شہنشاہ غزل مہدی حسن کا 92 واں یومِ پیدائش

Mehdi-Hassan

شہنشاہ غزل مہدی حسن کے مداح  آج ان  کا 92 واں  یومِ پیدائش  منا رہے ہیں ۔

محبت  ، نفرت ، پیار  اور  حب  الوطنی  کے جذبے  سے  سر  شار  مہدی  حسن18 جولائی  1927ء کو بھارتی ریاست راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے انھوں نے موسیقی کی تعلیم اپنے والد استاد عظیم سے حاصل کی تھی ۔

 مہدی  حسن  بچپن  سے  ہی  موسیقی کے  اسرار  و رموز سے  آشنا  تھے  کیونکہ  ان کا  تعلق کلاونت گھرانے کی سولہویں پیڑھی سے  تھا۔

 گیت  ہو یا غزل ،نغمہ ہو یا ترانہ مہدی  حسن اپنی  آواز  سے  اس میں  جان  ڈال دیتے تھے  ان کی  گائی ہوئی ہر  غزل  اور  نغمہ  لا زوال  اور  بہترین ہے  اس ہی لیے بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر نے مہدی حسن کے گلے کو بھگوان کا گھر قرار دیا۔

 شہنشاہ  غزل مہدی حسن کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی، تمغہ امتیاز اور ہلال امتیاز سے نوازا، جب کہ حکومت نیپال نے مہدی حسن کو گورکھا دکشنا بہو کا اعزاز عطا کیا ساتھ ہی بھارت کے سب سے بڑے ثقافتی ایوارڈ سہگل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا ۔

خان صاحب مہدی حسن نے کل 441 فلموں کے لیے گانے گائے اور گیتوں کی تعداد 626 ہے۔ فلموں میں سے اردو فلموں کی تعداد 366 جن میں 541 گیت گائے۔ جب کہ 74 پنجابی فلموں میں 82 گیت گائے۔ انہوں نے 1962 سے 1989 تک مسلسل فلموں کے لیے گائیکی کی تھی ۔

ان کی مقبول غزلوں میں ایک بس تو ہی نہیں، کیسے چھپاؤں راز غم، رنجش ہی سہی، یوں زندگی کی راہ میں، ’دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے، آج تک یاد ہے وہ پیار کا منظر اور دیگر شامل ہیں۔

ان کا  گایا  ہوا  ملی نغمہ  یہ  وطن  تمھارا  ہے  تم ہو  پاسباں  اس کے  آج بھی  قوم کا  لہو کو گرماتا ہے ۔

کانوں میں  رس  گھولتی  شہنشاہ ِ غزل مہدی حسن کی  آواز 13 جون 2012ء  کو ہمیشہ کے لیے  خاموش ہو گئی طویل  علالت کے بعد مہدی  حسن  خالقِ حقیقی  سے جاملے  مہدی  حسن  اب ہم  میں  نہیں  مگر ان کی  آواز  آج  بھی  زندہ ہے  ۔

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

 

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay