تمھاری مسکراہٹیں یاد کرکے جی بہلا لیتے ہیں!!!

|تحریر: طٰہٰ جلیل|

ترتیب  و تدوین : عنبرحسین سید

دسمبر کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو ملک کے ماضی سے جڑیں کچھ یادیں تازہ ہوجاتی ہیں اور چمن کے وہ پھول یاد آجاتے ہیں جن کی خوشبو سے فضا معطر رہتی تھی اور زندگی میں تازگی کا احساس تھا ۔

سال 2014 کا دسمبر اور 16 تاریخ ،جب آرمی پبلک اسکول پشاور کے بچوں اور ان کے والدین ، خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ ایسا ہولناک واقعہ رونما ہوا جس نے پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والے حقیقی انسانوں کی روحوں تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

کچھ سال پہلے ہی کی تو بات ہے جب 16 دسمبر کا سورج طلوع ہوا، کون جانتا تھا کہ یہ اپنے غروب ہونے سے پہلے ایسی تلخ یادیں دے جائے گا جس سے ہر سال کا آنے والا دسمبر شرمندہ ہوگا ۔ شاید خدا کے دربار میں دسمبر بھی دعا گو ہوگا کہ مجھے پلٹنے نہ دینا اس دن کی طرح جب حیوانوں نے پھولوں کے سبز و سفید باغ کو روند کر اس کو سرخ رنگ میں تبدیل کردیا تھا۔

منگل کا وہ دن تھا جس روز ماؤں نے محبت سے سینچے ہوئے اپنے گلستان کے پھولوں کو سبز و سفید لبادے میں سجایا اور بچوں کو ان کے والد ، بھائیوں اور بہنوں کے ہمراہ اسکول کی جانب روانہ کیا ۔ اس وقت ان کے تصور میں بھی نہیں تھا ان ننھے بچوں کا یہ سفر ان کی درس گاہ کے مقتل گاہ بننے پر ختم ہوگا ۔ بچوں نے بھی گھر سے اسکول تک کا راستہ شاید نت نئے تصورات اور خیالات میں کھوکر گزارا ہوگا۔

اسکول جاتا ہوا کوئی ننھا بچہ پائلٹ بن کر فضاؤں میں اڑ رہا ہوگا، تو کوئی مسیحا کا روپ اختیار کرکے کسی مریض کا علاج اپنی حسین مسکراہٹ سے کر رہا ہوگا ، شاید کسی نے سائنسدان کا روپ دھارا ہوا ہوگا اور قدرت کے رازوں سے پردے اٹھانے کا خواب بن رہا ہوگا، تو کوئی فوجی بنا محاذ پر قوم کے دشمنوں کے سامنے ڈٹا ہوا ہوگا۔ بچے ایسی ہی کئی سوچوں کے ساتھ اٹہلاتے ہوئے ،کچھ شاید منہ بسورے اور کچھ شوخیاں کرتے ہوئے اسکول پہنچیں ہوں گے۔ لیکن وہ بے خبر تھے کے درندوں نے ان کو اپنی سفاکیت کا نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔

صبح 10 بجکر 30 منٹ پر جدید اسلحے سے لیس ، خودکش جیکٹس پہنے ہوئے ، خودساختہ ہتھیاروں کے ساتھ چھ وحشی دیواریں پھلانگ کر اسکول کے احاطے میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس سے اسکول میں بھگدڑ مچ گئی۔ دہشت گردوں کے حملے کے وقت ایک ہزار کے قریب طلبا اور اسکول کا عملہ درس گاہ کے احاطے میں موجود تھا۔ انتظامیہ نے مستعددی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ننھے کلیوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کی اور اس دوران اپنی زندگیوں کی قربانیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کیا اور قوم کے معماروں کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔

حملے کے وقت اسکول کے وسط میں قائم آڈیٹوریم میں طلبا فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ میں مصروف تھے ۔ وہ سیکھ رہے تھے کہ کس طرح سے کسی کی زندگی کو بچایا جا سکتا ہے ، انجان تھے کہ کچھ ہی لمحوں بعد اپنے ہم جماعتوں کے لیے سیکھے ہوئے سبق کی مشق کرنا پڑے گی ۔

آڈیٹوریم میں اسکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی بچوں کو فرسٹ ایڈ کی تربیت دی رہیں تھیں کہ اچانک دہشت گردوں نے ہال میں داخل ہوکر بے دریغ فائرنگ شروع کردی۔ اس موقع پر شاید جنت کے میزبانوں نے بہت احتیاط سے ان کلیوں کو اپنی بانہوں میں سمیٹا ہوگا کہ ان کو کہیں کوئی چوٹ نہ لگ جائے لیکن انسانوں کے لبادے میں آئے وحشی جانوروں نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلبا کو گولیوں سے چھننی کردیا اور ان کے سامنے ان کی استانی کو زندہ جلا دیا جس نے اپنے سپوتوں اور بچوں سے وفا نبھاتے ہوئے ان سے جدا ہوکر فرار کا راستہ اختیار کرنے کو ٹھوکر ماری اور اپنے شاگردوں کے دفاع میں ڈٹی رہی اور شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئی۔

حملے کے محض چند ہی منٹوں کے بعد ہی پاک فوج کا خصوصی دستے قوم کے معماروں کی مدد کو پہنچ چکا تھا۔ ایس ایس جی کمانڈوز نے زبردست حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے معصوم جانوں کے ضیاع کا بدلہ لیا اور چن چن کر اسکول کے احاطے میں داخل ہونے والے تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا ۔ آپریشن کے دوران 9 سو سے زائد طلبا اور اسکول کے عملے کو بحفاظت نکالا گیا۔ حملہ آوار اس قوم کو کچلنے آئے تھے جن کے آباؤ اجداد نے جان و مال اور عزتوں اور خون کا نظرانہ دیکر ملک پاکستان کی تعمیر کی تھی ۔

اس واقعے نے جہاں پوری قوم کو افسردہ کردیا وہی ننھے بچوں کی شہادت نے مختلف ٹکڑوں میں بٹی ہوئی قوم کو ایک مرتبہ پھر ایک لڑی میں پرو کر دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار کردیا ۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ردالفساد شروع ہوا جس کو سول انتظامیہ اور عوام کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔

یہ واقعہ متاثرہ خاندانوں کو ایسا گہرا زخم دیکر گیا جس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔ افسوسناک واقعے میں 150 سے زائد جانیں ہمیشہ کے لیے اپنے پیاروں سے دور ہوگئیں۔ جام شہادت نوش کرنے والوں میں ایک سو پینتیس معصوم بچے شامل تھے جن کے ماں باپ ، ان کے بہن بھائی اور دوست آج بھی ان کی راہ تکتے ہیں اور ہر سال جب 16 دسمبر کی تاریخ آتی ہے تو شاید مائیں دہلیزوں کو تکتے ہوئے کہتی ہیں ’’لوٹ بھی آؤ کیوں ستاتے ہو‘‘۔ اور باپ کہتے ہوں گے!!۔

’’ہم تم کلیوں کی جدائی میں روز تڑپتے ہیں

شب بھر تکیہ میں منہ چھپائے روتے ہیں

چپ سادھ کرکوشش کرتے مسکرانے کی

اور تمھاری ماں کو بھی دلاسے دیتے ہیں

کبھی تنہائی میں بے ساختہ مسکرادیتے ہیں

تمھاری مسکراہٹ یاد کرکے جی بہلا لیتے ہیں‘‘

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay