علیم خان کا 15فروری تک جسمانی ریمانڈمنظور

https://youtu.be/TKCAJatb90M

لاہور : احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں اور آف شور کمپنی کیخلاف کیس میں پی ٹی آئی رہنماء کا 15فروری تک جسمانی ریمانڈمنظورکرلیا۔

لاہور کی احتساب عدالت میں جج نجم الحسن نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء علیم خان کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور آف شور کمپنی کیسز کی سماعت کی، سماعت میں نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ ، علیم خان اور انکے وکیل اظہر صدیقی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر نیب کے وکیل وارث علی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ علیم خان سرمایہ کاری،اثاثہ جات سےمطمئن نہیں کرسکے، علیم خان کاجسمانی ریمانڈدیاجائے۔ جس پر عبدالعلیم خان کےوکیل نےجسمانی ریمانڈکی مخالفت کردی۔

علیم خان کے وکیل اظہر صدیقی کا کہنا تھا کہ ان بنیادوں پرجسمانی ریمانڈنہیں بنتا،کمپنی کے878ملین کےاثاثہ جات ڈکلیئرکیےہیں،تمام اثاثہ جات قانون کےمطابق ریکارڈپرموجودہیں،سیاست کامقصدیہ نہیں تھاکہ حکومتی پیسےسےسب کچھ بنایا۔

وکیل نے مزید کہا کہ اےاینڈاےکمپنی کےنام پرپراپرٹی ہے،ہم878ملین کےاثآثےظاہرکرچکےہیں،
میری پیش کردہ دستاویزات کےعلاوہ نیب کےپاس ایک کاغذنہیں،وکیلعلیم خان کوسیاسی بنیادپرگرفتارکیاگیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2002سےشکایت نہیں آئی،اختیارات کاکوئی غلط استعمال نہیں ہوا، انہوں نےبس ایسےہی کیس بنادیاہے،یہ تمام چیزیں ٹیکس ریکارڈمیں بھی شامل ہیں۔

بعدازاں عدالت نےنیب کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے علیم خان کو 15فروری تک جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب ادارے کے حوالے کردیا۔

علیم خان کا عدالت میں بیان

سماعت کے دوران صوبہ پنجاب کے سابق سنیئر وزیرعلیم خان نے کمرہ عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیب نےکل جب بلایامکمل تعاون کیا،جوسوالنامہ مجھےدیاگیاوہ3سوالات پرمشتمل تھا،جودستاویزات نیب نےمانگیں انہیں مہیاکیں۔

علیم خان نے عدالت کو بتایا کہ ڈیڑھ گھنٹےمسلسل تفتیش کی اورسوالات پرسوالات کیے، میں نےتمام سوالات کاجواب دیاجن کاعلم نہیں تھاوقت مانگا،نیب نےکہاچیئرمین نیب ناراض ہوگئےآپ کوگرفتارکرناہوگا،کوئی بھی ایسی دستاویزنہیں دکھائی گئی جس سےگنہگار ثابت ہوسکوں۔

علیم خان کی پیشی کےموقع پراحتساب عدالت کے باہرسیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ، راستوں کوکنٹینرزاورخاردارتاریں لگاکربندکردیاگیا جبکہ سیکریٹریٹ اورایم اوکالج کی جانب سے آنے والے راستے بند تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثوں کی تفتیش کیلئے علیم خان کو طلب کیا تھا جہاں انہیں گرفتار کرلیا گیا، تاہم گرفتاری کے بعد علیم خان نے سینئر صوبائی وزیر بلدیات کی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

مزید پڑھیے : نیب نے پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو گرفتار کرلیا

نیب لاہور کے مطابق علیم خان نے بطورسیکریٹری پارک ویوآپریٹوسوسائٹی اختیارات کاناجائزاستعمال کیا، جبکہ انہوں نے رکن اسمبلی کی حیثیت سےبھی اختیارات کاناجائزاستعمال کیا۔

نیب کا کہنا ہے کہ علیم خان نےپاکستان،بیرون ممالک میں آمدن سےزائداثاثےبنائے،علیم خان نےلاہور،مضافات میں اےاینڈاے کمپنی،900 کنال اراضی بنائی،علیم خان نے600کنال اراضی کی خریداری کیلئےرقم بھی اداکی۔

نیب لاہور کے مطابق 2005اور2006میں یواےای،برطانیہ میں متعددآف شورکمنیپاں قائم کیں،علیم خان کی جانب سےریکارڈمیں مبینہ ردوبدل بھی کیاگیا،علیم خان پوچھےگئےسوالات کاجواب نہ دے سکے،تسلی بخش جوابات نہ ملنےپرعلیم خان کوگرفتارکیاگیا۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay