قوم کے بہادر سپوت میجر طفیل محمد کا 60واں یومِ شہادت

Major Tufail Muhammad

مادرِ وطن ک لیے  جان کا نزرانہ  دینے والے قوم کے بہادر سپوت میجر طفیل محمد کا  60واں  یومِ شہادت آج  نہایت  عقیدت اور احترام سے منایا  جا  رہا ہے ۔

پاک فوج نے ہر دور میں وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے جرات و بہادری کی ان گنت داستانیں رقم کی ہیں۔

میجر طفیل محمد شہید کا شمار قوم کے ان جاں باز سپوتوں میں ہوتا ہے جہنوں نے وطن کی آن بان ، شان اور حفاظت کیلئے جان کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا۔

قیام پاکستان کے بعد پاکستان فوجی افسروں اور جوانوں نے تعداد میں کم ہونے کے باوجود اپنے سے کئی گنا زیاددشمن کے  دانت گھٹے کیے  دشمن کو اس قدر مغلوب رکھا کہ اس نے کبھی بھی جارحیت کی جرت نا کی،قیام پاکستان کے سرحدی علاقے لکشمی پور میں بھارت نے زبردستی قبضہ کرلیا،جس کے بعد ہندو سمگلروں نے سرکاری سرپرستی میں سمگلنگ شروع کردی،جس سے پاکستان کی معیشت کو نقصان ہو رہا تھا،اس کی روک تھام کے لئے میجر طفیل شہید کو کو مامور کیا گیا ،جس کے بعد میجر طفال نے سر پر کفن باندھ کر اپنے چند غیور جوانوں کے ہمراہ دشمن سے شدید لڑائی کے بعد اپنا علاقہ واپس لیا۔

میجر طفیل شہید کے والد کا نام چوہدری موج دین تھا،جو کہ ایک دین دار اور صاحب علم شخص تھے،چونکہ ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا تو ان کو مذہبی تعلیم دی گئی۔1930 میں انہوں نے ایف اے کیا،انھوإں بڑے   ذوق و شوق سے1932 میں فوج میں شمولیت اختیار کی،1943 میں کمیشن حاصل کیا 28 مارچ 1945 میں ان کی صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں کیپٹن بنادیا گیا۔

14 اگست 1947 کو جب پاکستان کو آزادی نصیب ہوئی  تو بطور کیپٹن  ان کو میجر کے عہدے پر فائز کردیا گیا۔اس کے بعد انہیں 1958کو ایسٹ پاکستان رئفلز میں تعینات کیا گیا۔جہاں انہوں انڈیا کی سرحد پر ایک معرکہ لڑا۔معرکہ لکشمی پور آج بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔

اگست 1958 کی ابتدا میں انہیں چند بھارتی دستوں کا صفایا کرنے کا مشن سونپا گیا جو کہ لکشمی پور میں مورچہ بند تھے، میجر طفیل محمد نے اپنی کارروائی کے لیے ایک منصوبہ بنایا اور 7اگست 1958ء کو دشمن کی چوکی کے عقب میں پہنچ کر فقط 15 گز کے فاصلے سے حملہ آور ہوئے

دشمن نے بھی جوابی کارروائی کی اور مشین گن سے فائرنگ شروع کردی، میجر طفیل چونکہ اپنی پلاٹون کی پہلی صف میں تھے اس لیے وہ گولیوں کی پہلی ہی بوچھاڑ سے زخمی ہوگئے تاہم وہ زخمی ہونے کے باوجود آگے بڑھتے رہے اور انہوں نے ایک دستی بم پھینک کر دشمن کی مشین گن کو ناکارہ بنا دیا اور خود جامِ شہادت نوش کر لیا ۔

شہید میجر طفیل کی لازوال قربانی  پر حکومت پاکستان نے ان کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز” نشان حیدر “  سے نوازا ۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay