پاکستان کرکٹ ٹیم نے سال 2018 میں کیا کھویا کیا پایا؟

[mashshare]
cricket

تحریر : بدیع الزماں ( نمائندہ نیوز ون)  

ترتیب  و تدوین : عنبر حسین سید

سال 2018 اپنی تمام تر رعنائیں اور دلفربیاں بکھیرنے کے بعد اب رخصت ہونے کو ہے ۔ اس کو تبدیلی سال کہا گیا کیونکہ اس سال پاکستانی سیاست میں جو ہلچل مچی وہ واقعی کسی تبدیلی سے کم نہیں تھی ۔

جس طرح ہر فیلڈ میں پر اس سال کے اچھے برے اثرات مرتب ہو ئے وہیں پاکستا ن کرکٹ کے لیے بھی یہ سال تبدیلی کا سال رہا۔تو پھر ایک نظر ڈالتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے سال 2018 میں کیا کھویا کیا پایا؟

سال 2018 میں جہاں نجم سیٹھی کے دور کا خاتمہ ہواوہیں احسان مانی کا راج شروع ہوا، چار سال بعد پی سی بی نے ایم ڈی کی خالی سیٹ پر برطانیہ میں مقیم رہنے والے وسیم خان کی خدمات حاصل کی۔

۔اب بات کرتے ہیں اپنی کرکٹ ٹیم کی کہ اس نے کیا گل کھلایا؟ توسب سے پہلے ذکر مختصرفارمیٹ کی کرکٹ یعنی ٹی ٹوئنٹی کرتے ہیں جہاں گرین شرٹ چھائے رہے جو بھی سامنے آیا سب کو ہرایا،سال کی شروعات سرفرازاحمد نے شکست اور اختتام فتح کے ساتھ آئی سی سی کی نمبرون ٹیم سے کیا۔

جنوری میں تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز میں پاکستان کو پہلے میچ میں شکست ہوئی مگر اگلے دونوں میچز گرین کیپس نے جیت کر سیریز دو ایک سے اپنے نام کی،اپریل میں ویسٹانڈیز کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔کمزور حریف کے خلاف شاہینوں نے اونچی اڑان بھرتے ہوئے سیریز میں وائٹ واش کامیابی حاصل کی۔جون میں اِسکاٹ لینڈ کے خلاف دو میچز بھی گرین شرٹ نے جیت کر سیریز میں فتوحات کی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔جولائی میں تین ملکی ٹی ٹوئنٹی سریز میں پاکستان نے فائنل میں آسٹریلیا کو شکست دے کر ایک اور سیریز کی چمکتی دمکتی ٹرافی پر قبضہ جمایا۔یو اے ای میں سرفرازالیون نے کینگروز کو دو ایک اور نیوزی لینڈ کے خلاف تین صفر سے سیریز جیت کر مسلسل چھَٹی سیریز اپنے نام کی۔

سال بھر پاکستان نے شارٹ فرمیٹ میں 19 میچز کھیلے ،17 میں فتح اور صرف 2 میں شکست ہوئی یوں سال کا اختتام ٹاپ پوزیشن سے کیا۔ بابر اعظم نمبرون بلے باز رہے۔فخرزمان نے سال بھر 576 رنز بنائے شاداب خان 19وکٹیں حاصل کر سکے۔

ون ڈے کرکٹ میں شاہینوں کی 2018 کی شروعات مایوس کن انداز میں کیویز کے دیس میں وائٹ واش شکست سے ہوئی پانچ صفر سے شکست میں بلے بازبری طرح ناکام ہوئے جولائی میں قومی ٹیم نے کمزور زمبابوے کے خلاف پانچ میچز کی سیریز میں وائٹ واش کامیابی سمیٹی اسی سیریز میں فخرزمان نے ڈبل سنچری اسکور کی اور وہ پاکستان کے پہلے بلے باز بن گئے۔
شاہیوں کا اگلہ امتحان ایشیا کپ تھا جس میں وہ فیل ہو گئے۔ روایتی حریف نے دونوں میچز میں شکست دے دی۔کمزور افغانستان سے بامشکل فتح سمیٹی پھر بنگال ٹائیگرکا جادو چلا اورگرین شرٹ شکست کے بعد خالی ہاتھ واپس لوٹ آئے۔

نومبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف تین میچز کی سیریز کا اختتام برابری پر ہوا، سال بھر پاکستان نے اٹھارہ میچز کھیلے 8 میں فتح 9 میں شکست ہوئی اورایک میچ بارش کی نذر ہوا۔
ایک روزہ کرکٹ میں سال کا اختتام پاکستان نے نمبر5پوزشن سے کیا، بابراعظم ٹاپ ٹین میں واحد بلے باز رہے جبکہ ابتدائی دس پوزیشن میں کوئی پاکستانی بالرجگہ نہ بنا سکا۔۔

بات ہو ں ٹیسٹ کرکٹ کی تو لال گیند سے پاکستان کی کارکردگی ناقص رہی۔ ہوم گراونڈ میں بھی ہار مقدر بنی ۔ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان نے آغاز کمزور آئرلینڈ کے خلاف کیا پانچ وکٹوں سے فتح سمیٹی۔دورہ انگلینڈ میں 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز ایک ایک سے برابر ہوئی ،یو اے ای میں آ سٹریلیا کے خلاف پاکستان نے ٹیسٹ سیریز ایک صفر سے اپنے نام کی۔

نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کا سیریز جیتنے کا خواب اپنے ہوم کنڈیشن میں بھی ادھورا رہا، کیویز نے دو ایک سے فتح سمیٹ کر سیریز میں تاریخی فتح حا صل کی ۔

سال 2018 کا آخری ٹیسٹ بھی سرفرازالیون یادگار نہ بنا سکی، جنوبی آفریقہ کی تیز اور باونسی ٹریک پر بلے باز پٹری سے اتر گئے، نتیجہ جنوبی آفریقہ نے چھ وکٹوں سے شکست سے دوچار کیا ، ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے شکست کے بعد کھلاڑیوں کوکھری کھری سنائی ۔

اظہرعلی کو خراب بیٹنگ کا جو منہ میں آیا بولا اور اسد شفیق کی بھی خوب کلاس لی ، کپتان بے بسی کی تصویر بنے سب خاموشی سے سنتے رہے اورآئی سی سی کی سال کے آخرمیں جاری ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستان ٹیم ساتویں نمبر پر رہی ۔

چلو جو ہوا مٹی پاو ،رواں سال پاکستان نے 7 کھلاڑیوں میں ٹیسٹ کیپ بانٹی مگر نتیجہ نہ بدلا۔ محمد عباس نے8 میچز میں38 اور یاسرشاہ نے 6 میچز میں37 وکٹیں حاصل کی۔

اب نیا سال نیا گراونڈ حریف ایک بار پھر جنوبی آفریقہ شکست ہوئی تو ایک اور سیریز ہاتھ سے جائے گی فتح کی صورت میں پھر تیسرا میچ فائنل ہو گاجس کے لیے بلے بازوں کو ہوش کے ناخن لینے ہو گے اور فیلڈرز کو کیچ تھامنے ہو ںگے اگر ایسا نہ ہوا تو شاہد پھر ہار گلے کا ہار نہ بن جائے۔اور ہاں یہ سیریز کپتان کا بھی امتحان ہو گئی۔پاس ہوئے تو ٹھیک فیل ہوئے تو ہو سکتا ہے ٹیسٹ کپتانی کو بھی لگ جائے بریک۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay