پاکستان ٹیم کی جنوبی آفریقہ میں عبرتناک شکست نے ٹیم سلیکشن کا پول کھول دیا

PakVSa

تحریر : بدیع الزماں ( نمائندہ نیوز ون )

پاکستان ٹیم کی جنوبی آفریقہ میں عبرتناک وائٹ واش شکست نے ٹیم سلیکشن کا پول کھول دیا۔

جنوبی آفریقہ کے خلاف سیریز ختم ہوئی تو کھلاڑیوں نے سکھ کا سانس لیا۔ سرفرازالیون کو اس طرح کی شکست کی امید نہ تھی مگر کچھ ایسا ہوا کہ جواب کسی کے پاس نہیں، ہیڈ کوچ، بیٹنگ کوچ اور بالنگ کوچ! سب ساتھ مگر بلے بازوں اور بالرز کو بتانے والا کوئی نہیں ۔آخرہم کب تک یہ کہہ کر جان چھڑاتے رہے گے کہ جنوبی آفریقہ میں ہمشہ پرابلم ہوئی ہیں اگر ایسا ہونا ہی ہے تو پھرکروڑو روپے کیوں خرچ کیے جاتے ہیں ، ہیڈ کوچ کیا سیکھا رہے ہیں؟ بالنگ کوچ کس مرض کی دواہے؟ کئی برسوں سے گرانٹ فلاور نے کونسا اسٹار بنا دیا؟یہ وہ سب وجوہات ہیں جو شکست کی وجہ ہیں۔

چیف سیلکٹر صاحب لاکھوں روپے ماہوار لیتے ہیں اور ٹیم پرچی پر منتخب ہوتی ہے۔ ڈومسٹک کرکٹ میں پرفام کرنے والوں کو آخرکب تک نظرانداز کیا جائے گا۔کہاں گیا عثمان صلاح الدین، سعد علی، میر حمزہ اور افتخاراحمد؟ بس ساتھ رکھا، باہربٹھایا اور پھر مکمل باہر ہی کر دیا۔

ایسے میں امام الحق کو دیکھ لیجیے ، دس اننگز میں ناکام مگر ہر میچ میں ٹیم کا حصہ ۔ انضمام صاحب نے ٹیم سلیکٹ بھی کی تو تین کھلاڑی ان فٹ تھے مگر ساتھ لے گئے فخرزمان کو۔ ٹی ٹوئنٹی کے بعد اتنا بڑا سٹار بنا دیا کہ ان سے اب دس رنز بنانا مشکل ہو گئے۔ اور ہاں ڈومیسٹک کرکٹ میں اسکور کرنے والوں کو دیکھنے والا ہی کوئی نہیں ،وسیم حیدر اور وجاہت واسطی کہیں نظر آتے ہیں مگران کو ٹیلنٹ نظرنہیں آتا یا پھر چیف صاحب کے سامنے بولنے سے ڈرتے ہیں ؟ایسا کب تک چلتا رہے گا۔

پچھلے تین سال میں ہمارے بلے باز صفراٹھارہ سنچریاں بنا سکے۔ بھارت کو دیکھے تو اتنے عرصے میں انہوں نے 53 سنچریاں اسکور کیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیسٹ کرکٹ کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا حال بھی بے حال ہو جائے۔ میرا تو بس اتنا سوال ہے کہ آخرکب رنز بنائے گا اسد شفیق؟ کب اسکور کریں گا اظہرعلی ؟کون سا میچ ہو گا جس میں کپتان کیپٹن اننگز کھیلے گا، بلے باز تو ناکام ہوئے ہی بالرز نے بھی کوئی تیر نہیں مارا۔

عباس کو انجری کے باوجود اِن کیا گیا عامر میں اب وہ دم خم نہیں رہا اور حسن علی تو دس اوور زکے بعد ہانپ جاتا ہے ایسے میں یہ درجنوں کا کوچنگ اسٹاف کیا کر رہا ہے کوئی پوچھنے والا ہے ؟ان سے نہیں مکی آرتھر نے ٹیم میں اتنی سیاست کر دی ہے کہ نہ پوچھے پھر شکست کے بعد ڈریسنگ روم کی باتیں ۔۔۔۔۔۔آخر کون ہے جو ایسا کرتا ہے ،کپتان بھی دل برداشتہ ہے، لگتا تو یہی ہے کہ یہ سیریز کپتان کی حیثیت سے سرفراز کی آخری ہو گی۔

اس کے بعد قومی ٹیم کی اگلی سیریز اب ستمبر میں ہے ،اس سے قبل کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ،جن کو شائقین اسٹار سمجھتے ہیں انہوں نے ایک اننگز بھی ویسی نہیں کھیلی ، اب سوال یہ ہے کہ قومی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں کیا کرنا ہو گا جب ہم اگلی سیریز میں سات ماہ بعد میدان میں اتریں گے تو سنیئر کھلاڑیوں اظہر علی ،اسد شفیق یا سرفراز پر اعتماد کرسکتے ہیں کیونکہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ مسلسل شکست کے بعد ایک دو کامیابیاں سب کچھ بھولا دیتی ہیں۔

ایسا ہی اگر ہوا تو پھرذمہ داری کون قبول کرے گا ؟ جیت میں تو سب کی واہ واہ ہوتی ہے شکست پر کوئی بھی سامنا نہیں کرتا۔ بورڈ بھی نیا ہے چیئرمین صاحب بھی کرکٹ کو سمجھتے ہیں آخرکب تک ایسا ہوتا رہے گا۔

مجھے تو ڈر ہے کہ مکی آرتھرٹیم کا حال ویسا ہی نہ کر دے جیسا انہوں نے جنوبی آفریقہ اور آسٹریلیا کا کیا تھا۔ٹیسٹ سیریز تو ختم ہوئی ،اگلی آزمائش ہے ون ڈے کرکٹ !یہاں گرین شرٹس کو بدلہ لینے کا اچھا موقع ہے اگر یہاں بھی نتیجہ خلاف ہوا تو پھراس کا اثر آنے والے ورلڈکپ میں بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ شکست کسی کو برداشت نہیں ۔

لگتا تو یہی ہے کہ جنوبی آفریقہ کے دورے کے بعد سرفرازاحمد خود ہی ٹیسٹ کرکٹ کی کپتانی چھوڑ دیں گے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ سرفرازاحمد کی اپنی پرفامنس بھی خراب رہی اس کے بعد انہوں نے بالرز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کچھ کھلاڑی ان سے ناراض بھی ہیں اب ہیڈ کوچ کا رویہ بھی ان کے ساتھ ویسا نہیں رہا مگر ہم کب تک اس بات کو روتے رہے گئے کہ مصباح اور یونس نہیں۔۔ٹیم کو مصباح اور یونس کے اعصاب شکن رویے سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔

بھارت کی مثال سامنے ہے جس نے آسٹریلیا کو ان ہی کے ملک میں شکست دے کر تاریخ رقم کی ۔آخر گرین شرٹس ایسا کب کریں گی؟ اپنی کنڈیشن میں بھی خراب پرفامنس ،غیر ملکی سرزمین پر بھی ناقص حکمت عملی آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ ایک اور بات ایک دو میچز کی پرفامنس پر کھلاڑیوں کو تینوں فارمیٹ میں کھیلانا کب تک چلتا رہے گا نوجوان شاہیں آفریدی کو تینوں فارمیٹ کھلا کر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی کئی ایسا نہ ہو کہ دو چار میچز کے بعد وہ بھی ان فٹ ہو کر سائیڈ لائن ہو جائے۔

ہر شکست کے بعد اگلی سیریز میں فتح کے دعوے چھوڑ کر اگرکھیل پر توجہ دیں تو جیت بھی مل سکتی ہے مگر جنوبی آفریقہ میں کھلاڑیوں کی باڈی لنگویج سے یہ ہی تاثر ملا کہ وہ ہار نےکے لیے ہی میدان میں آئے ہیں ۔

میں و حیران و پریشان ہوں کہ پینتیس سال کا اسٹین ایک سو چالیس سے زائد کی رفتار سے بالنگ کر سکتا ہے تو تئیس سال کا حسن علی کیوں نہیں؟ وجہ یہ ہے کہ چار سو وکٹیں حاصل کر کے بھی اسٹین صرف فاسٹ بالر ہے جبکہ چالیس وکٹیں لینے والے حسن کو ہم نے پہلے ہی سپر اسٹار بالر بنا دیا ۔

پسند ناپسند کو چھوڑکر ہیڈ کوچ اور چیف صاحب ٹیم پاکستان کا سوچے ۔یہ جیتے گی تو انعام آپ کو بھی برابر کا ملتا ہے۔اب تو سنا ہے کہ انضمام جی فروری میں امریکہ کی سیر کو جارہے ہیں وہاں نوجوان کھلاڑیوں کو کرکٹ کے گر بتائیں گے جبکہ اسی دوران پاکستان سپر لیگ کا میلہ جاری ہو گا۔

یہاں کھلاڑیوں کی پرفامنس کون دیکھے گا اس کا شاید کسی کو پتا نہیں۔۔ون ڈے سیریز میں شاہینوں کو پرفام کرنا ہو گا جو ہوا سو ا ہوا یہ وہ جملہ ہے جو ہر ہار کے بعد کہا جاتا ہے۔

ماضی کو بھول کر اگلے کومشن فتح کرنا ہے خدا کریں ایسا ہی ہو۔ شاہین انیس جنوری سے شروع ہونے والی ون ڈے سیریز میں میزبان ٹیم کو شکست دے کر روٹھے ہوئے شائقین کرکٹ کے چہروں پر مسکراہٹ لا سکے مگر اس کے لیے تینوں شعبوں میں حریف کو قابو کرنا ہو گااگرنتیجہ پھر ٹیسٹ جیسا ہوا تو مشکل آگے بھی ہو سکتی ہے ۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay