ماں! ہم بھی تمہارے ہی بچے ہیں۔۔۔

[mashshare]

تحریر: رضا حیدر نقوی

ماں ۔وہ ہستی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔۔ بچہ چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہوجائے ۔۔ماں کی گود اس کوعمر کے ہر حصے میں وہی سکون فراہم کرتی ہے ۔۔جس کا احساس اسے دنیا میں آتے ہی ماں کی گود میں جانے کے بعد ہوتا ہے۔۔ ماں کی محبت وہ ہے جس کی مثال اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کو سمجھانے کے لیے دی۔۔کہ خدا ہر انساaن سے سترماؤں    کے برابر پیار کرتا ہے۔

 کہتے ہیں کہ ریاست بھی ایک ماں کی طرح ہوتی ہے جو اپنے اندر بسے ہوئے ہر طبقے، ہر رنگ، ہر نسل اور ہر زباں کے فرد سے برابر محبت کرتی ہے۔۔ لیکن ہمارے ملک کی ستر سالہ تاریخ اُٹھا کردیکھ لیں تواسی ریاست ِ پاکستان میں اس کی اولادوں کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے اگر وہ بیان کیا جائے تو ہر ماں کی مامتا پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

واقعات اور سانحات تو ان گنت ہیں جن کا نوحہ سنتے ہوئے بھی ہم بے حسی سے اپنے کان بند کرلیتے  ہیں لیکن کچھ واقعات ایسے بھی ہیں جن کو فراموش کربیٹھیں تو یہ یقین ہوجاتا  ہے کہ انسانیت کا وجود بھی ڈائناسار کی نسل کے ساتھ ہی ختم ہوگیا۔

 8جون 2011، ایک نوجوان لڑکا‘سرفراز شاہ’ جس کی موت  ریاست کی مامتا کہ منہ پر کسی تمانچے سے کم نہیں تھی۔اُس کا قصور کیا تھا آج تک پتہ نہ چل سکا،اسے شہر کے بیچ و بیچ ماردیا جاتا ہے۔۔ گولی لگنے کے بعد بھی وہ ریاست سے رحم کی بھیک مانگتا ہے کہ اسے اسپتال پہنچادیا جائے اور بھیک مانگتے ہوئے اس کی موت ہوجاتی ہے،لواحقین کب تک کیس کی پیروی کرتے؟ جب ریاست ہی مجرموں کو انجام تک پہنچانے پر رضامند نہ تھی۔

وقت آگے بڑھتا ہے تو ماں کا رویہ اپنی ”کچھ اولادوں “ کے ساتھ مزید نرم اور کچھ کے ساتھ مزید سخت ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال نقیب اللہ محسود کا قتل ہے۔ مایا ناز ان کا ؤ نٹر اسپیشلسٹ محترم جناب راؤ انوار صاحب جنہوں نے اس دھرتی ماں کے لیے لازوال خدمات انجام دیں ،جب ان کا نام نقیب اللہ کے قتل ملوث پایا جاتا ہے۔تویہا ں ہماری ماں کا امتیازی سلوک مزید واضح ہوجاتا ہے۔

 نقیب اللہ کا قصور اس کو خود بھی نہیں پتہ تھا۔ کیونکہ اس ریاست میں کچھ لوگوں کے لیے محبت کے تقاضے اور ہیں اور عام شہریوں کے لیے اور۔پہلے تو نقیب اللہ محسودکو بیت اللہ محسود ٹہرانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے لیکن جب اس کی تصاویر سوشل میڈیا پرگردش کرنے لگتی ہیں  تو اس ماں کے کچھ اور بچے شور مچانا شروع کرتے ہیں کہ یہ قتل دہشتگرد کا نہیں بلکہ  انسانیت کا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام کے متحرک ہو نے کے  بعد  پھر ادارے حرکت میں آتے ہیں اور تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ نقیب اللہ محسود کو جعلی مقابلے میں مارا گیا، نقیب اللہ کے قتل سے پہلے اس کو تین دوستوں کو حراست میں لیا گیا اور تین دن بعد علی اور قاسم کو بھاری رشوت کے بدلے رہا کیا گیا۔لیکن نقیب ”ماں کے لاڈلوں“ کی شرارت کی بھینٹ چڑھ گیا۔

اس تمام تر صورتحال میں مرکزی ملزم جناب محترم راؤانوار صاحب روپوش ہوئے اور ایسے روپوش ہوئے کہ کسی کو نہ مل سکے۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان کے از خود نوٹس کے بعد اچانک ایک دن اپنی مرضی اور منشاءسے راؤ انوار نے ”گراؤنڈ“ بنانے کے بعد گرفتاری دے دی۔

 اس واقعے نے ہماری ماں کی محبت میں فرق مزید واضح کردیا تھا۔ ایک طرف ریاست کا ایک بچہ بے دردی سے قتل کردیا جاتا ہے۔جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، جس کا کوئی جواب طلب کرنے والا نہیں ہوتا، جس کو نافرمان بچہ قرار دینے کے لیے ہر ادارہ بے تاب ہوتا ہے لیکن جب ہر طرف نقیب اللہ کی بے گناہی کا  شور اُٹھتا ہے تو پھر سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ریاست کا لاڈلہ بچہ اپنی مرضی کے مطابق خو د کو پیش کردیتا ہے۔ اور پھر، یہی راؤ انوار صاحب باعزت طور پر ریٹائر ہوجاتے ہیں۔۔ تحقیقات کا کیا ہے۔۔؟ وہ تو تاقیامت تک  چلنی ہیں۔

داستان طویل ہے لیکن کچھ بیاں کرناممکن نہیں۔۔ زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ ایک اور سانحہ نے ماں کی محبت پر سوال اُٹھادیا۔۔ لاہور کا ایک خاندان 19 جنوری کی صبح شادی میں شرکت کیلئے بورے والا روانہ ہوا جس میں دو مرد ایک خاتون اور چار بچے شامل تھے۔خدا جانے کس کم ظرف نے ”ماں کے لاڈلوں“ کو اطلاع دی کہ گاڑی میں سوار افراد میں سے کوئی ایک دہشتگرد ہے جس کے پا س جدید اسلحہ ہے۔”جانبازوں“ نے فوراََ کمر کس لی اور گاڑی کی تاک میں بیٹھ گئے۔ گاڑی میں موجود ”دہشتگردوں“ کو دیکھتے ہی ”محافظوں“ نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی ، جس کے نتیجے میں تمام دہشتگرد اپنے انجام کو جاپہنچے۔ دہشتگردوں میں خلیل عمر 43 سال،اس کی37سالہ اہلیہ نبیلہ،13 سالہ بیٹی اریبہ خلیل اور 36 سالہ ذیشان جاں بحق ہو گئے جبکہ تین دہشتگرد خلیل کا بیٹا دس سالہ عمیر، سات سالہ بیٹی منیبہ اورچار سالہ جازبہ زخمی ہوئے۔

یہ کہانی بھی نقیب اللہ محسود کی طرح ختم کرنے کی کوشش کی جاتی لیکن کم بخت ماں کے کچھ باغی بچوں نے لاڈلوں کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا شروع کردیں۔ایک بار  پھر ایک گھر میں کہرام برپا ہوگیا۔۔ گھر کے لاڈلوں نے ایک بار پھر شرارت کرڈالی تھی۔ جن میں نہ صرف بڑے بلکہ بچی بھی جان سے گئی۔

 جب ماں نے محسوس کرلیا کہ بچے جان گئے ہیں کہ ظلم ہوا ہے تو اس واقعے پر بھی جے آئی ٹی بنادی گئی، اب اس کی تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں جن میں لاڈلوں کا کارنامہ ایک بار پھر واضح ہوتا دکھائی دے رہا ہے،داستان طویل ہے۔۔ کئی واقعات ایسے ہیں جن کی تفتیش کے بعد معلوم پڑا کے وہ محض واقعات نہیں،قومی المیہ ہیں۔

 شاہ رخ جتوئی کا مقدمہ کسے یاد نہیں؟ مرنے والا حقیر تھا اور مارنے والا لاڈلہ۔ اس لئے آج بھی شاہ رخ جتوئی جیل میں وہ زندگی گزار رہا ہے جو ایک غریب اپنے گھر میں گزارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔کیونکہ اس ملک میں یا تو لواحقین کو مقتول کی قیمت لینی پڑتی ہے یا پھر معاف کرنا پڑتا ہے۔

 سرفراز شاہ کے بعد نقیب اللہ اور اس کے بعد خلیل اور اس کا خاندان۔ یہ سلسلہ آخرتھمنے کا نام کیوں نہیں لیتا؟ صرف اس لئے کہ سرفراز شاہ کے قاتلوں کو اگر عبرت ناک سزا دے دی جاتی، تو آج پھر ریاست کے لاڈلے بچے اتنے بے قابو نہ ہوتے۔

لیکن آج تک کسی بھی مقدمے کا ایسا فیصلہ سامنے نہیں آسکا جو ظلم کرنے والوں کے لیے نشان عبرت بن سکے۔ لیکن سرفراز شاہ کے خاندان نے بھی شاہ زیب کے ورثا کی طرح مقدمے کی پیروی چھوڑ دی یا ان کو چھوڑنی پڑگئی۔

جب ملک میں ایسے واقعات ہونا غیر معمولی نہ سمجھا جائے تو پھر آج کی صورتحال کو بھی غیرمعمولی کہنا غلط ہوگا۔ آج جو تحریکیں جنم لے رہی ہیں ان کے پیچھے بھلے دشمن کا ایجنڈا بھی ہو،لیکن ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اس ایجنڈے کو سہارا ریاست کے رویے نے دیا ہے۔ جب تک یہ رویہ صحیح نہیں ہوگا  ،ایسی تحریکیں اٹھتی رہیں گی،چلتی رہیں گی، ایسے واقعات اور سانحات ان افراد کے بیانئے اور مقاصد کو تقویت بخشتے ہیں جو ہمارا گھر توڑنا چاہتے ہیں۔

 گھر میں سب سے اہم کردار ماں کا ہوتا ہے لیکن جب ماں کی محبت بٹ جاتی ہے تو گھر میں سکون قائم نہیں رہ سکتا۔ جب ماں کے لیے اس کی کچھ اولادیں بے ضرر اور بے معنی ہوجاتی ہیں،   تو پھر گھر میں محبت ، امن اور انصاف کی توقع کرنا بے وقوفی ہے۔ جن بچوں کو ماں نظر انداز کردیتی ہے پھر وہ ماں اور گھر دونوں سے باغی ہوجاتے ہیں۔

 جو بچے ماں کی توجہ حاصل نہیں کرپاتے ان کا گھر اور اس کے نظام سے نفرت کرنا فطری ہے۔ پھر گھر میں موجود ہر بچہ اپنا حصہ مانگتا ہے، حق کا مطالبہ کرتا ہے اور نتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں دیکھنا پڑتا ہے۔ اسی صورتحال سے دشمن بھی فائدہ اُٹھاتا ہے اور وہی کردار ادا کرتا ہے جو بھارت نے مشرقی پاکستان کو توڑنے میں ادا کیا تھا۔ مجھ سمیت اس ریاست کا ہر فرداس دھرتی سے ، اپنی ماں سے شدید محبت کرتا ہے اور جواب میں محبت کا طلبگار ہے۔

آج کی صورتحال غیر معمولی نہیں ہے اس میں ریاست کی کچھ بڑی غلطیاں بھی ہیں اور دشمن کے کچھ ناپاک عزائم بھی۔ایسی غیریقینی فضاءکو ختم کرنے کی ذمہ داری موجوہ حکومت کی ہے۔ حکومت اپنے عمل اوراقدامات سے اس ملک کے ہر فرد کو یہ یقین دلائے کہ یہ ریاست ملک میں رہنے والے ہر فرد کی ماں ہے۔

یہاں کوئی ”لاڈلہ “نہیں ہے۔ میں بھی بحیثیت ایک پاکستانی اس وطن سے عشق کرتا ہوں۔لیکن مجھے اپنی ماں سے کچھ شکایات ہیں۔

‘ ماں’ سرفراز بھی تمہارا بیٹا تھا، نقیب بھی تمہارا خون تھا، ماں خلیل بھی تمہاری اولاد تھا، ہمیں تم سے پیار ہے۔۔ہمارا یقین کرو۔۔ہم باغی نہیں۔۔ہم متلاشی ہیں۔تمہاری محبت کے!کیونکہ ماں ہم بھی تمہارے ہی بچے ہیں۔۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay