نادیہ مرزا کا جسٹس (ر) افتخار چوہدری کے ساتھ خصوصی انٹرویو

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر جسٹس (ر) افتخار کے ساتھ خصوصی انٹرویو کیا ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

آج پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ پاکستان کی  تاریخ میں پہلی مرتبہ لیڈر آف دی ہاؤس اور لیڈر آف دی اپوزیشن نے باقاعدہ طور پر کنسینسز ڈیویلپ ہوا ۔ ایک نئے کئیرٹیکر پرائم منسٹر کے نام کے لیے ۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ہمارا نظام مضبوط ہورہا ہے ۔  آج کا جو اہم ترین قدم ہے کنسینسز کے ساتھ نگراں وزیر اعظم کے نام پر اتفاق رائے ہونا یہ ایک اور قدم ہے اس طرف کے آنے والے دنوں میں ہمارے ملک میں جمہوری سسٹم اسٹرونگ ہوتا چلا جائے گا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن ہوں گے تو کتنے شفاف ہوں گے اور کیا ہم ایسی تبدیلیاں لاچکے ہیں کہ جو بھی الیکشن ہوں اس کے جو بھی رزلٹ ہوں وہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول ہوں۔ کیوں کہ الیکشن 2008 کے ہوں ، الیکشن 2013 کے ہوں ان کو لیکر کہا جاتا ہے کہ وہ فکس تھے اور ان میں ریگینگ ہوئی ۔

سوال: ایک بہت خوش آئین اور اہم پیشرفت دیکھیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ اپوزیشن لیڈر اور لیڈر آف دی ہاؤس کہ کنسینسز سے نگراں وزیر اعظم کا نام آیا ۔ آپ کو لگتا ہے پاکستان میں جمہوری نظام مضبوط ہورہا ہے؟

جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری: آج میں قوم کو یوم تکبیر کی مبارک باد دیتا ہوں ۔ اور یوم تکبیر وہ دن ہے جس دن ہم نے ایٹمی دھماکے کیے تھے 28 مئی 1998 کو چاغی میں ۔ اللہ کا شکر ہے جو اس کے خالق ہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اللہ تعالی ان کو حیات اور صحت دے آج وہ بھی زندہ ہیں ۔ ان کو بھی بہت کریڈیٹ جاتا ہے بلکہ وہ اسی وجہ سے محسن پاکستان کہلاتے ہیں ، میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کے دفاع کو مزید مضبوط کرے۔

آج جو کچھ بھی پارلیمنٹ کے کنسینسز سے ہوا ہے یہ بہت خوش آئند بات ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے جو ادارے ہیں وہ مضبوط ہو رہے ہیں۔  اور پاکستان کے اداروں کے ساتھ مضبوطی کی وجہ ہے کہ ہم آئین پر عمل کر رہے ہیں ۔ ہم اپنے فیصلے خود کرسکتے ہیں ہمارے ادارے مضبوط ہورہے ہیں اس سے امیدہے کہ آئندہ الیکشن بھی وقت پر ہوں گے اور صحیح طریقے سے ہوں گے۔

سوال:  خورشید شاہ اور دیگر سیاست دانوں نے کوڈ کیا کہ میڈیا کہہ رہا تھاکہ سیاست دان ایک مرتبہ پھر فیل ہورہے ہیں ان میں کنسینسز نہیں ہورہا ۔ اس لحاظ سے بڑا خوش آئند ہے ۔ اس دفعہ جو الیکشن ہوں گے وہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول ہوں گے؟

جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری: چوہدری شجاعت ، اور عمران خان کے ورژن کو نہیں مانتا ہوں ۔ میں اس لیے اس کو نہیں مانتا ہوں کہ اگر چوہدری شجاعت کی بات کو مانا جائے ۔ کہ چوہدری شجاعت تو خود مشرف کے الائے تھے ۔ وہ تو ان کےساتھ گورنمنٹ میں رہے تو یہ بات مجھے سمجھ نہیں آتی کے امریکا کے کہنے پر مشرف ان کو الیکشن ہاروائے گا۔ اس وقت بھی جو پولیٹیکل پارٹی جیتی تھی پاکستان پیپلز پارٹی وہاں پر لوگوں نے ان کو ووٹ دیے تھے ۔ جس کو کہتے ہیں کہ پرچی بولتی ہے تو صحیح رزلٹ آتے ہیں۔ اسی طرح 2013 میں الزامات لگائے گئے تھے ۔ الزامات لگائے تھے عمران خان نے اس پر جو کئیرٹیکر پرائم منسٹر بنے ہیں ان کی سربراہی میں ایک کمیشن بناتھا۔  اور اس کمیشن میں دو معزز جج صاحبان سپریم کورٹ کے شامل تھے۔ انہوں نے کوششوں کے بعد ایک رزلٹ نکالا تھا  ۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس میں ریگینگ نہیں ہوئی ہے البتہ کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔ لیکن میں یہ کہتا ہے کہ جو انجینئر قسم کے الیکشن ہوتے ہیں اس کی وجہ سے لوگ تنگ آتے ہیں۔ اگر آپ اس میں صاف شفاف الیکشن کرانا چاہتے ہیں تو آپ صرف اور صرف  پرچی کو بولنے دیں اور اس میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے ۔ پرچی کی بنیاد پر جو آدمی الیکشن جیتے گا اس کو جیتنا چاہیے اور مجھے ابھی بھی امید ہے کیوں کہ یہ جو ایڈمنسٹریشن آئی ہے یہ بہت قابل لوگ ہیں ۔ اور ان لوگوں کو پتہ کیسے معاملات کو ڈیل کرنا پڑتا ہے اور ڈیل کرنا بھی چاہیے کیوں کہ اس ملک میں اگر آپ سروائول اور ترقی کی بات کرتے ہوں ۔ اس ملک میں مزید فائدوں کی بات کرتے ہو یہ صرف آئین اور آئین کے علاوہ کسی میں بھی نہیں ہے۔ اگرکوئی قوتیں یہ چاہیں کہ اس کو ہارا دیں اور اس کو جیتوادیں میرا خیال ہے کہ اگر اس قسم کی سوچ ہے تو اس سوچ کو ختم ہونا چاہیے اور لوگوں کو بھی اپنے طور پر بہترین لوگوں کا فیصلہ کرنا چاہیے کہ پرچی سے تبدیلیں لائیں کسی کہ کہنے پر تبدیلی نہیں لائیں گے۔

سوال: چوہدری شجاعت حسین نے جو بک لکھی اس میں انھوں نے کہا کہ مشرف صاحب ن پولنگ ختم ہونے سے پہلے مشرف صاحب نے ان کو فون کیا ان کو کہا کہ نتائج جو بھی آرہے ہیں اس کو تسلیم کرلینا اور شورشرابہ نہیں کرنا ۔ 2013 کے الیکشن کے بارے میں اعتزاز احسن کے کہا کہ یہ آراوز کے الیکشن تھے۔ آپ نے کوئی ایڈریس کیا تھا الیکشن سے قبل آراوز سے اس کو بھی بڑا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری: کمیشن کی رپورٹ ایک اہم رپورٹ ہے ۔ ناصرالملک صاحب اس وقت چیف جسٹس تھے ۔ یہ کوئی جج نہیں تھے دو سینیئرجج انھوں نے ساتھ بیٹھائے ہوئے تھے۔ صرف کورٹ کے آنے کے بعد ان لوگوں کے جو دعوے ہیں وہ تمام بے بنیاد ثابت ہوگئے ہیں اس میں میرا خیال ہے کوئی بات کرنے کا فائدہ نہیں ہے بلکہ یہ آپ کو فائدہ دیکھنا پڑے گا کہ رپورٹ کے مطابق جو انھوں نے فائنڈنگ دی تھی اس کے مطابق کوئی ترامیم ہوئیں ہیں ۔ قانون میں کہ نہیں ہوئی ہیں۔ الیکشن رپورٹ دی تھی جسٹس ناصرالملک نے اس سے پیشتر سپریم کورٹ کی جج منٹ بھی تھی وطن پارٹی کے کیس میں ۔ اس میں جو الیکشن ایکٹ آیا ہے اس میں ترامیم کی ہیں ۔ اور اگر کسی اور طرف سے کوئی انجینئر قسم کی الیکشن میں مداخلت نہیں ہوئی تو اس دفعہ صاف شفاف الیکشن ہوں گے اس کی ایک اور وجہ بھی ہے ۔ لوگوں میں بہت زیادہ ایورننس ہے ۔ اب آپ اس قسم کا کوئی کھیل کھیلیں گے تو یہ سمجھ لیں کہ لوگوں نے اس کو ایکسیپٹ نہیں کرنا ہے ۔ جو انھوں نے بات لکھی اور جو 2013 کا کہہ رہے تھے میرا خیال ہے کہ ان تمام کی تسلی اس وقت ہوگی جب آپ ووٹ کو بولنے کی اجازت دیں ۔

سوال: آپ سمجھتے ہیں کہ الیکشن 2008 کا ہو 2013 کا ہو الیکشن ٹرانسپیرنٹ ہوئے تھے صاف شفاف ہوئے تھے ؟

جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری: جہاں تک آپ دونوں حضرات کا نام لے رہی ہیں نہ میرا اور قیانی صاحب کا بلکل غلط ہے۔ یہ بلکل غلط ہے میں اس کی سختی سے تردیت کرتا ہوں اور اس کی تردیت کے لیے پھر میں اس کمیشن کی رپورٹ کروں گا اور اس وقت کے بعد پھر دیکھیں خان صاحب سے پھر کہیں کہ پھر بہت احتیاط سے بات کیا کریں۔ پھر جب یہاں پر دھرنا دیا تھا تو امپائر کی انگلی کیوں اٹھوا رہے تھے یہ دیکھیں ان سے کہہ دیں کہ  جب ایک بار آپ بات کردیتے ہو تو تیر آپ کی کمان سے نکلا ہوا ہوتا ہے ۔

ایسی بات کرنی نہیں چاہیے اورآپ اپنی فوج کی پرسنالیٹیز کا نام لیکر کے فلاں فلاں کے ساتھ ملا ہو اہے یہ غلط بات تھی ۔ سب سے زیادہ جو آپ کو موقع ملا آپ کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا ملا نہ وہاں آپ نے جنرل کیانی کا نام لیا ، نہ وہاں پر آپ نے جسٹس افتخار کا نام لیا۔ ساری دنیا کے ڈاکومنٹ آپ نے وہاں لاکر فائل کیے پتہ نہیں کوئی کہتا ہے ایک ٹرک ، کوئی کہتا ہے دو ٹرک۔ ہم نے لیٹر بھیجوایا تھا کہ اگر کمیشن چاہے کسی بھی قسم کی کلئیریفکیشن کرنے کے لیے تو میں موجود ہوں ۔ اور وکلا صاحبان نے یہ ڈاکومنٹ دیا تھا ان کو جا کر لیکن انھوں نے اس قسم کا ایک ردی بھر ایویڈنس نہیں دیا۔ ایک لفظ نہیں کہہ سکے تو الزامات لگانے سے گریز کرنا چاہیے ۔

سوال: جب کمیشن کی رپورٹ آئی تو  اس میں آپ سے بھی کوئی پوچھ گچھ کی تھی؟

جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری: نہیں ، اس کے لیے میں نے لیٹر لکھا تھا ، میں نے وکلا کو کہا تھا کہ میں پیش نہیں ہوسکتا آپ وہاں پر رہیں اور یہ لیٹر بھی دے دیے گا۔

سوال: الیکشن جو آرہے ہیں اس میں آپ پرچی کی بات کر رہے ہیں ، میاں نواز شریف صاحب آج ووٹ کی عزت کی بات کررہیں ۔، آپ کو کیا لگتا ہے دوبارہ ایک بوم آیا ہے 2013 کی طرح ، بڑے لوگ پی ٹی آئی کو جوائن کر رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی کا مستقبل کتنا روشن ہے؟ کیا وزیر اعظم عمران خان صاحب ہوسکتے ہیں؟

جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری: میں اس اسٹیج پر کسی کے متعلق کوئی پریڈیکشن نہیں کرسکتا ۔ اور نہ ہی یہ ہماری عادت ہے کہ کسی کے متعلق اچھی یا بری رائے قائم کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ جو ایک دوسری پارٹیوں سے جاتے ہیں اس میں آئین میں کوئی قدغن نہیں ہے ۔ لیکن انڈیا میں انھوں نے اینٹی ڈیفیکشن قانون بنایا ہوا ہے ۔ ہمارا ملک میں جو جمپنگ شپ کرتے ہیں یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں ان کو اپنے الیکٹولز ہوتے ہیں جن سے انھوں نے ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے ، ان کا ووٹر ہوتا ہے اس سے کوئی کنسینسز نہیں لیتے ۔ جب الیکشن قریب ہوئے تو کچھ لوگوں نے جمپنگ کرکے کوئی بوم آیا۔ بوم اس وقت آئے گا جب پرچی کو بولنے دیں گے، پھر پتہ چلے گا کہ باکس سے کیا نکلا تھا ۔ اس وقت پتہ چلے گا کہ وزیر اعظم کس نے بننا ہے اور ووٹ بتائے گا کہ وزیر اعظم کس کو بنانا ہے تھوڑا سا ان سب کو انتظار کرلینا چاہیے ۔

سوال: آپ اس وقت موسٹ پاپولر پارٹی کس کو کہیں گے؟

جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری: یہ مشکل ہے کہنا ، سروے وغیرہ میں بھی یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کسی کو آپ موسٹ پاپولر کہیں۔ جب ڈارک فورس کو نکلنا ہوتا ہے تو کسی کو نہیں پتہ ہوتا ۔

سوال: آپ ایک پارٹی کے سربراہ ہے پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے ، الیکشن سر پر ہیں کیا پلاننگ ہے، کینڈیڈیٹ کہاں کہاں سے کھڑے کر رہے ہیں؟

جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری: ایک تو اہم بات یہ ہے کہ یہ جو ہم نے پولیٹیکل پارٹی بنائی ہے یہ ایک نظریاتی پارٹی ہے ۔  ہم یہ جو پرانہ فرسودہ نظام ہے جس کو ابھی ہم کہتے ہیں پارلیمنٹری سسٹم ، ہمارا یہ کہناہے کہ یہ کوئی ڈیلور نہیں کرسکے ۔ تو اس ملک میں پریذینشن ڈیموکریٹک سسٹم کو لانا چاہیے جیسا دوسرے ملکوں میں ہے۔ اس کے تین پلر ہیں ، عدل ، احتساب اور مساوات ۔ کچھ لوگ ہم نے سیلیکٹ کرلیے ہیں باقی بھی کچھ دنوں میں ہوجائیں گی ، جتنے اچھے کینڈیڈیٹ ہمیں ملیں گے ہم ان کو فیڈ کریں گے۔

دوسری مرتبہ اسمبلی اپنے پانچ سال کا عرصہ پورا کرنے جارہی ہے ۔ آج پارلیمنٹ نے اپنی مرضی سے کنسینسز سے ناصرالملک کو کئیرٹیکر وزیر اعظم منتخب کیا ہے۔ میں ان کو مبارکباد دیتا ہوں کیوں کہ نہایت ہی ایماندار اور انڈیپینڈینٹ شخص ہیں اور ان کی موجودگی میں ہمیں امید ہے کہ ملک میں صاف شفاف الیکشن ہوں گے۔

سوال : پرویز مشرف کا کیس کیوں نہیں چل سکا؟

جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری: وہ تو اتنے بہادر تھے کہ عدالت میں آنے کے بجائے اے ایف یو میں ستر دن پڑے رہے تھے ۔ اس کے باوجود ان کو عدالت میں پیش کیا گیا ۔ ان کے پراسیکیوشن کے وکیل صاحب ہیں بقول ان کے کیس کنکلوڈ ہوا وا ہے۔ صرف ان کی ایک اسٹیٹمنٹ ہونا باقی ہے ۔ اس کے دوران انہوں نے بہانہ کیا بیماری کا  ۔

جسٹس جمالی صاحب نے جب ان کے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ اس پر آپ کی کیا رائے ہے تو اس پر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن یہ کہا کہ جو عدالت کی مرضی بھائی ای سی ایل میں نام آپ نے ڈالنا ہے عدالت کی کیا بات ہے اور اگر ای سی ایل سے نام ہٹائیں گے تو عدالت سے پوچھنا پڑے گاانھوں نے بھی آرڈر پاس کیا ہوتا ہے۔ نواز شریف نے ان کا نام ہٹادیا تو وہ چلے گئے ۔ اور چلے جانے کے بعد آنے کا نام نہیں لے رہے ۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay