کپتانی کیلئے سرفراز احمد کا کوئی نعم البدل ہے تو بتادیں، وسیم اکرم

کراچی: سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ کپتانی کیلئے سرفراز احمد کا کوئی نعم البدل ہے تو بتادیں۔

سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان وسیم اکرم کا کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سرفراز احمد سےغلطی ہوئی ہے، انہوں نے معافی مانگ لی ہے لیکن ان کو ایسے ریمارکس نہیں دینے چاہیے تھے۔

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ امید ہے سرفراز احمد اپنی غلطی سے سیکھیں گے لیکن ان کو ابھی یہ نہیں سمجھ آرہا کہ اگلا قدم کیا اٹھانا ہے۔ کپتانی آن فیلڈ کے بجائے آف فیلڈ بھی ہوتی ہے ۔ اس وقت ورلڈکپ سرپر ہے ایسے میں کپتانی کی تبدیلی کا وقت گزرچکا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ کسی بھی کھلاڑی پر تھوڑا بہت پریشر تو ہونا چاہیے اور ٹیم میں ایک وکٹ کیپر کے ساتھ دوسرا وکٹ کیپر ہونا چاہیے۔ سرفراز احمد سے غلطی ہوئی، سزا مل گئی اور کسی کوعلم نہیں سرفراز احمد وطن آنا چاہتا تھا یا اسے بلایا گیا ہے۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ سرفراز کی غلطی کو پوری دنیا میں ہم نے اجاگر کیا جبکہ سوشل میڈیا نے بار بار سرفراز کے جملوں کو دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرفراز احمد کی پابندی کے بعد کچھ لوگ خوش ہیں اور ہمیں شارٹ ٹرم کپتان نہیں لانگ ٹرم کپتان چاہیے۔

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ پی سی بی کو نائب کپتان مقرر کرنا ہوگا ، اب کپتان کی تبدیلی کا وقت نکل چکا ہے۔ پاکستان کو طویل مدتی کپتان چاہیے اور کپتانی صرف گراؤنڈ میں نہیں باہر بھی ہوتی ہے۔

سابق کرکٹر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ کپتان کو سب کچھ دیکھنا ہوتا ہے، پریس کا بھی سامنا کرنا ہوتا ہے اور کپتانی کیلئے سرفراز احمد کا کوئی نعم البدل ہے تو بتادیں۔

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ خراب کارکردگی پر کوچ کپتان کو لوری تو نہیں سنائیں گے اور ڈریسنگ روم کی خبریں باہر آنا درست نہیں ہے۔ کوئی ہارتا ہے تو لازمی بات ہے کوچ آپ کو برا بھلا کہے گا۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی غلطیوں سے سیکھ کر نئے میچ کی طرف جانا چاہیے اور ہار جیت گیم کا حصہ ہوتا ہے، آخری گیند تک مقابلہ کرنا چاہیے۔

وسیم اکرم کا شعیب ملک کے بارے میں کہنا تھا کہ ان کو کپتانی کا تجربہ ہے اور شعیب ملک کرکٹ کے اب اختتام پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سوچ رہا تھا کہ شعیب ملک کو کپتان کیوں نہیں بناتے ہیں اور اگر شعیب ملک کو کپتان بنانا تھا تو پہلے بنا دیتے۔

انکا کہنا تھا کہ شعیب ملک ورلڈکپ کے بعد نہیں رہیں گے جب کہ یونس خان اور مصباح الحق بہترین کرکٹر تھے۔

سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان وسیم اکرم کا پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے حوالے سے کہنا تھا کہ یہ پاکستانی لیگ ہے اسے بھرپور سپورٹ کرنا چاہیے ۔ ایونٹ کے 8 میچز پاکستان میں ہوں گے۔

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل میں بڑے اسٹار آئیں گے اور اس میں کوئی بھی ٹیم جیتے لیکن جیت پاکستان کی ہوگی۔

سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان وسیم اکرم کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے سلیکٹرز فواد عالم سے متعلق کچھ سوچیں گے جبکہ انہوں نے جنید خان کے بارے میں کہا کہ سنا تھا کہ وہ زخمی ہے لیکن  وہ بنگلادیش میں تو بہترین بالنگ کررہا ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay