بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض کو شکست دینے والی باہمت خواتین

[mashshare]
pink-ribbon

تحریر : عنبر حسین سید

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بریسٹ کینسر کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے یکم اکتوبر سے پنک ربن مہم چلائی جارہی ہے جوکہ اکتوبر کے پورے ماہ جاری رہے گی ۔

اس مہم کو چلانے کا مقصد معاشرے میں  اور خاص کر  خواتین میں  اس مرض کے  حوالے سے  شعور اور آگاہی بیدا کرنا ہے  ۔ اک عام تاثر ہے کہ کینسر لا علاج ہے جبکہ  یہ  بلکل  غلط سوچ ہے ۔

دنیا میں  ایسی بہت سی خواتین ہیں  جنھوں نے نا صرف  بریسٹ کینسر  جیسے خطر ناک مرض سے مقابلہ کیا بلکہ  اس  مرض کو شکست بھی دی ۔

ممتاز 

بندیا چمکے گی  چوڑی  کھنکے گی  جیسے  مشہور گانے میں  اپنی  اداکاری کےجوہر دیکھانے  والی   بھارتی فلم انڈسٹری کی   مشہور ومعروف اداکارہ ممتاز  کو 2000 میں  بریسٹ کینسر کی  تشخیص ہوئی اور  انھوں  نےاپنی  ہمت اور  بہادری سے اس مرض کا مقابلہ کیا۔اور اس مرض کو شکست دی ممتاز کا کہنا ہےکہ  : میں  اتنی  آسانی  سے  ہار نہیں  مانتی  ،مو ت تک کو مجھ سے لڑنا پڑے گا۔

Mumtaz

پلوشہ یوسف

سائرہ شہروز  کی  چھوٹٰی بہن معروف ہیئر اسٹائلش اور ماڈل پلوشہ یوسف نے بھی بریسٹ کینسر جیسے خطرناک مرض کو شکست  دی ۔21 سالہ  پلوشہ یوسف نے بہت بہادری سے  اس موذی مرض کا مقابلہ کیا اوراب وہ  ایک  صحت مند زندگی  گزار رہی ہیں ۔

Palwasha Yousuf

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا

قومی اسمبلی کی سابق اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بھی کینسر جیسے موذی مرض سے لڑکر اسے شکست دی ۔
ان کا کہنا ہے کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اس جان لیوا مرض میں مبتلا ہیں تو انھوں نے ہمت اور حوصلے سے یہ لڑائی لڑنے کا فیصلہ لیا۔انھوں نے اپنے علاج کے دوران دوبڑی بین الاقوامی کانفرنس سارک اور ای سی او کی میزبانی بھی کی ۔

ان کا کہنا ہےکہ بریسٹ کینسر کو لے کر کچھ غلط فہمیاں ہیں جو معاشرے میں پھیلا دی گئی ہیں ۔جیسے یہ مرض لا علاج ہے ،یہ متاثرہ شخص سے دوسرے کو لگتا ہے ،یہ مرض ایک مخصوص عمر میں لاحق ہوتا ہے اور زیادہ تر لوگوں کی سوچ ہے کہ یہ صرف بڑی عمر کی خواتین ہی کو ہو سکتا ہے جوکہ بلکل غلط ہے ۔
اس لیے لازمی ہے کہ ناصرف بریسٹ کینسر بلکہ ہر طرح کے کینسر کے حوالے سے لوگوں میں مکمل شعور اور آگاہی پیدا کی جائے اور اس کے لیے تعلیم کو عام کیا جائے ۔

Fahmida Mirza

 

مارٹینا ناوراٹیلوا

بین الاقوامی ٹینس کھلاڑی مارٹینا ناوراٹیلوا کو سن 2010 میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی  ۔انھوں نے سرجری  اور ریڈی ایشن تھراپی کے زریعے  اس مرض سے  نجات پائی اور آج  ایک  صحت مند  زندگی بسر کر رہی ہیں ۔

Martina-Navratilova

 

 

کائیلی مینوگ

آسٹریلیا کی مشہور گلوگارہ  اور ٹیلی ویژن  اداکارہ  کائیلی مینوگ کو بھی  ڈاکٹرزنے سن 2005 میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کی  تھی  جس کے بعد انھوں نے  ہمت  اور جرات مندی سے اس مرض کا  کامیاب علاج  کیمو تھراپی  کے زریعے کروایا  ۔

اس وقت کائیلی بریسٹ کینسر  کے حوالے  سے  شعور  اور  آگاہی  عام کرنے کی  مہم کی  سرگرم کارکن ہیں  ۔ بریسٹ کینسر کے لیے ان کی  خدمات  کے نتیجے میں  انھیں  اعزازی  ڈاکٹریٹ آف ہیلتھ اینڈ  سائنسز کی  ڈگری بھی دی  گئی ہے۔

Kylie-Minogue

 

انجلینا جولی

بریسٹ کینسر کے حوالے سے ہالی ووڈ اسٹارانجلینا جولی کا کہنا ہےکہ وہ  سب  خواتین  جن کے خاندان میں  بریسٹ کینسر سے  متاثرہ کوئی خاتون ہے  تو انہیں جلد از جلد اپنا ٹیسٹ کروانا چاہیے  اور اگر  ان کو بریسٹ کینسر جیسے مرض کی تشخیص ہوجائے تواپنے علاج کا فیصلہ  خود  اور جلد لیں اور اس فیصلے پر کسی کو  اثر انداز ہونے نہ دیں ۔خیال رہےکہ   ڈاکٹرزنےانجلینا جولی کو بتایا تھاکہ  ان کو  بریسٹ کینسر ہونے کا 87 فیصد خطرہ ہے جس کے بعد انھوں  ایک جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے  اپنی  سرجری کروائی جوکہ  کامیاب ہوئی۔

Angelina-Jolie

اس لیے  آپ بھی  شرمائیں نہیں ۔۔۔ بات کریں بروقت تشخیص  اور  علاج سے  اس مرض پر  قابو پایا  جا سکتا ہے  ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay