں جو ترقیاتی کام چل رہے ہیں وہ سب سے زیادہ نواز شریف کی حکومت میں ہی چل رہے ہیں۔

سوال: آپ اس پر اپنی رائے کیا دیں گے؟

ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی : مختلف آراء آئی ہیں لوگوں کی اور کراچی مکسچر ہے لوگوں کا جس میں پورے پاکستان سے لوگ آتے ہیں ۔ ان میں سب کی اپنی اپنی خواہشات ہوتی ہیں ۔ اس سے پہلے بھی الیکشن ہوئے ہیں اور باقی پارٹیاں ہارتی رہی ہیں ۔ ہم بی ٹیم نہیں ہیں ۔ ان کے گھروں سے القاعدہ کے اور طالبان کے لوگ بھی نکلے ہیں ، ان کے لوگ جو ہیں وہ ڈرون اٹیکس میں بھی مارے گئے ہیں ۔ انھوں نے آج تک طالبان کے خلاف کوئی بات نہیں کی ہے ۔ اور 2007 کے بعد سے جیسے یہ لوگ کہتے ہیں سارا نظام خراب کردیا تو اس وقت تک تو سب کچھ صحیح تھا۔ 2008 کے بعد سے جب جمہوری دور آیا اس کے بعد پیپلزپارٹی کی گورنمنٹ آئی تو ٹھیک ہے ہم ان کے ساتھ کولیشن میں تھے۔ لیکن ان کے پارٹنر ہوتے تھے ۔ ان کی کرپشن میں ان کے ساتھ نہیں ہوتے تھے۔

ہمارے ایشوز اپنے رہتے تھےجس کی وجہ سے ہم آنا جانا لگا کر رکھتے تھے جس سے ہمیں نقصان بھی ہوا۔ 2013 میں ہماری ریکوری ہوگئی اور 2015 میں جو یہ ببل بنی تھی کہ پی ٹی آئی آگئی ہے کراچی میں اور یہ لے گئی اور وہ لے گئی تو انھوں نے تو اپنے پیر پر خود کلہاڑی ماری ۔ کراچی میں متحدہ قومی مومنٹ موجود ہے لوگوں کے دلوں میں ہے اور رہے گی ، یہ جو فال آؤٹ ہوا ہے اس کی وجہ سے متحدہ کا جو ووٹر گھر بیٹھ گیا تھا آپریشن کی وجہ سے وہ اب جاگا ہے۔ اس کو نظر آیا ہے کہ اس کی پارٹی کے ساتھ تواتر سے تسلسل سے کیا ہورہا ہے ۔

حلیم عادل بھائی بتا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کوئی نیشنل لیول کی جماعت ہے تو ایسا نہیں ہے ان کا جو بیس ہے وہ خیبر پختون خواہ میں ہی ہے اور پی ایم ایل این کا جو بیس ہے وہ پنجاب میں ہی ہے ۔ اور پیپلزپارٹی کا اگر بیس ہے تو اب اندرون سندھ میں ہے۔ پی ایس پی کا میں آپ کو بتا دوں کہ مصطفی کمال کا جب بھانڈا پھوڑا گیا تو وہ ان کو برا لگا اور جب ان کوبرا لگا تو انھوں نے اسطرح کی باتیں کیں اور آپ نے دیکھا کہ جس طرح کی انھوں نے زبان استعمال کی جس کے ہم مشکور ہیں ۔

سوال: کیا آپ اس بات سے ایگری کرتے ہیں کہ کراچی میں اس وقت انجینئر پولیٹکس ہورہی ہے ؟

حدہ ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی : بہت سے جعلی کیسز بنائے جاتے ہیں اور یہ اسی کی دہائی سے ہوتا ہوا آرہا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے خلاف کبھی بھی ایسے کیسز نہیں بنتے اور پی ٹی آئی کے خلاف بھی نہیں بنتے ہیں۔

میزبان : وقت آنے دیں کراچی کا ووٹرز خود بتائے گا کہ وہ کس کے ساتھ ہے ۔ کسی جماعت کا حال اور ماضی ووٹرز سے چھپا ہوا نہیں ہے ۔ کراچی کے ووٹر کی حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ کراچی کی سیاست پر بات ہی نہ کی جائے ۔

https://www.youtube.com/watch?v=cdSVDNjzI3c

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay