سال 2018 اور ملکی معیشت

business

ترتیب و تدوین : عنبر حسین سید

سال 2018 اب ختم ہونے کو ہے یہ سال کسی کے لیے بہت اچھا رہا اور کسی کے لیے بہت برا رہا ۔ ویسے تو ہر سال کسی کے لیے بہت زیادہ اچھا اور کسی کے لیے بہت زیادہ برا ثابت ہوتا ہے مگر 2018 معیشت کے لیے کیسا رہا یہ بڑی بات ہے کیونکہ کسی ملک کی ترقی کا دارومدار اس کی معیشت پر ہوتا ہے ۔

اگر پاکستانی معیشت کی بات کریں تو اس کے لیے یہ سال ملا جلا رہا تو آئیں سال 2018 کے اختتام میں ایک نظر ڈالتے ہیں 2018 پاکستانی معیشت کے لیے کیسا رہا؟

جون 18 20 میں ختم ہونے والے مالی سال جولائی 17 تا جون 18 میں شرح نمو ایک دھائی کی بلند ترین سطح پر رہی۔ جبکہ جولائی 2018 سے دسمبر کی کارکردگی نے پریشان تھی ۔
30 نومبر امریکی ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا۔ انٹربینک تبادلہ مارکیٹ میں ڈالر 139 کی بلند ترین نفسیاتی حد تک پہنچ گیا ۔

22 نومبر کو سونےکی قیمت گزشتہ 7سال کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی ایک تولہ سونا400روپےاضافےسے62900روپےکاہوگیا اور سال کے اخر میں سونا 68 ہزار روپے فی تولہ ہو گیا۔

رواں برس سعودی نے ہر ماہ 1 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں جمع کرواتے ہوئے سال کے اختتام پر2 ارب ڈالر بھیجے۔ تاہم یہ رقم تین فیصد شرح سود پر جمع کراوئی گئی ہے۔ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر دینے کے ساتھ خام تیل کی خریداری کے ادائیگی میں تاخیر کی سہولت بھی دی ہے۔

روپے کی قوت تبادلہ متاثر ہوئی ہے کیوں کہ مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ ذخائر جو سال کے آغاز پر 14 ارب ڈالر تھے وہ کم ہوکر 8ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔

نومبر 2018 تک ملک کی درآمدات کے مقابلے میں برآمدات زیادہ رہیں۔نومبر2018 تک دنیا بھر سے 52 ارب ڈالر کی اشیا خریدیں گئیں ۔ پاکستان کی ایکسپورٹس یا برآمدات محض 23 ارب ڈالر رہیں اور اس میں بیرون ملک پاکستانیوں کی بینک کے ذریعے بھیجے 19 ارب ڈالر ملا نے کے بعد بھی قریب پونے 17 ارب ڈالر کی کمی رہی ۔

2018 میں شرح سود میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا جو 4.25 فیصد بڑھ کر 10 فیصد ہوگیا۔پیٹرول کی قیمت کے ساتھ بجلی اور گیس کے نرخ میں بھی اضافہ ہوا ۔

یاد رہے کہ حکومت سال کے دس مہینوں میں 3710 ارب روپے قرض لے چکی ہے۔ جبکہ 2018 کے اختتام پر صور ت حال کچھ اس طرح سے ہے معاشی سرگرمیوں کے سمٹ جانے کی وجہ سے روزگار کے مواقع کم ہوئے اور حکومت کی آمدنی بھی متاثر ہوئی ہے۔

مگر پھر بھی امید پر دنیا حکومت کا کہنا ہے کہ جون 2019 تک کچھ بہتری کی امید کی جا سکتی ہے ۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay