ہیپاٹائٹس کا عالمی دن

آج پاکستان سمیت دنیا بھرمیں ہیپاٹائٹس سے آگاہی اور بچاؤ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ہر سال منائےجانے والے اس دن کا مقصد اس مرض سے بچاؤ کے لیے زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے پر زور دینا ہے۔

ہیپاٹائٹس کے مرض کو بنیادی طور پر سوزش جگر کہلاتا ہے۔ جس کی 5 اقسام اے ، بی ، سی ، ڈی اور ای ہیں۔ ہیپاٹائٹس بی اور سی کو ’’خاموش قاتل ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ مریض کو اپنی بیماری کا اسوقت پتہ چلتا ہے جب وہ ان کا ٹیسٹ کرواتا ہے یا پھر اس کا جگر خطرناک حد تک خراب ہوجائے۔

ہیپاٹائٹس اے اور ای آلودہ پانی اور مضر صحت کھانے میں موجود وائرس سے پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ شراب ، نوشی ، کچھ ادوایات کا بے جا استعمال یا انسان کے اپنے مدافعاتی نظام کی خرابی کا بھی باعث ہوسکتاہے۔

ہیپاٹائٹس کی اقسام بی اور سی جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ غیر محفوظ انتقال خون ، انجیکشن کے لیے ایک ہی سرنج کا باربار استعمال ، حجام یا دندان ساز کے جراثیم سے آلودہ اوزار اور متاثرہ شخص سے جنسی تعلق اور متاثرہ ماں سے نومولود بچے میں داخل ہوتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں 365 ملین افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں جس میں سے ہرسال تقریباً 134,0000افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر کے علاوہ اِس بیماری سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جائیں اور18ماہ کے اندر ٹیکوں کے کورس کو مکمل کرلیا جائے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay