معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کی دوسری برسی

کراچی : پاکستان کی ممتاز وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر کی آج دوسری برسی منائی جارہی ہے۔

غیرمعمولی صلاحیتوں کی حامل شخصیت عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی 1980 میں لاہور کورٹ اور 1982 میں سپریم کورٹ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر بنیں عاصمہ جہانگیر کو جنرل ضیاالحق کی حکومت کے خلاف احتجاج اور بحالی جمہوریت تحریک کا حصہ بننے کے پاداش میں 1983 میں جیل بھیجا گیا2007 میں پرویز مشرف کے دور میں وکلا تحریک میں سرگرم عمل بننے پر نظر بند کیا گیا۔

انھوں نے مشترکہ طور پر ہیومن رائٹس کمیشن اور وومنز ایکشن فورم کی بنیاد رکھی پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے خدمات پر انھیں 2010 میں ہلالِ امتیاز اور ستارہ امتیاز دیا گیا ۔

عاصمہ جہانگیر کو 2014 رائٹس لائیولی ہوڈ ایوارڈ اور 2010 فریڈم ایوارڈ کے علاوہ اقوام متحدہ کے ادارے یونسیکو کی جانب سے بھی ایوارڈ سے بھی نواز گیا، اس کے علاوہ عاصمہ جہانگیر کو 1995 میں انسانی حقوق پر کام کرنے کی وجہ سے رامون میگ سے ایوارڈ بھی دیا گیا جسے ایشیا کا نوبیل پرائز تصور کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ نےعاصمہ جہانگیر کو انسانی حقوق 2018 کے ایوارڈ سے نوازا۔ معروف سماجی کارکن 2005 میں نوبل امن انعام کے لئے بھی نامزد ہوئی تھیں۔

قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ناقابل فراموش کردار ادا کرنے والی جمہوریت کی دلیل اور وکیل ہمیشہ کے لیے 13 فروری 2018 کو خاموش ہوگئیں ۔

قانون و انصاف، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گیں ۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay