بدمعاشیہ نے 100 ارب کے اثاثے چھپائے ہیں ، ڈاکٹر شاہد مسعود

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘ میں انکشاف کیا ہے کہ بدمعاشیہ نے 100 ارب کے اثاثے چھپائے ہیں ۔

سوال: آج ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے ، نیب نے حسن اور حسین نواز اور اسحاق ڈار صاحب کو انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیا آنے والے دنوں میں اس فیصلے پر عملدرآمد ہوتا نظر آئے گا؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: یہ خاک فیصلہ ہے؟ یعنی انتہائی قابل احترام ہیں جسٹس جاوید اقبال صاحب اور میں تو بہت ان کی عزت کرتا ہوں وہ زبردست کام کر رہے ہیں۔ جو  بھاگے ہوئے ہیں ملک سے ان کو لانے کے لیے انٹرپول کو خط لکھنا ہے ، نیب انٹرپول کو خط نہیں لکھ سکتی وہ وزارت داخلہ کو لکھے گی۔ وزارت داخلہ ایف آئی اے کو لکھے گی وہ پھر پتہ نہیں کہا جائے گا۔ جو ارب ، کھرب پتی گھوم رہے ہیں سارے جن کو نا پکڑ رہے ہیں نہ ان کو استثنیٰ دے رہے ہیں۔ پاکستان میں لوگ گھوم رہے ہیں ان کو نہیں پکڑ رہے ۔ ان کو اندازہ ہونا چاہیے کہ ان سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں۔ کل انہوں نے بات کردی کہ ہم سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے ۔ احتساب الگ ہے  ملک میں انتشار الگ ہے ۔ الیکشن الگ ہیں۔ آپ کا کام بلا تفریق پکڑیں۔

جاوید صاحب پاکستان میں ایک صوبہ ہے اس کا نام ہے سندھ ۔ آپ تشریف لیکر جائیں وہاں دن گزاریں۔ اے ڈی خواجہ کا اب کہیں نام نہیں ہے ۔ ڈرے ہوئے ہیں لوگ۔ پاکستان کے آئی جی چلے گئے ان کے لیے ۔ اے ڈی خواجہ پاکستان کی تاریخ کے ردی کے ٹوکری کا حصہ ہیں۔

شہباز شریف کراچی میں گانا سنا رہے ہیں  ۔ کون ان کو سپورٹ کرے گا ، یہ  کیوں وہاں پر اطمینان سے گھوم رہے ہیں ۔

سوال: ووٹر لسٹ میں آپ نےدیکھا ہے کہ 2 کروڑ لوگ پیدا ہوگئے ہیں؟ کیا ہواہے

ڈاکٹر فرخ سلیم: بہت حیران کن بات ہے کہ اگر 2013 کی جو ووٹر لسٹ چھپی تھی جو الیکشن کمیشن نے دی تھی اس میں 8 کروڑ 50 لاکھ ووٹرز تھے۔ اب جو لسٹ سامنے آئی ہے اس میں 10 کروڑ اور 50 لاکھ ووٹر ہوگئے ہیں ، جیسے آپ نے کہا کہ 2 کروڑ ووٹر اضافی آگئے ہیں پچھلے پانچ سالوں میں جب کہ جو ابھی 2017 میں ہم نے مردم شماری دیکھی ہے ۔ 2018 میں جس کے رزلٹ سامنے آئے ہیں۔ اس کے مطابق جو آبادی بڑھ رہی ہے وہ 2 اعشاریہ 7 فیصد سالانہ ہے۔ اگر 2 اعشاریہ 7 فیصد سے آبادی بڑھ رہی ہے۔ تو پھر یہ جو 2 کروڑ ووٹرز سامنے آگئے ہیں یہ سمجھ نہیں آتے ، اس کا جواب نادار کو دینا ہوگا کہ 2 کروڑ ووٹر انہوں نے کہا سے لے لیے ۔

اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ پچاس لاکھ لوگ نام ایسے ہیں ووٹر لسٹ میں جو لوگ پچھلے پانچ سالوں میں وفات پا چکے ہیں۔ وہ ابھی تک ووٹر لسٹ میں کیوں رکھے جارہے  ہیں۔ اسپتالوں میں اور قبرستانوں میں رجسٹرڈ رکھے ہوئے ہیں ۔ کیا کوئی کوشش ہی نہیں کی گی نادرا کی طرف سے ۔ جو اوورسیز پاکستانی ہیں ان کو ووٹ دینے کا حق نہیں دیا جا رہا ۔ اگر آپ 2013 میں دیکھیں تو اس وقت طارق عزیز ہوتے تھے نادرا کے اور انہوں نے ایک بڑی ڈیٹیل پریذنٹیشن دی تھی سپریم کورٹ کو اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے ایک فول پروف جو فنگر پرینٹ کے اوپر بیس کرے گی ایک نظام تھا انہوں نے اس وقت 2013 ، اپریل میں بتایا تھا کہ وہ نظام نادرا نے بنا لیا ہے اور جو 75 لاکھ پاکستانی باہر رہتے ہیں۔ وہ فول پروف طریقے سے اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اب 2018 ہوگیا ، پانچ سال گزر گئے اب کے چئیرمین نے جو سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ کوئی طریقہ نہیں ہے ایسا فول پروف کہ ہم ان 75 لاکھ پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے سکیں۔ 75 لاکھ ووٹرز ہماری لسٹ میں شامل ہیں لیکن ملک سے باہر رہتےہیں۔

سوال: یہ تو پھر بہت بڑی دھاندلی ہے ؟

ڈاکٹر فرخ سلیم:  جو مرد ووٹرز ہیں ہماری لسٹوں میں وہ تقریبا 5 کروڑ 90 لاکھ دیکھا رہی ہے ۔ جو خواتین ووٹر ہیں وہ 4 کروڑ 60 لاکھ ہیں اس کا مطلب ہے ساٹھ ، ستر لاکھ جو خواتین ہیں وہ مسنگ ہیں ہماری ووٹنگ لسٹ سے ۔ یہ جینڈر گیپ ہے جس کو بہت خطرناک کہا جاتا ہے۔ 2013 کے مقابلے میں یہ جینڈر گیپ بڑھ گیا ہے۔ یہ کم ہونا چاہیے تھا۔ کم از کم ساٹھ لاکھ خواتین ہیں جو ایگزیسٹ کرتی ہیں پاکستان کے اندر جو ووٹر لسٹ کا حصہ نہیں ہیں۔

سوال: 60 دن میں ہمارا خزانہ خالی ہونے والا ہے ؟

ڈاکٹر فرخ سلیم: آپ خزانے اور معیشت کی بات کرتے ہیں تو مجھے اپنے زمانے کا سب بڑا جہاز ٹائٹینک یاد آجاتا ہے ۔ تیس دن ایسے رہ گئے ہیں کہ کئیرٹیکرز نے آنا ہے ۔ اگلے تیس دن مکمل طورپر ضائع ہوجائیں گے ۔ باقی بچے تیس دن جس میں اتنے بڑے جہاز کی سمت آپ نے موڑنی ہے ۔ اس وقت پاکستان میں کوئی کوشش نہیں کر رہا کہ ہماری جو معیشت کا ٹائٹینک اس کی سمت کسی طرح سے موڑی جائے اور تودے سے ٹکرانے سے اس کو بچالیا جائے۔

سوال: جو نئی حکومت بنے گی تب تو خزانہ خالی ہوگا تو وہ کیا واشنگٹن میں سجدہ کرے گی جا کر ؟

ڈاکٹر فرخ سلیم: اس سال جو حکومت کا فنانشل گیپ آرہا ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمیں اضافی 25 سے 26 ارب ڈالر وہ ادھار لینا پڑے گا اپنا ایک سال گزارنے کے لیے ۔ اب چائنہ آپ کو کچھ دے دیگا ، سعودی عرب کچھ دے دیگا۔ لیکن ہمیں آخر میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ آئی ایم ایف کے اندر امریکا کے 8 لاکھ 31 ہزار ووٹ ہیں تو آئی ایم ایف اور امریکا کو ایک ہی سمجھیں۔ آئی ایم ایف صرف مالیاتی ادارہ نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ سیاسی ادارہ بھی ہے ۔ اس کے بعد پھر اس کی سیاسی شرائط سامنے آئیں گی اور آئی ایم ایف کے پاس پچھلے 50، 55 سال کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے پاس کوئی کامیاب کہانی نہیں ہے ۔

سوال: یہ ممکن ہے کہ وہ ہمارے نیوکلیئر اور ہمارے سی پیک کے اوپر سوال اٹھادے؟

ڈاکٹر فرخ سلیم: 2008 میں مجھے یاد ہے جب ہم نے لندن کلب سے قرضہ جات لے رکھے تھے ۔ آئی ایم ایف نے شرط لگائی تھی کہ اس سارے قرضہ جات کے جو کھاتے ہیں وہ ہمارے سامنے کھول کر رکھے جائیں اور آئی ایم ایف کا قرضہ لندن کلب کو واپس نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ میرا خدشہ یہ ہے کہ اس دفعہ جو شرط آئی گی اور یقینی طور پر آئی گی وہ یہ ہوگی کہ سی پیک کے سارے لون اور سارے کھاتے کھول کر آئی ایم ایف کے سامنے رکھے جائیں اور آئی ایم ایف کا قرضہ سی پیک کی شکل میں چائنہ کو واپس نہیں کر پائیں گے یہ ضرور سامنے آئے گا۔ کوشش یہ ہوگی کہ چائنہ کی انفلیونس سے پاکستان کو نکال کر واپس امریکا اور آئی ایم ایف کی طرف لیجایا جائے۔

ڈاکٹرشاہد مسعود: وہی گیم کے معاشی طور پر تباہ کرکے ہٹ مین بھاگ گیا باہر اسحاق ڈار ۔ وہ وہاں سے عجیب رپورٹس بھیج رہا ہے اس کی بیماری شفٹ ہوتی جارہی ہے۔ نیب کہہ رہے ہیں ان کو انٹرپول سے منگائیں گے۔ جاوید صاحب بتادیں کہ انہوں نے کسی ایک بڑے مگرمچھ پر ہاتھ ڈالا ہو؟ یہاں پر وقت نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ روز بیٹھ رہی ہے ۔ روز سیکیورٹی فورسز ، ساری دنیا لگی ہوئی ہے۔ آپ لگے ہوئے ریفرنس، کونسے ریفرنس میں پکڑا ہے آپ نے کسی مگرمچھ کو؟ شہباز شریف کیسے گھوم رہاہے ، حمزہ شہباز کی کمپنیاں۔ آپ سیاست مینج کر رہے ہیں یا کوئی اتحاد بنا رہے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ عزت کے ساتھ اے ڈی خواجہ کو لاتے ہیں اور بیٹھاتے ہیں ، پاور دیتے ہیں۔بدمعاشیہ نے جاناہے ان کے ہاتھوں نہیں گئی تو کسی کے ہاتھوں تو جانا ہے ۔ ادارے کھڑے کرنے ہیں۔

اراکین اسمبلی نے 100 ارب روپے اثاثوں کے اپنے ظاہر نہیں کیے ہیں۔ کل سے ایف بی آر ان کے پیچھے لگ گئی ہے ۔ اب ان سے امید ہے ۔ اور آخر میں سپریم کورٹ آرہی ہے ۔ ایف بی آر میں اچھے لوگ بھی ہیں لیکن سب ڈرے سہمے ہوئے کہ کریں نہ کریں۔ اے ڈی خواجہ نے ایک آدمی کو بھی نہیں پکڑا ۔ اب 100 ارب روپے انہوں نے چھپایا ہے ۔ اب ان کی کل سے شروع ہوجائے گا۔

ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کے سربراہ پر درخواست دائرکردی ہے کہ آپ یہ بتائیں کہ آپ کے جو اثاثے ہیں وہ کہاں سے آئے ہیں  اور آپ نے اپنے بہت زیادہ اثاثے ، پراپرٹی چھپایا۔ دوسرا یہ ہوگیا کہ درخواست چلی گئی کہ زرداری صاحب الیکشن میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں ان کے تو این آر او کے تحت مقدمات معاف ہوئے تھے۔ انہوں نے طویل خط لکھا ہے کہ این آر او سے میں متاثر نہیں ہوا تھا ۔ کوئی تعلق نہیں میرا میں نہیں جانتا ۔ کونسا این آر او ؟ انہوں نے کہا کہ مقدمات ختم ہوگئے تھے اور قانون جاری ہوگیا تھا۔

شہباز شریف کراچی میں مطمئن کیوں ہیں ۔ انکی بھابھی بیمار ہیں۔  حسین نواز اور مریم نواز نے عجیب ٹینشن ڈالی ہوئی ہے کہ انفیکشن ہوگیا اور وہ ایک دن میں ختم ہوگیا۔ رات کو پھر شروع ہوگیا۔ اللہ ان کو صحت دے اور شیطانوں سے بچائے۔

سوال: کیا آپ کو جی ڈی اے بنتی ہوئی نظر آرہی ہے؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: جی ڈی اے بن گئی ہے ۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سے میرا رابطہ ہوا تھا ۔ میں نے کہا کہ جی ڈی اے کے کیا معاملات ہیں انھوں نے بتایا کہ امیدوار کھڑے کردیے ہیں۔ سندھ کے جو معاملات ہیں  ، جو اندرون سندھ کی سیاست ہے وہ کراچی سے الگ ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ انھوں نے بھی ، پی ایس پی نے اور ایم کیو ایم نے بھی امیدوار کھڑے کردیے ہیں۔ مجھے قطعا نہیں پتہ کہ ٹیسوری صاحب ادھر ہیں کہ ادھر ہیں ان کی آپس میں صلح ہوگئی ہے یا نہیں ہوگئی ہے ۔ شروع میں لوگوں کی دلچسپی تھی اب بالکل ختم ہوگئی ہے کہ کون کہاں سے لڑرہاہے ۔ ایک مہینہ الیکشن میں رہ گیاہے۔ جو جہاں سے کھڑا ہو رہا ہے اس کے خلاف وہی پر بینر لگے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے معاملات کو خطے کے معاملات سے الگ نہیں کرسکتے ہیں۔ اور خطے میں آپ کی بڑی جنگ ہے ۔ وہاں لاکھوں لوگ مارے جا چکے ہیں ، فوجیں آجارہی ہیں۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات۔ وہاں داعش آگئی ہے۔ باہر سے مبصرین آرہے ہیں وہ کیا دیکھیں گے۔ پورے ملک میں کہاں کیمپین دیکھیں گے۔ گراؤنڈ پر کچھ نہیں ہو رہا ہے ۔ یہ آفیشل فیگر ہے کل اخباروں میں چھپ جائی گی۔ سیاست دانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو کہہ رہا ہے کہ الیکشن ڈیلے ہوجائیں گے۔ فوج کہہ رہی ہے کہ عدالت کہہ رہی ہے کہ الیکشن ٹائم پر ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں الیکشن ٹائم پر ہوں ۔

زرداری صاحب کا پنجاب میں بنتا ہے معاملہ ۔ پنجاب میں کچھ تو لیا ہی ہے۔ مگر شہباز شریف کراچی کے کس علاقے میں گھوم رہے ہیں۔ لیاری کا دورہ تو سب ہی کر رہے ہیں۔

سوال: کیا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی رابطے میں ہیں؟

ڈاکٹر شاہد مسعود: زرداری صاحب نے کیا آج تک نواز شریف کے بارے میں بات کی ہے؟ نوازشریف صاحب نے زرداری صاحب کے بارے میں بات کی ہے ؟ لاڈلہ کون ہے ؟ یہ دونوں عمران خان کو لاڈلہ کہتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ وہ نہیں ہیں ۔ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم عمران خان کی حکومت نہیں چلنے دیں گے۔ ساری بدمعاشیہ 62 اور 63 کی زد میں آرہی ہے ۔ کبھی انہوں نے کرپشن پر بات نہیں کی ہے ۔ آپ ایک کرپشن پر شو کرالیں ساری جماعتوں کے نمائندیں بلالیں وہ شو ہی نہیں ہوگا۔ وہ سب آپس میں ایک دوسرے کو کہہ رہے ہوں گے لیکن کرپشن کا ذکر ہی نہیں کریں گے۔ سندھ میں آپ کو دکھ رہا ہے کہ لوگ پکڑے جا رہے ہیں۔ اوپر نہیں ہے ۔ ابھی تو چہروں سے نقاب اٹھ رہے فرنٹ مین پکڑے جا رہے ۔

پبلک کہہ رہی ہے کہ بڑے مگرمچھوں کو پکڑو۔ اگر نیب کے چئیرمین بتادیں کہ احد چیمہ کی کیا غلطی ہے۔ کمپنیاں تو شہبا شریف کی تھی۔  کمپنی کے سی ای او کو پکڑا ہوا ہے ۔  انٹرپول سے لوگ پکڑ کر لائیں گے اور پاکستان میں گھوم رہے ہیں سب لوگ۔ اور پھر کچھ لوگوں کو آپ نے بغیر وجہ کے استثنیٰ دے دیا ہے۔ راجہ پرویز صاحب کو استثنیٰ ہے وہ نیب میں نہیں آئے۔ کیوں بھائی  ؟ یوسف رضاگیلانی پر بھی کیس ہیں وہ بھی ۔ یہ سارا وہ معاملہ ہے کہ ایک کو ہیرو بنا دو اور پھر دونوں مل گئے اس میں گڑ بڑ ہے۔ نیب کے ترجمان اور چئیرمین آئندہ آئیں تو وہ بتائیں کہ قرضہ معافی۔ قرضہ معافی کا معاملہ بھی سپریم کورٹ نے اٹھایا۔ نیب کیا کررہی ہے ؟ نیب نے کسی مگرمچھ کو کیوں نہیں پکڑا؟

سوال: مولابخش چانڈیو نے کہا ہے کہ پاکستان میں مودی ماڈل نہیں چل سکتا اور شہباز شریف صاحب جھوٹ بول کر گمراہ کر رہے ہیں۔ مودی ماڈل کا کیا مطلب ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود: مودی ماڈل کا مجھے نہیں پتہ وہ چانڈیو صاحب ہی بتا سکتے ہیں ۔ میں مجموعی طور پر بات کر رہا ہوں۔ یہ بات اس وقت کرنے کی تھی جب پیپلزپارٹی اپوزیشن میں تھی۔  اور نواز شریف حکومت میں تھے اس وقت آپ بات کرتے ۔ این آر او نہیں ہوا بقول زرداری صاحب کے تو مشرف صاحب کیسے گئے؟ مقدمات کیسے ختم ہوئے؟ نیب مجھے لگتا ہے کہ پریشر میں آگئی ہے ۔ اب تو احسن اقبال نہیں ہیں نام ڈالیں ای سی ایل میں اب کیا مسئلہ ہے آپ کو ؟

ناصرالملک صاحب اب آگئے ہیں ، وزیر داخلہ کا مینڈیٹ ہے یا نہیں ہے ۔ اور نہیں ہے تو کیوں ہیں وزیر داخلہ ، گھر جائیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ اے ڈی خواجہ کہاں ہیں۔ جاوید اقبال صاحب نے اچھا کیا انہوں نے رئیلائیز کیا کہ پبلک کیا چاہتی ہے ۔ انھوں نے ایکشن لیا۔ لیکن وہی بات کہ انٹر پول سے منگوائیں گے یہاں جو ہیں ان کو پکڑیں۔ پبلک کی سب پر نظرے ہیں ، بدمعاشیہ نہیں بچ سکے گی۔ یہ بچیں گے نہیں ۔ 100 ارب کے اثاثے چھپائے ہیں ایف بی آر نے کہا ہے ۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay