اعتکاف کی فضیلت

ittekaf

تحریر:  قاری ریحان 

ترتیب  و تدوین: عنبر حسین سید

رسول اللہﷺ نے معتکف کے بارے میں  فرمایااعتکاف کرنے والا تمام گناہوں سے رکا رہتا ہے، اور اس کو ان نیکیوں کا ثواب جن کو وہ نہیں کر سکتا ان تمام نیکیوں کے کرنے والے کی طرح ملے گا( سنن ابنِ ماجہ  :۱۷۸۱ ) ۔

رمضان المبارک کی برکتوں کے کیا کہنے ! یوں تو اس کی ہر ہر گھڑی رحمت اور ہر ہر ساعت اپنے دامن میں بے شماررحمتیں لئے ہوئے ہے مگر اس ماہِ محترم میں شبِ قدر سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے اسے پانے کے لیے ہمارے پیارے آقا ﷺنے رمضان المبارک کا پورا مہینہ بھی اعتکاف فرمایا ہےاور آخری دس دن تو آپ ﷺنے کبھی ترک نہیں فرمائے۔ اعتکاف ایسی عظیم عبادت ہے جو پچھلی امتوں کو بھی عطا کی گئی ۔

یوں تو اعتکاف کے بے شمار فضائل ہیں مگر مسلمانوں کے لیے تو اتنی ہی بات کافی ہے کہ عشرہ آخر کا اعتکاف سنتِ رسولﷺ ہے ۔

حدیث : سر کا ر ﷺ نے فرمایا کہ : ‘جس نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کر لیا تو یہ ایسا ہے جیسے دو حج اور دوعمرے کئے‘ ۔ (بَیھقِی)

رمضان المبارک کا تیسراعشرہ شروع ہوتے ہی مساجد میں رش پہلے سے بہت بڑھ جاتا ہے  طاق راتوں میں معتفکین خصوصی عبادات اور دعائیں کرتے ہیں  ۔ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ساری رات اللہ کے حضور عبادات کرتے ہوئے اپنی حاجات ومناجات پیش کی جاتی ہیں ۔

لوگ 20 رمضان المبارک کی شام مغرب کی نماز مسجد میں ادا کریں گے اوررات عبادت کے بعد نماز فجر کے متصل بعد خیموں میں داخل ہوں گے۔ عیدالفطر کاچاند نظرآنے کے بعد اعتکاف ختم کیاجائیگا۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay