پست ذہن مینجر نے باحجاب ملازمہ کو نوکری چھوڑنے پر مجبور کردیا

[mashshare]

کراچی: شہر قائد میں کام کرنے والی سافٹ ویئرکمپنی کے عہدیدار نے ذہنی پستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے ملازمہ کو حجاب ترک کرنے پر مجبور کیا اور بات نہ ماننے  کی پاداش میں ملازمت چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

سوشل میڈیا کی مقبول ویب سائٹ فیس بک پر متاثرہ لڑکی نے پوسٹ شیئر کرکے اپنی دوست کا سافٹ ویئرہاؤس کے بااختیار عہدیدار کا امتیازی اور تضحیک آمیز رویہ اور بعد ازاں حجاب لینے کی وجہ سے ملازمت سے نکالے جانے کا واقعہ بیان کیا۔

لڑکی نے لکھا کہ سافٹ ویئر بنانے والی معروف کمپنی کے مینجر نے متاثرہ لڑکی کو دفتر میں بلاکر کہا کہ آپ کے حجاب کی وجہ سے کمپنی کا ‘‘ امیج ’’ متاثر ہورہا ہے آپ کو اس کو ترک کرنا ہوگا۔

بات نہ ماننے پر اگلے روز دوبارہ مینجر نے بلاکر کہا کہ اگر آپ نے بات نہیں مانی تو مجھے کوئی سخت قدم اٹھانا ہوگا۔

ذہنی پستی کا شکار مینجر نے ملازمہ کو جبری برطرفی سے ڈراتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس دو راستے ہیں ۔ یا تو آپ ملازمت سے استعفیٰ دے دیں یا حجاب لینا ترک کردیں۔

سوشل میڈیا صارف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ حجاب ترک کرنے سے میری دوست نے منع کیا جس پر مینجر نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ آپ کسی اسلامی بینک میں ملازمت اختیار کریں اور اپنی موجودہ ملازمت سے استعفیٰ دیں۔

متاثرہ لڑکی نے مینجر سے کہا کہ آپ حجاب چھوڑنے یا پھر نوکری چھوڑنے کا اپنا حکم مجھے تحریری طور پر کاغذ پر لکھ کر دے دیں جس پر بااختیار عہدیدار نے انکار کردیا اور زبردستی ملازمت سے علیحدہ ہونے پرمجبور کیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے واقعے پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے امتیازی سلوک روا رکھنے پر کمپنی انتظامیہ اور مذکورہ مینجر پر شدید تنقید کی ۔

لوگوں کے ردعمل کے بعد کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جواد قادر نے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بڑی غلطی‘ ہوئی ہے ہم اس پر ’سخت شرمندہ‘ ہیں اور باحجاب ملازمہ کو نوکری چھوڑنے پر مجبور کرنے والے مینجر کو ملازمت سے فارغ کردیاہے ۔

جواد قادر نے اپنے بیان میں شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی سے معذرت کی اور ان کو نوکری پر بحال کرنے کی پیشکش بھی کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم واقعے کی شفاف انکوائری کرائیں گے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay