نادیہ مرزا کا ملک کی سیاسی صورتحال پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تجزیہ کار جنرل(ر) امجد شعیب ، تجزیہ کار سجاد میر ، تجزیہ کار محسن بیگ سے خصوصی گفتگو کی ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

بعض دفعہ ہم لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ ایسا ہورہا ہے یہ خبر ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ خبر نہیں ہے خواہش ہے ۔ خاص طور پر جب الیکشن ائیر ہو ۔ الیکشن آنے والے ہوں انتخابات ہوں ، نتائج کی بات ہو ۔ الیکشن فیکسٹ ہونے کی بات ہو ۔ کون کہاں حکومت بنائے گا یہ طے کرنا ہو تو کچھ لوگوں سے جب بات ہوتی ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ یہ خواہش ہے اور یہ خبر ہے اور یہ خبر نہیں خواہش ہوتی ہے۔ یہ خواہشیں کس حدتک انفلیونس کرتی ہیں یا نہیں کرتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ جن کی خواہشیں ہوتی ہیں ۔ ان سے کچھ چیزیں ابھی مینیج نہیں ہورہی ہیں۔ کسی نے کہا کہ پنجاب مینیج نہیں ہو رہا ہے ۔ اور جس دن پنجاب مینیج ہوجائے گا اس دن سب ٹھیک ہے ۔ اگر نہیں ہوگا تو الیکشن پوسپونڈ ہوجائیں گے۔

سوال: کیا آپ یہ خبر اور خواہش اس میں کیا فرق ہے اور کیا یہ حقیقیت ہے کہ خبر سے زیادہ خواہشیں ہوتی ہیں جو کسی اسٹیج پر انفلوئنس کرتی ہیں۔ الیکشن اور رزلٹ پر؟

تجزیہ کار سجاد میر: خواہش بھی ہوسکتی ہے اور یہ منصوبہ بندی بھی ہوسکتی ہے ۔ کچھ لوگوں کو بھنک پڑجاتی ہے کہ جی یہ ہو رہا ہے ۔ میرے لیے تو ہوسکتا ہے کہ یہ خبر ہو اور خبر مستند نہ ہو۔ لیکن بہرحال میرے لیے تو یہ خبر ہی ہوگی اگر مجھے پتہ چل جائے کہ کیا کیا منصوبہ بندی ہورہی ہے اور کس جگہ پر ہورہی ہے ۔ کچھ اندازے ہوتے ہیں جو ہم لگاتے ہیں ۔ حالات سے صورتحال سے جو حالات پیدا ہوتے ہیں اس سے لگاتے ہیں۔ جس کو آپ خواہش کہہ رہے ہیں جو کہا جا رہا ہے وہ یہی کہا جارہا ہے کہ اس وقت کوشش اس بات کی ہے کہ کچھ لوگ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ بغاوت تو ہوچکی ہے ۔ نصراللہ بابر نے کہا کہ ہمارے ہاں بغاوت ہوچکی ہے۔ ایسی صوتحال پہلے بھی پیدا ہوئی تھی تب ہمارے ماہر معاشیات نے ایک ٹائٹل اسٹوری دی شریف ورسز شریف اور اس پر بوٹم لائن یہ تھی کہ ایک گولی چلائے بغیر ہی گویا فوج نے اقتدار پر معاملات پر قبضہ کرلیا ہے۔

کچھ دنوں سے بحث چل رہی ہے جس کو ہم سول ، ملٹری ٹسل کہتے ہیں اور آج بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ آج بھی اگر نواز شریف کو نکال دیا گیا ہے ہٹادیا گیا ہے ۔ اب کہیں گے کہ اپنے کرتوتوں سے گیا ہے ۔ پانامہ سے گیا ہے ۔ لیکن دوسری طرف سے لوگ سمجھتے ہوں گے کہ جب ان کو نکال دیا گیا ہے جب وہ نکل گئے ہیں ۔ جب ان کے پیچھے بیک انگ بھی موجود ہے تو ان کو واپس بھی نہیں آنے دیا جائے گا۔ اس لیے بھی واپس نہیں آنے دیا جائے گا کہ ان کا نیرٹف ہی یہی ہے کہ ان کو نکالا گیا ہے ۔ اور پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا گیا اور پھر وہ اشارے کرتے ہیں کہ کس کس نے نکالا  ۔ میں اس بات کا تجزیہ کر رہا ہوں کہ جس کو آپ خواہش کہہ رہے ہیں وہ کہاں سے پیدا ہوتی ہے ۔

تو یہ تاثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسی صورتحال میں کبھی ہوانہیں یہ کہ ضیاءالحق کو ولی خان نے جا کر کہا تھا کہ دو قبریں ان میں ایک جو جاناہے یا بھٹو چلا جائے یا تم چلے جاؤ۔ تو کبھی کبھی ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے کہ آپ کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے ۔ اس وقت نواز شریف نے بھی صورتحال ایسی پیدا کردی ہے کہ اس کو کوئی ماننے کو تیار نہیں ہوگا۔ اگر ہماری اسٹیبلشمنٹ اگر اس کا پورا بیانیہ جس کو وہ نیرٹف کو بڑی زور دیکر بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گویا کہ میری اصل لڑائی یہ ہے خلائی قوتوں کے خلاف تو وہ خلائی قوتیں کیسے آنے دیں گی ۔ لیکن لازمی نہیں ہوتا کہ وہی کچھ ہو جو ہماری وہ قوتیں چاہتی ہیں کہ اس طرح سے ہونا چاہیے وہی ہو۔

تجزیہ کار محسن بیگ: اگر نواز شریف آج کسی خلائی مخلوق کا ذکر کرتے ہیں تو ان سے پوچھنا چاہیے کہ آپ کس ذریعے سے پولیٹکس میں آئے تھے۔ آپ کا کیا بیک گراؤنڈ تھا ۔ آپ بھی تو اس خلائی مخلوق کے ذریعے ہی سیاست میں آئے ۔ اور آئے بھی ہیلی کاپٹرکی لینڈنگ سے اور فنانس منسٹر پنجاب بن گئے۔ آپ جب کسی کے بل بوتے پر بنتے ہیں اور آپ نے وہی داؤ پیچ جو مخالفین کے لیے کھیلے اور ان کے ساتھ ملکر کھیلے ۔ اگر آج آپ کو خاص کر کرپشن ، مس یوز آف پاوورز میں اور یہ جو دولت آپ نے لوٹی اور لے گئے باہر ۔ اس کا جواب اگر کوئی مانگ رہا ہے اور وہ بھی ایک ایسا اسکینڈل آیا جو انٹرنیشنل لیول پر تھا ۔ خلائی مخلوق نے وہ اسکینڈل نہیں بنایا ۔ اسٹیبلشمنٹ نے وہ اسکینڈل نہیں بنایا ۔ یہ جو پورا نیرٹف بیان کیا جا رہا ہے اس کو حقیقت سے تعلق نہیں ہے ۔

خواہشوں سے ہی کام آگے چلتا ہے ۔ لوگ خواہشات کرتے ہیں تو اس کی تکمیل کے لیے سارا کام کرتے ہیں ۔ اگر آپ کے پاس خواہش ہی نہ ہو تو اس کو آپ پلان کیسے کریں گی ۔ اس کی تکمیل کے لیے آپ کیسے آگے جائیں گے ۔ ہمارے ہاں یہ روایت رہی کہ اگر آپ نے ایک ٹرن اوور پورا کیا ہو گورنمنٹ میں اور اگر آپ واپس الیکشن جیت کر آجائیں تو یہ مشکل کام ہے ۔ ن لیگ نے پنجاب میں ہمیشہ مین اوور کیا ۔ پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ ساری ان کے ساتھ ہوا کرتی تھی۔  آج بھی ہے ۔ پنجاب الیکشن میں مین بیٹل فیلڈ ہے ۔ مقابلہ صرف دو لوگوں میں ہونا ہے ۔ پی ٹی آئی میں اور ن لیگ میں ۔ ن لیگ اسٹیبلشٹ پارٹی ہے پنجاب میں تو ان کا اسٹرونگ رول ہے ۔ ہاں اگر ان کو اس وقت فیور نہیں ہورہا ۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ گورنمنٹ کس کی بنے گی ۔ پنجاب میں چیف منسٹر کون ہوگا۔ اس وقت نواز شریف نا اہل ہو ان کی بیٹی کوشش کر رہی ہو، وہ کنفیوژن کا شکار ہیں ۔

سوال : ایک ایمپریشن ہے کہ ہمارے ملک کے ادارے نہیں چاہتے کہ پی ایم ایل این دوبارہ آئے شاید وہ الیکشن پوسپونڈ کردیں اگر پنجاب ان سے مینیج نہیں ہوتا۔ ہمارے ادارے نہیں چاہتے کہ کسی کو واضح اکثریت ملے ۔ ہمارے ادارے نہیں چاہتے کہ واضح اکثریت کے بعد کسی ایک جماعت کی حکومت ہوجائے اس لیے ایک ہنگ پارلیمنٹ کا شوشا چھوڑا گیا ۔ کیا یہ جو ہمیں بتایا جاتا ہے اور یہ جو شوشا چھوڑ دیا جاتا ہے یہ ایگزیسٹ کرتی ہیں چیزیں ۔ کہیں نہ کہیں یہ خواہشیں ہیں ۔ یہ پلاننگ کا حصہ ہوتی ہیں؟

جنرل (ر) امجد شعیب: جتنا بھی کچھ کہا گیا ہے فوج اور سیاست کے بارے  میں یہ کم از کم پچھلے آٹھ دس سالوں میں غلط ثابت ہواہے ۔ زرداری صاحب کے دور میں بھی تاریخ نکلی ہوتی تھی کہ ن لیگ آئی گی کہ پی ٹی آئی۔ اس کا فائدہ کس کو ہورہا ہے ؟ اس کا فائدہ سارا ان لوگوں کو ہو رہا ہے جو گورننس نہیں دے رہے ۔ جو ملک کو کرپشن کر کے لوٹ رہے ہیں۔ ساری قوم کو اس کے پیچھے لگا دیا گیا ہے اور ہم لوگ پچھلے پانچ سال یہی ڈسکس کرتے رہے کہ اس کےپیچھے خفیہ ہاتھ ہے ، اس کے پیچھے فوج ہے ، فوج یہ نہیں چاہتی ۔ کسی نے ذکر نہیں کیا کہ یہ جو ملک قرضوں میں ڈوب رہا ہے یہ کیسے ہورہا ہے ۔ کون کر رہا ہے اس کے پیچھے کون ہے ۔  بات یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کو سووٹ کرتی ہے جو کہ گورننس نہیں دیتے ۔ ہم نے ان لوگوں سے ان چیزوں کا حساب کتاب نہیں لیا جو ان کو ڈیلیور کرنے کو ملی تھیں۔ فرحت اللہ بابر اور رضا ربانی ان دونوں سے پوچھیں کہ ابھی بجٹ پیش ہوا ہے۔ رضاربانی نے صرف یہ سوال کیا کہ یہ ڈیفنس بجٹ ہے یہ کیوں بڑھ گیا ہے ۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ اتنا سارا کھاتا ہمارے پی آئی اے میں ، کیوں ہماری اتنی بربادی اسٹیل ملز میں ، پی ٹی وی برباد کردیا ۔  پیمرا آپ نے تباہ کردیا وہاں بھی اپنا چمچہ لگادیا۔ کسی نے نہیں پوچھا ، کیوں؟ ہمارے ذہنوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ڈال دیا کہ جی پیچھے خفیہ ہاتھ ہے ۔

سوال: یہ کیوں اور کیسے ڈال دیا گیا ؟

جنرل (ر) امجد شعیب: دھرنے ہوئے کہا گیا کہ پیچھے خفیہ ہاتھ ہے ۔ سارے سیاست دان اکٹھے ہوگئے اور بس یہی کام شروع ہوگیا ۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ جو 14 لوگ جو تم مار کر آئے تھے ۔ ماڈل ٹاؤن میں وہ کس خفیہ ہاتھ نے کہا تھا ۔ اور پھر دھرنے کی ایف آئی آر ستر دن کے بعد درج ہوئی تو یہ پاکستان ہے کوئی ملک ہے کہ جہاں آپ کو ایف آئی آر کٹوانے کے لیے 76 دنوں کا دھرنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان کی قربانیوں پر کوئی سوال ہی نہیں ہوا۔

سوال: ہم جب مینیج یا فکسٹ الیکشن کی بات کرتے ہیں ۔ تو سینیٹ کے الیکشن ہمارے سامنے ہیں۔ یہ بات چل رہی ہے کہ کوئی جماعت بھی واضح اکثریت حاصل نہ کرسکے ۔ کوئی ہنگ پارلیمنٹ ٹائپ چیز ہمارے سروں پر مسلط کردی جائے ۔ اس پر آپ کیا کہیں گے؟

سجاد میر: جنرل صاحب معتبر آدمی ہیں میں ان کی رائے کا احترام کرتا ہوں۔ میں ایک دوسری بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ جو غیر سیاست دان ہیں وہ کونسا ڈیلیور کرتے ہیں؟ ایوب خان کے زمانے سے ہمیں فوجی معاہدوں میں کس نے جکڑا ؟ ہمیں غیر ملکی امداد دینے پر کس نے مجبور کیا؟ ہمیں کس نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے شعیب اور ایم ایم عالم کو کون لیکر آیا باہر سے ؟ اور یہ جو ہماری اکنامی کے بادشاہ بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ یہ جو غیر ملکی جو امریکا سے آئے ہیں جنہوں نے قبضہ کیا ہماری معیشت پر وہ کس نے کیا ؟ کوئی حکمران ٹولہ ہو چاہے جو بھی ہو۔ کیا کچھ ہماری رولنگ کلاس نے نہیں کیا۔ وہ چاہے فوجی ہوں یا غیر فوجی ہوں۔ چاہے سیاسی ہوں یا غیر سیاسی ہوں۔ اس ملک میں جو حکومت میں آجا تا ہے وہ سمجھتا ہے ملک اسی کا ہے۔  ہم عوام ساری بھیڑ بکریوں کی طرح رلتے رہ جاتے ہیں۔ اور یہ کہتے ہیں کہ اس نے کیا تھا وہ کہتا ہے کہ اس نے کیا تھا ۔ پارٹیوں کا مسئلہ ہو تو اپنی اپنی پارٹیزن لیکر بیٹھ جاتے ہیں۔

اس پارٹی نے یہ کیا اور اس پارٹی نے وہ نہیں کیا ۔ آپ اگر مجھ سے کہیں تو میں روایتی طور پر بھٹو صاحب کا کوئی حامی نہیں مخالف رہا ہوں میں آج پانچ سو چیزیں ان کی گنو ا سکتا ہوں جنہوں نے ملک کو تباہ کیا۔ اسی طرح ان کے مخالف جو ہیں وہ نواز شریف کی گنوا سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں جو ہائیٹ کریٹ ہوگئی ہے ۔ ہم لوگوں پر وہ الزام لگاتے ہیں جو دراصل مین الزام نہیں ہے ۔ اصل الزام نہیں ہے۔ جو اصل ان کا قصور ہے سب کا وہ چھپ جاتا ہے سب کا۔ سارے حکمرانوں کا چھپ جاتا ہے ۔ پاکستان بننے سے لیکر آج تک کا۔ غلام محمد بہت اچھا وزیر خزانہ تھا۔ غلام محمد پاکستان کی تاریخ کا بدترین گورنر جرنل تھا۔ ایک مفلوج آدمی جس کے پردے میں پتہ نہیں کون حکومت کرتا تھا ملک میں ۔ اس کو بات نہیں سمجھ آتی تھی۔ وہ اس ملک میں حکومت کرتا رہا ۔ بے شمار مثالیں ہیں۔

جنرل (ر) امجد شعیب: میر صاحب کی بات درست ہے جو یہ موازنہ کر رہے ہیں۔ میں یا  آپ یہ تو نہیں کہہ رہے کہ فوجی حکمران واپس لے آئیں کہ جو غلطیاں ہوئیں ہیں ۔ ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ جو الیکشن ہو رہے ہیں ۔۔ جمہوریت چلانی ہے ۔ اگر جمہوریت چلانے میں جتنے کالے کرتوت ہوں گے ان کو ہم ہر دفعہ جسٹیفائی کرنے کی کوشش کریں گے۔

سوال: 25 جولائی کو پاکستان میں نئے الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور اللہ کرے عوام میں اس دفعہ حقیقات اتنا شعور آجائے اور پرفارمنس بیس کریں چھوڑ دیں کسی کا نیرٹف اور یہ دیکھیں کہ کس نے ڈیلیور کیا اور کس نے نہیں کیا۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سینیٹ الیکشن ہوئے اس کوئی شائبہ کوئی سایہ آنے والے الیکشن پر بھی پڑے گا؟

محسن بیگ: میرا خیال ہے نہیں ہوگا ۔ کیوں کہ یہاں پارتیز واضح طور پر الیکشن میں جا رہی ہیں۔ خاص کر کے پی کے کو یا سندھ کو علیحدہ کر لیجیے ۔ مین فوکس اس وقت پنجاب ہے۔ پنجاب میں الیکشن 2 پارٹیوں میں ہیں۔ جہاں تک شعور کی بات ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس قوم کو شعور نہیں آئے گا۔ یہاں پر کس طرح سے ووٹ کاسٹ کیا جاتا ہے آپ کو خود اندازہ ہے ۔ پارٹی بیس کو چھوڑ کر برادری سسٹم ہے ، دوسرا سسٹم ہے ۔ یعنی ایک دیگ آپ بریانی کی بنائیں تو آپ کو 100 ووٹ مل جاتا ہے۔

سوال: کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پنجاب مینیج نہیں ہو رہا ہے ۔ پنجاب میں دوبارہ سے پی ایم ایل این کی حکومت نظر آرہی ہے ؟

محسن بیگ: یہ تجزیہ کہ پنجاب میں دوبارہ ن لیگ کی حکومت آرہی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ غلط ہے ۔ آپ گراؤنڈ رئیلیٹیز کو دیکھیں ابھی الیکشن کیمپئن عید کے بعد شروع ہونی ہے ۔ میں بہت عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ نواز شریف صاحب کی شہباز شریف صاحب کی گورنمنٹ جائے گی تو آپ کو کرنٹ سچوئشن پتہ چلے گی کہ گراؤنڈ رئیلیٹی ہے کیا۔ الیکشن سے پہلے سروے آتے ہیں جو پیڈ ہوتے ہیں۔ پنجاب میں شہباز شریف ، نواز شریف پھر سے میجیورٹی لیں گے یہ تجزیہ غلط ہے۔ یہ جو لہر ہے اس وقت یہ مخالف ہے پی ٹی آئی اور نواز شریف کے اور ان کے بہت سارے الیکٹیبلز چھوڑ کر دوسری طرف جار رہے ہیں ۔ الیکٹیبلز کو پتہ ہوتا ہے کہ ہوا کس طرف کی ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay