سانحہ بلدیہ فیکٹری کو 6 برس بیت گئے

جانی نقصان کے لحاظ سے ملکی تاریخ کےسب سے بڑے صنعتی سانحے ، سانحہ بلدیہ فیکٹری کو 6 برس بیت گئے ہیں ۔

کراچی کی بلدیہ فیکٹری میں مبینہ طور پر بھتہ نہ دینے کے نتیجے میں آگ لگا دی گئی تھی،11 ستمبر 2012 کو حب روڈ پر واقع فیکٹری میں اس انسانیت سوز واقعے میں 250 سے زائد افراد کوزندہ جلایا گیا۔

اس واقعے کو 6 سال گزر گئے ٹربیونل بھی بنے اور جے آئی ٹی بھی بنی لیکن ملزمان آج بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں سانحہ بلدیہ کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہے کیس کے 720 گواہوں میں سے 150 کے بیان ریکارڈ ہو چکے ہیں ۔ عبدالرحمن بھولا اور زبیر چریا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ایم کیو ایم کے رہنما رؤف صدیقی ضمانت پر رہا ہیں جبکہ اس سانحہ کے اہم ملزم حماد صدیقی کے ریڈ وارنٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں ۔

خیال رہے کہ واقعے کا مقدمہ پہلے سائٹ بی تھانے میں فیکڑی ملکان شاہد بھائیلا اور ارشد بھائیلا سائٹ لمیٹڈ اور سرکاری اداروں کے خلاف درج کیا گیا تھا تاہم 6 فروری 2015 کو رینجرز نے عدالت میں رپقرٹ جمع کر وائی جس میں بتایا گیا کلفٹن سے ناجائز اسلحہ کیس میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی جس کی وجہ فیکٹری ملکان سے مانگا گیا 20 کڑور بھٹہ تھا ۔

سانحہ بلدیہ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کراچی میں ان کے ناموں سے منسوب دیوار بنادی گئی۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay