شہنشاہ ظرافت اور اکبر ثانی دلاور فگار کی 21 ویں برسی

dilawar-figar

اردو کے نامور مزاح گو شارر دلاور فگار کی آج 21 ویں برسی منائی جا رہی ہے ۔

دلاور فگار اپنی بے ساختہ شاعری کے ذریعے محفل کو زعفران زار بنا دیا کرتے تھے اسی وجہ سے انہیں شہنشاہ ظرافت اور اکبر الٰہ آباد ی ثانی بھی کہا جاتا تھا ۔
دلاور فگار 8جولائی 1929ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری کی ابتدا سنجیدہ غزل سے کی جس کا ایک مجموعہ حادثے کے عنوان سے اشاعت پذیر بھی ہوا۔

انہوں نے نے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942 میں کیا۔ بہت جلد انھیں مولوی جام نوائی بدایونی اور مولانا جامی بدایونی جیسے اساتذہ کی صحبت اور رہنمائی میسر آئی جس نے ان کی صلاحیتوں کو نکھار دیا۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے قصبے بدایوں ہی میں حاصل کی اور بعدازاں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (اکنامکس) کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔

اپنے کیرئیر کا آغاز دلاور فگار نے ہندوستان میں درس و تدریس سے کیا اور ہجرت کرکے کراچی آنے کے بعد عبداﷲ ہارون کالج میں بحیثیت لیکچرار کچھ عرصے تک اردو پڑھائی، جہاں فیض صاحب پرنسپل ہوا کرتے تھے۔

فگار صاحب کو صرف شاعری پر ہی نہیں نثر پر بھی عبور حاصل تھا مگر ان کی شہر ت ایک مزاح گو شاعر کے طور پر ہی ہوئی۔ پہلی مرتبہ جب انھوں نے دہلی میں اپنی نظم ’’شاعراعظم‘‘ پڑھ کر سنائی تو ان کی مزاح گوئی کی دھوم مچ گئی اور پھر وہ وقت بھی آیا جب انھیں ’’شہنشاہ ظرافت‘‘ اور ’’اکبر ثانی‘‘ جیسے خطابات سے نوازا گیا جس کے وہ بلاشبہ بجا طور پر مستحق تھے۔اگرچہ دلاور فگار صاحب کی وجہ شہرت ان کی مزاحیہ شاعری ہی قرار پائی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ہمہ جہت قادر الکلام سخنور تھے۔

دلاور فگار کے مزاحیہ شعری مجموعوں میں انگلیاں فگار اپنی، ستم ظریفیاں، آداب عرض، شامت اعمال، مطلع عرض ہے، سنچری، خدا جھوٹ نہ بلوائے، چراغ خنداں اور کہا سنا معاف کرنا شامل ہیں اس کے علاوہ انہوں نے جمی کارٹر کی تصنیف کا اردو ترجمہ خوب تر کہاں کے نام سے کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے بعد انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا ۔

25 جنوری 1998 کو شہنشاہ ظرافت دلاور فگار اس دیارِ فانی سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو کر کراچی کے پاپوش نگر کے قبرستان میں ابدی نیند سورہے ہیں۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay