انسانیت کے سب سے بڑے خدمت گار اورمشہور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی

تحریر : عنبر حسین سید

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

انسانیت کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے والے مسیحا،لاوارثوں کے وارث اورمشہور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا نام کانوں میں پڑتے ہی  ایک ہی خیال آتا ہے کہ وہ  شاید دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ایک فرشتہ  جو دنیا میں آیا اورانسانوں کی بے پناہ خدمت کرکے تمام انسانیت کو اپنا مقروض کر گیا۔

انسان دوست عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے ۔ ان کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ لیکن، سب سے چھوٹے بھائی عزیز کے علاوہ سب اللہ کو پیارے ہوگئے۔ والدین کی تربیت کے باعث بچپن سے ہی سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔

گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے ایک کپڑے کے تاجر حاجی عبداللہ کی دکان پر نوکری کی جہاں انہیں پانچ روپے ماہانہ دیئے جاتے تھے۔ انہوں نے 11برس کی عمر میں اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو ذیابیطس میں مبتلا تھیں، صرف 5 ہزار روپے سے اپنے پہلے فلاحی مرکز ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالی۔

عبدالستار ایدھی کی زندگی کے 4 اصول تھے سادگی ، سچائی ، خدمت اور وقت کی پابندی۔ انسانیت کی خدمت اور پاکستان کو ایک ویلفیئر ریاست دیکھنا ایدھی صاحب کا خواب تھا۔

عبدالستار ایدھی نے فلاحی کاموں کا باقاعدہ آغاز ایک مفت ڈسپینسری کی صورت میں کیا ۔ سڑکوں پہ کھڑے رہ کر چندہ جمع کر کے ایک ایمبولینس خریدی۔ کراچی سے مفت ایمبولینس سروس کا آغاز کیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک بن گیا۔

ایدھی نے بے سہارا عورتوں ، بیواؤں ، خواجہ سراؤں ، بوڑھے ، ضیعف اور گھر سےبے دخل ہوجانے والے والدین کو سہارا دیا اور  سر چھپانے کےلیے چھت دی یہی نہیں عبدالستار ایدھی نے 20 ہزار سے زائد لاوارث لاشوں کو اپنے ہاتھوں سے دفنایا۔ انکا ماننا تھا کہ انسانی خدمت کے لیے مذہب کی کوئی قید نہیں یہی وجہ ہے کہ ایدھی ویلفئر غیر مسلم کی بھی کفالت کا زریعہ ہے۔

انکا یہ مشن اب تک جاری ہے اس وقت ملک بھر میں 330 ایدھی ویلفیئر سینٹرز کا م کررہے ہیں۔ جہاں انسانی بقاء کی خدمات کی جارہی ہیں۔ ایدھی فاﺅنڈیشن کے زیر انتظام چلنے والی ایمبولینسز کی تعداد 1800 سے زائد ہے۔ جو 24 گھنٹے ملک بھر میں انسانی جان کی حفاظت کے لیے مامور ہیں۔

اپنی سماجی خدمات میں بے مثال عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016ء  میں  گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو کر 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔انکی خدمات کے بدولت کے انہیں سرکاری اعزاز کیساتھ انہیں ایدھی ویلیج میں دفنا گیا۔

انسانیت کے علمبردار کی عظمت کا اندازہ انکی آخری خواہش سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مرنے کے بعد اپنی آنکھیں تک عطیہ کرڈالی۔

عبدالستار ایدھی کو نشان امیتاز ، شیلڈ آف آنر، لینن پیس ایوارڈ اور اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔ عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک نے عبد الستار ایدھی کا یادگاری سکہ بھی جاری کیا تھا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے عبدالستار ایدھی کے نام سے منسوب 50روپے مالیت کے 50 ہزار سکے جاری کیے گئے تھے۔یہاں تک ایدھی صاحب کو نوبل انعام کے لیے کئی بار نامزد کیا گیا لیکن ان کے نزدیک عوام کا پیار ہی سب کچھ تھا۔

عبدالستار ایدھی  اب ہم میں نہیں رہے مگر  آج بھی انکی خدمات پاکستانیوں کے لیے زندہ ہیں۔ بلاشبہ عبدالستار ایدھی جیسے شخص کا کوئی ثانی نہیں۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay