امجد کا دسترخوان : نیوز ون کی جانب سے معروف قوال کو خراج تحسین

میں قبر اندھیری میں گھبرؤں گا جب تنھا امداد میری کرنے آجانا رسول اللہﷺ
روشن میری تربت کو اے نورِ خدا کرنا جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا

یہ وہ دعائیہ کلام ہے جو امجد صابری نے اپنی شہادت والے دن نجی چینل کی سحری ٹرانسمیشن میں اپنی بارعب اور گونجدار آوازمیں پڑھا کیا خبر تھی کے یہ ان کا آخری کلام ہو گا اور اس کے بعد سننے والوں اور چاہنے والوں کو یہ آ واز کبھی اس طرح سننے کو نہیں ملے گی ، یہ وہ اشعار ہیں جو شہید امجد صابری نے امر کر دیئے ہیں ۔

امجد صابری کی آواز وہ آواز ہے جو دلوں کو منوررکرتی اور دماغوں کو جلا بخشتی ہے ۔ان کی آواز کا سوز و گداز دلوں کو موم کی طرح پگھلا دیتا ہے اور خون میں ایسی گردش پیدا ہوتی ہے کہ محمدﷺ کے عشق میں تیزی ٓجاتی ہے اور دل سے ایک ہی آواز نکلتی ہے ۔

قسمت میں مری چین سے جینا لکھ دے
ڈوبے نہ کبھی میرا سفینہ لکھ دے
جنت بھی گوارا ہے مگر میرے لیے
اے کاتب تقدیر ! مدینہ لکھ دے
تاجدارِ حرم ! ہو نگاہ ِ کرم
ہو کرم ! ہو نگاہ کرم ۔

اس رمضان المبارک شہید امجد صابری کی یاد میں انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے نیوز ون نے ان کے نام سے دسترخوان کا اہتمام کیا ہے جوکہ بلاناغہ 29 رمضان تک جاری رہےگا جہاں روزہ داروں کے لیے خاص پکوان بنائے جاتے ہیں اور وقتِ افطار امجد کے دسترخوان پر سجائے جاتے ہیں ۔

نیوز ون نے امجد کے نام سے روڈ پر کھلا دسترخوان لگادیا ۔ جس پر جس کا دل چاہے وہ آئے اور آکر افطار کرے کسی کو نہ روکا جاتا ہے اور نہ منع کیا جاتا ہے یہ دسترخوان سب کے لیے ہے۔

عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری کودو برس قبل سولہ رمضان کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔ اسلامی کیلنڈر کے مطابق اُن کی آج دوسری برسی ہے۔

امجد صابری جنوبی ایشیا کے معروف قوالوں میں شمار کیے جاتے تھے اور اُنہوں نے قوالی ، نعت گوئی اور منقبت سے عالمی شہرت حاصل کی ۔

اُن کا تعلق پاکستان کے مشہور قوال گھرانے سے تھا۔ اُن کے والد غلام فرید صابری اور چچا مقبول صابری کے اس گروپ نے ’صابری برادران‘ کے نام سے بے پناہ شہرت حاصل کی۔ نوجوان نسل میں قوالی کا شوق پیدا کرنے میں امجد علی صابری کا کردار بہت اہم ہے۔

امجد صابری نے بہت کم عمری سے اپنے والد غلام فرید صابری سے فن قوالی کی تربیت حاصل کرنا شروع کر دی تھی اور بارہ سال کی عمر میں پہلی بار اسٹیج پر والد کے ساتھ پرفارم کیا۔

امجد صابری نے اپنے والد اور چچا کی گائی ہوئی معروف قوالیوں کو اپنے انداز میں پیش کر کے بہت داد وصول کی ۔معروف قوال امجد صابری کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے آج ہرآنکھ اشک بار ہے اور دل غم زدہ۔

یہ و ہ ہستی ہے جیسے کبھی بھلایا نہیں جائے گا باظاہر امجد صابری دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں مگر وہ ہمیشہ مداحوں اور دوستوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay