آپﷺ کا طرز زندگی بحیثیت سربراہِ ریاست اسلام

Hujra-Al-Masjed-Al-Nabawi

ترتیب و تدوین: عنبرحسین سید

نبی کریم ﷺ، خاتم النبین ﷺ ، شفیع المذنبینﷺ، انیس الغریبینﷺ اور رحمتہ للعالمین عرب کے ریگستان میں ایک غریب چرواہے کی حیثیت سے ہوں یا شام کے بازاروںمیں ایک تاجر کی حیثیت سے ،غارِ حرا کے اندھیرے میں عبادت اور مراقبے میں مصروف ہوں یا مکہ اور مدینہ میں ایک معلم کی حیثیت سے تبلیغ اسلام کاکام کر رہے ہوں یا پھر مکہ اور مدینہ میں ہی ایک معلم کے منصب پر فائز ہو کر تبلیغ اسلام کا کام سر انجام دے رہے ہوں یا مکہ کے فاتح سپہ لار ہوں آپﷺ کی ذات پاک ہر روپ میں ہمارے لیے مشعل راہ ہے ۔

ہمارے پیارے نبی ﷺزندگی کے تمام نشیب وفراز میں سادگی کا پیکر ہیں ، آپﷺاپنے آپ سے سچے ، اپنے ساتھیوں سے سچے اور سب سے بڑھ کر اپنے پروردگار سےسچے تھے ۔ بدلتے ہوئے حالت آپ ﷺ کو بدل نہیں سکتے تھے ، آپﷺنے ہر زمانے میں ہمیشہ شرم و حیا ،انکساری ، پاکیزگی نفس اور حسن سلوک قائم رکھا ۔

مدینے میں آپ ﷺ پر دوہری ذمہ داریاں تھیں آپ ﷺ دین کے اولین مذہبی رہنما تھے اور ساتھ ساتھ مدینے کی اسلامی ریاست کے سربراہ بھی تھے ۔ لیکن آپﷺ کے پاس نہ ہی کوئی محلات تھے اور نہ ہی اونچے اونچے ستونون والی عمارتیں تھیں اورنہ ہی کوئی دربان اور پاسبان تھے جو آپﷺ کی دنیاوی شان و شوکت کا مظاہرہ کرنے کےلیے پہرہ دیتے ہوں ۔

آپﷺ کی عظمت تو آپﷺ کی سادگی اور انکساری میں تھی ۔ آپﷺ عیش پرستی اور آرام کی زندگی سے ہمیشہ دور رہتے تھے اور کسی قسم کی شان و شوکت اور عشرت اور آسائش کے مظاہرے کو نا پسند فرماتے تھے ، اپنے آپ کو دوسروں سے برتردکھا نا میرے پیارے نبیﷺ کی شان ،شخصیت اور فطرت کے خلاف تھا ۔آپﷺ نے ہمیشہ سادگی اور انکساری کو ترجی دی اور اس ہی کا درس بھی دیا ،آپﷺ کے حجرے میں ایک چٹائی ،ایک مٹی کا گھڑا اور ایک کمبل ہوتا تھا ، آپﷺغریبوں اور مسکینوں کے درمیان اٹھنا بیٹھنا زیادہ پسند فرماتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ’الفقر فخری ‘ یعنی غربت پر مجھے فخر ہے ۔
ایک سربراہ سلطنت ہونے کے باجود آپﷺ معاشرے کے نیچے سے نیچے درجے کے لوگوں سے برابری سے ملتے کیونکہ ’وہ معاشرے سے چھوٹے اور بڑے کا فرق مٹانے کے لیے تشریف لائے تھے‘۔

آپﷺ کی شخصیت میں بے انتہا بزرگی ،شفقت اورخلوص تھا ،مدینہ میں آپﷺ نے حکومت کی ذمہ داریاں عقل مندی ،ہوشیاری،ایمانداری اور دیانتداری سے ادا کیں ، آپْﷺ کے نزدیک انسان کا ایمان اور اسکا تقویٰ ہی اسکی حیثیت اور بڑائی کا معیار ہے ۔

حضور ﷺ کا معمولی رہن سہن ، مزاج اور روزمرہ کی سادہ زندگی کا نمونہ بحیثیت بطور سربراہ ریاست تاریخ عالم میں ایک اعلیٰ مقام رکھتا ہے،آپﷺ کے پاس نہ تو کوئی باقاعدہ فوج تھی نہ کوئی پولیس کا محکمہ ،لیکن آپﷺ نے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی اور ان کی زندگیاں بدل دیں۔

آپﷺ کی زندگی تما م بنی نوح انسان کے لیے نمونہ ہے جس پر عمل پیراہو کر تمام انسان دنیا اور آخرت کی تمام بھلا ئیاں حاصل کر سکتے ہیں ۔آپﷺ کی 23 سال کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپﷺ دنیا کے سب سے زیادہ کامیاب پیغمبر اور رہنما تھے ۔ آپﷺ نے ہمیں اللہ تعالیٰ سے جوڑا ورنہ ہم بی بتُ پرست اور کفار ہی رہتے ۔ساری امتِ مسلمہ آپﷺ کی انتہائی حسان مند اور شکر گزار ہیں ۔

 بحوالہ کتاب : پیغمبر محمد مصطفیٰ ﷺ کی  زندگی اور شخصیت 

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay