کچھ عرض کروں گر اجازت ہو!!!

imran-khan

|تحریر: شرجیل ارشد|

ابھی کچھ روز پہلے کی بات ہے۔ چاروں اطراف سے آواز آرہی تھی ووٹ کوعزت دو، کبھی تبدیلی آگی ، ووٹ اپنوں کا ہونا چاہیے۔ یوں محسوس ہوا جیسے عوام کا ان سے سگا کوئی ہے ہی نہیں۔ جہاں یہ سب نعرے گونج رہے تھے وہیں دہشت گرد بھی سرگرم تھے۔

سراج رئیسانی اور ہارون احمد بلور جیسے رہنما اس دشت گردی کا نشانہ بنے  تو وہیں مستونگ دھماکہ ، اے پی ایس حملے کے بعد سب سے بڑا سانحہ قرار دیا گیا۔ جس میں تقریبا سو سےزائد افراد شہید ہوئے۔

ایک ماں نے تو  اس سانحہ  میں اپنے پانچ بیٹے بھی کھو دیے۔  یہ سب وہ تھے جو پاکستان کی خاطر گھر سے نکلے اور پھر کبھی واپس نہ لوٹ سکے۔ یہ سیاست دان بھی کوئی عام سیاست دان نہ تھے، جن  کا باپ اور جواں سال بیٹا بھی انھیں دہشت گروں کے ہاتھوں بزدلہ حملوں میں شہید ہوئے جبکہ یہ خود بھی ملک دشمن عناصر کی بزدلانہ کارروائی کےنتیجے میں شہید ہوئے۔

خیر بات ملک کی تاریخ اور آنے والے کل کی ہے، انتخابات  ہوگئے اور اس سے قبل ہونے والے سرویز کے مطابق پنجاب میں ممکنہ طور پر ن لیگ کو اکثریت ملنی تھی جو ملی، خیبر پختونخوا میں دوبارہ تحریکِ انصاف نے کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی سندھ میں اپنی فتح برقرار رکھی۔ یوں جماعتیں اپنے قلعوں میں مضبوط اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب رہی۔

پنجاب میں حکومت سے مراد یعنی آدھا ملک آپ کا۔ کیونکہ یہاں سے قومی اسمبلی میں بھاری اکثریت شامل ہوگی۔  یعنی اگر ن لیگ پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو مضبوط اپوزیشن کے طور پر سامنےآئے گی۔

سنہ ۱۹۸۸ میں بینظیر کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے وفاق میں حکومت قائم کرتو لی تھی مگر اپوزیشن میں موجود جماعت نے پوری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ بظاہر دونوں جماعتیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر آزاد امیدواروں کو اپنی پارٹی میں شامل کر رہی ہیں جسکا ثبوت فیس بک اور ٹوئیٹر کے تصدیق شددہ اکاونٹس پر پوسٹس ہیش ٹیگز کے ساتھ سجی نظرآتی ہیں۔ اگرتحریکِ انصاف پنجاب میں حکومت قائم نا کرسکی تو اپوزیشن کا پلڑا بھاری رہے گا۔

عام انتخاب میں بہت سی چیزیں کھل کر سامنے آگئیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ عوام پرانے چہرے دیکھ دیکھ کر تھک چکی ہے۔ دوسرا عوام سے کیے گئے وعدے محض ایسے ثابت ہوئے جیسے ایک عاشق اپنی عشق کی انتہا پر اپنی لیلہ کو آسمان سے چاند تارے توڑ کر قدموں میں رکھنے کے دعوئے کرتا ہے۔

شروع میں لیلہ کا عشق بھی عروج پر ہوتا ہے۔ عاشق کی ہر بات پر لبیک کی صدائیں لگاتی ہے۔ کچھ عرصہ گزرجانے کے بعد آنکھوں سے عشق کےبادل چھٹنا شروع ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے واپسی کا کوئی راستہ موجود نہیں ۔ باقی زندگی اسی دونمبر عاشق کے ساتھ گزارنی ہے تو خیال آتا ہے کاش اماں کی بات مان لیتی۔ یہی حال کراچی کی عوام اور یہاں کے ٹھیکے داروں کا ہے۔

انتخابات تو گزر گئے مگر اب بھی دھاندلی دھاندلی کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ اسبلمی کا بائیکاٹ کرنے والے ایک سیٹ تک نہ چیت سکے۔ یہاں ایک بات قابلِ ذکر ہے۔ حالیہ الیکشن میں بڑے بڑے برج گر گئے جبکہ یہ تمام کے تمام نئے چہروں کی محنت ہے یا اگر یوں کہیں  کہ واقعی تبدیلی آگئی تو غلط نہ ہوگا۔

بعض حضرات کو اپنی ہار کا یقین تک نہیں آرہا کیونکہ سیاست تو ماں کی گود میں ملی۔ بہرحال خدا ملک کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

وہ وقت ہمیشہ یاد رہے گا جب کامیابی کے بعد عمران خان کی ویکٹری اسپیچ سن کر دل باغ باغ ہوگیا تھا۔ شاید بڑے عرصے باد کسی نے ایسا خطاب کیا تھا۔جب عمران خان نے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے جو خواب دیکھایا امید ہے کہ پورا بھی کریں گے۔

خان صاحب اپنی  ۲۲ سالہ جدوجہد کے بعد داد لینے کے مستحق ہیں۔ آج انکے ووٹرز جوان ہوگئے ہیں۔ آج انکے ووٹرز نے انہیں اپنا لیڈرچند لیا ہے۔ یہ محنت یہ لگن ایک پروفیشنل کھلاڑی کی نشانی ہے۔ وہ جواس بات کو جانتا ہے کہ ا اگرآج ہار ملی ہے تو کل محنت کے ساتھ کامیابی یقینی ہے۔ وہ کبھی حوصلہ نہیں ہارتا وہ ایک سچا کھلاڑی ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ عمران خان اس بات پر پوری طرح کھرا اترے ہیں۔

اب چونکہ عمران خان متوقع طور پر وزیراعظم بننے والے ہیں تو چند باتوں کا خیال ایسے کریں جیسے بلڈ پریشر کا مریض نمک اور شوگر پیشنٹ میٹھے  سے ، وہ جانتا ہے یہ نمک محض نمک نہیں اسکی زندگی کے لیے زہر ہے۔ اگر استعمال کیا تو اپنے پیاروں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور ہوجائےگا۔  اگر آپ واقع ہی دلوں میں جگہ بنا کر رکھنا چاہتے تو برائے کرم اپنے گزشتہ سالوں کے دیے گے بیانات سنیئے۔ آج اپ انھیں لوگوں میں گھیرے ہیں جنہیں آپ کبھی اپنا چپڑاسی رکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔

وہی برادران جنہیں آپ نے سب سے بڑا چور قرار دیا تھا، جن سے تنگ آکر آپ نے کرپشن کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تھا۔ آج آپ سے ہاتھ ملاتے نظر آتے ہیں۔ یقینا یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں حکومت سازی کے لیے اکثریت کی ضرورت ضرور ہے۔ مگر قوم کو دیکھائے گئے خواب کو یاد رکھیے گا۔

عوام کی نظریں آپ پر ہیں۔ تقدیر بدلنے کے لیے خواب دیکھنا پڑھتا ہے اورجو خواب دیکھتا ہے وہی پورا کرنے کی حوصلہ بھی رکھتا ہے۔ ایک صدی بعد آج آپ نے اس سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا ہے۔یہ عوام اپنے حلقوں سے کھڑے ہونے والے امیدواروں کو توشاید نہیں جاتی تھی مگرانہیں تبدلی کا نشان بلا ضرور یاد تھا۔

انتخابات کی شفافیت پر کوئی اس غریب عوام کو کہاں شک ہوگا۔  پروپیگنڈے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ آج عوام جیت گئی ۔ یہ بھوکی ننگی عوام ستر سالوں سے کسی معجزے کے انتظار میں تھی۔ آپ کے ووٹرز جوان ہیں مگر پریشان ہیں۔ اپنے وعدوں کو ضرور پورا کیجیے گا۔ عوام بھی جانتی ہے یہ ستر سالہ گند پانچ سال کی ایک دھلائی میں صاف نہیں ہوگا۔ یہ چور، ڈاکو لٹیرے ملک پر گدھ کی ماننداقتدار سنبھالے بیٹھے تھے۔ وہ گدھ جن کا مقابلہ مشکل نہیں نہ ممکن تھا۔ ملکی سیاست ، سیاست نہیں خاندانوں کی وراست بن چکی تھی۔ یقین جانیں یہ کرسی عوام کے کسی کام کی نہیں۔ ستر سال سے عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔اب ان میں مزید برادشت کی ہمت نہیں رہی۔

اس قوم کو خواب دیکھے بڑی دیر ہوگئی۔ آج آپ نے اقبال کے بعد خواب دیکھا یہاں کوئی جناح موجود نہیں اب اس قوم کے جناح بھی آپ ہی ہیں۔  کرسی چھوٹی چیز ہے عوام  آپ کو اپنے سر پر تاج بناکر بیٹھائے گی۔ عوام کو آپ پر پورا یقین ہے اور اداروں پر بھی۔ اگر ملک کی خاطر یہ سلیکشن ہے تو یہ بھی عوام کو قبول ہے۔ یہ عوام خوب واقف ہے۔

جنھیں گزشتہ ادوار میں منتخب کیا وہ اپنی سات نسلوں کو سنوار گئے مگر ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا گئے۔ عوام آپ کی خوبیوں سے  باخوبی واقف ہے ۔ آپ کرپشن کی بو دور سے سونگھ سکتے ہیں۔ آپ ملک کی بنیادیں مضبوط  کردیں۔ آپ جواب میں وہ پائیں گے جو شاید ترکی کے صدر کی بھی حسرت ہو۔ عوام کی دعا ہے کہ آپ اپنے دیکھائے خواب اور کیے  وعدوں پر پورا اتریں۔  ورنہ یہی عوام گڑھے مردے اکھاڑنے میں دیر نہیں کرتی۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay