بھارت کے سر پر جنگی جنون سوار، پاکستان اب بھی خطے میں امن کاخواہاں

blog

تحریر : عنبر حسین سید
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہےکہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور اس کی جانب سے ہمیشہ کوشش کی گئی کہ جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے۔۔ اور ہمسایہ ملک بھارت سے تمام معاملات مذاکرت کی میز پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ کر حل ہو جائیں مگر بھارت پر جنگی جنون اس حد تک سوار ہےکہ وہ بنا سوچے سمجھے جو منہ میں آرہا ہے بول رہا اور جو دل چاہ رہا ہے کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔

26 فروری کو بھارتی فضائیہ نے رات گئے لائن آف کنٹرول میں دراندازی کی۔ جس کے جواب میں گزشتہ روز پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے انڈیا کےدو لڑاکا طیارے مار گرائےاور 2 پائلٹ بھی گرفتار کر لیے ۔ اس کاروائی کا مقصد ہرگزخطے کا امن تباہ کر نا نہیں تھا بلکہ بھارت کو یہ بتانا تھا کہ پاکستان اپنے دفاع کی بھرپورصلاحیت رکھتا ہے ۔ اور وقت آنے پر دشمن کو اس کے گھر میں گھس کر مارنے سے بھی نہیں ڈرے گا۔ ساتھ ہی ایک اور پیغام بھی دینا تھا ،وہ یہ کہ تم تو بزدلوں کی طرح رات کے اندھیرے میں وار کرتے ہو لیکن ہم دن کے اجالے میں سینہ تان کے کارروائی کرتے ہیں ۔اس کارروائی کا مقصد بھارت کو صرف یہ بتانا تھا کہ پاکستان کے فوجی جوان اپنے اپنے محازوں پر اس سے مقابلہ کرنے اور اس کے ہر بزدلانہ حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار کھڑے ہیں ۔

آج ایک بار پھر صرف اور صرف خطے کی سلامتی ، سالمیت اور امن و امان کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو چاہیے تھوڑی سی عقل اور حکمت استعمال کرے ۔ جنگ شروع ہوئی تو نہ میرے کنٹرول میں ہوگی اور نہ نریندر مودی کے۔

پاکستان نے پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کو تحقیقات کی پیشکش کی تھی ، ہم بھارت سے پوری طرح تعاون کیلئے تیار تھے،ہم نے پہلے انتظار کیا پھر ایکشن لیا۔ ہم نے صرف اس لئے کارروائی کی کہ یہ بتانا مقصود تھا کہ ہم بھی کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں،دو بھارتی فوجی طیاروں نے ہماری حدود کی خلاف ورزی کی اور ہم نے ایکشن لیا،دہشت گردی پر مذاکرات کے لیے پاکستان آج بھی تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ جتنی بھی دنیا میں جنگی ہوئیں سب جنگوں میں غلط اندازے لگے، کسی نے نہیں سوچا کہ جنگ شروع کرکے کدھر جائیں گے، پہلے عالمی جنگ مہینوں کے بجائے سالوں میں ختم ہوئی، دوسری جنگِ عظیم میں بھی ایسا ہوا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے 17 سال افغانستان میں پھنسے رہنا پڑے گا۔

دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی ایک بار پھر انڈیا کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دیتے ہوئے نہایت مدبرآنہ انداز میں یہ بات ثابت کر دی کہ پاکستان کسی طور بھی جنگ کا خواہاں نہیں ہے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ انڈیا کی خود سری اور اس دیوانگی کا شکار خطے کے باسی بنیں ۔ جبکہ انڈین میڈیا چلا چلا کر پاکستان کو جھوٹا اور دہشت گرد ثابت کر نے پر تلا ہوا ہے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نےاپنی میڈیا بریفنگ میں یہ بات واضح کہی کہ آج کی کارروائی ملکی دفاع کے لیے تھی پاک فوج کے پاس صلاحیت ، عزم اور عوام کا ساتھ سب کچھ موجود ہے۔

انہوں نے بھارت کو خبردار اور ہوشیار کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے یقینی بنایا کہ ہمارے ٹارگٹ کے انگیج کرنے کے نتیجے میں کوئی انسانی نقصان نہ ہو،آج صبح پاک فضائیہ نے کنٹرول لائن کے پار چھ اہداف کو انگیج کیا ، ہم نے یہ کارروائی اپنے دفاع کیلئے کی ، خطے کی سلامتی کو داؤ پر نہیں لگایا ۔

میجرجنرل آصف غفور نے نہایت معقول اور بردبار انداز میں بار بار اس بات کو دہرایا کہ ہم اس خطے کو جنگ کی طرف نہیں لے جانا چاہتے ،ہم نے ذمہ داری کا ثبوت دیا ، دوسری جانب جھوٹا بھارتی میڈیا مسلسل جس ایف 16 طیارے کا ذکر کر رہا ہے اس کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی نے بتایا کہ پاکستان نے اس تمام کارروائی میں ایف سولہ طیارے استعمال نہیں کئے ،اس پوری کارروائی میں پاکستان کا کوئی ایف سولہ طیارہ نہیں مار گرایا گیا۔ جنگ میں کسی کی جیت ہار نہیں،انسانیت کی ہارہوتی ہے،ساری صلاحیت ہونے کےباوجود پاکستان کا پیغام امن ہے۔

اس تمام میڈیا بریفنگ میں ایک بات جو قابل غور تھی وہ یہ تھی کہ دشمن کے دو لڑاکا طیارے گرانے اور دو پائلٹ کو گرفتار کرنے کے باوجود پاک فوج کے اس افسر کے چہرے اور انداز میں زرا بھی غرور و تکبر نہیں تھا اور نہ ہی ان کے لہجے میں دشمن کےلیے تذلیل تھی البتہ عزم و ارادے کی پختگی ہر لفظ سے چھلک رہی تھی ۔

مگرطاقت کے جنون میں مست بھارت ایک بڑی جنگ کےلئے پر تول رہاہے،پاکستان نے ہر طرح سے کوشش کی ہےکہ نریندر مودی باز آ جائے مگر وہ باز نہیں آرہا۔ سواب پاکستان کےپاس جواب دینے کےسوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ اس کو یہ بار آور کروا دے کہ اگر اس نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کے سپوت ا س کی آنکھیں تو نوچ ہی لیں گےلیکن ساتھ ہی اس کا چہرہ ایسا مسخ کر دیں گے کہ خود اس کی پہچان میں نہیں آئے گا ۔

مودی سرکار پر جنگ کا بھوت صرف اپنی حکومت بچانے کے لیے سوار ہے ، ووٹ کی خاطر وہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں کیونکہ بھارت میں کئی ایسی تحریکیں موجود ہیں جن کا نظریہ یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف اُس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب تک وہ ختم نہیں ہوجاتا یابھوٹان اور بنگلہ دیش کی طرح بھارت کی ذیلی ریاست نہیں بن جاتا۔ نریندر مودی کو انتخابات میں اِن لوگوں کےووٹ درکار ہیں ۔ سو اس نے جنگ کا ماحول بنا دیا ہے تاکہ تشدد پسند ہندو اسے ووٹ دیں ۔ خیال ہے کہ امریکہ اس معاملہ میں مودی کی پشت پناہی کررہا ہے ۔ کیونکہ امریکہ یہ دیکھ رہا ہے کہ پاکستانی معیشت تیزی سے بہتری کی طرف گامزن ہے۔ جوکہ آنے والے وقتوں میں پاکستان کوایک طاقتور ملک میں بدل سکتی ہے۔

دوسری جانب آج کل پاکستان کو امریکہ کی ناراضگی کی زرا بھی پروا نہیں ، پاکستان چین اور روس کے ساتھ جاکے کھڑا ہوچکاہے امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کچھ ایسا ہوجائے کہ وہ دوبارہ امریکہ کو باپ بنا لے کیونکہ افغانستان سے وہ پاکستان کی مدد کے بغیر عزت سے باہر نہیں نکل سکتا ۔

ایک سینئر کالم نگار کے مطابق دونوں ممالک کی افواج کا جائزہ لیا تو پاکستان کی ساڑھے چھ لاکھ فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جنگ کا عملی تجربہ حاصل کر چکی ہے۔ پاکستانی فوج نے یہ جنگ جیتی بھی ہے اس کے مورال بھی بلند ہے۔ یہ جنگیں بھی دراصل بھارت کے ہی خلاف تھی کیونکہ خیبر پختونخواہ کے علاقہ میں دہشت گردوں کی سرپرستی بھارتی ایجنسی ’را‘ کررہی تھی۔

پاکستان فوج کے مقابلے زیادہ تربھارتی فوج کا لڑائی لڑنے کا کوئی تجربہ نہیں ۔اور ان کی آٹھ لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں ہے ۔ یاد رہے کہ بھارتی فوج کے حوصلے پہلے ہی پست ہیں ۔نہتے اور بے گناہ کشمیریوں پر ظلم کرنے والے بھارتی فوجی نفسیاتی مریض بن چکے ہیں ۔ بھارتی اخبار انڈیا ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق ہر سال بھارتی فوج کے سو سے زائد فوجی کیوں خود کشی کر لیتے ہیں ؟ وہ کیا وجوہات ہیں جن کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جارہا ہے کہ بھارتی فوج کسی بڑی جنگ لڑنے کے قابل نہیں۔

انڈیا کی یاد دہانی کہ لیے یہ بھی بتاتی چلوں کہ 74 سال قبل 6 اگست 1945 کو امریکی ایئر فورس بی 29 نے ایک ایٹم بم جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرایا جس کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ تین دن بعد ایک اور ایٹم بم ناگاساکی پر گرایا گیا جس میں 40 سے 80 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔آج تک ان جنگوں کے اثرات موجود ہیں ۔

بھارت بھڑکیں مارتے ہوئے بھول جاتا ہے کہ وہ اکیلا ایٹمی طاقت نہیں ہے بلکہ پاکستان بھی جوابی کاروائی کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔ لیکن پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے وہ انڈیا کی طرح جنگی جنون میں مبتلا نہیں ہے ۔ کیونکہ پاکستان جانتا ہےکہ خون اپنا ہو یا پرایا ہو۔۔۔نسل آدم کا خون ہے آخر ۔۔۔جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں ۔۔۔امن عالم کا خون ہے آخر ۔۔۔جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے ۔۔۔ جنگ کیا مسئلوں کا حل دےگی ۔۔۔آگ اور خون آج بخشے گی ۔۔۔بھوک اور احتیاج کل دے گی ۔۔۔ ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں۔۔۔کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے۔۔۔ فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ ۔۔۔ زندگی میتوں پہ روتی ہے ۔۔۔اس لئے اے شریف انسانوں۔۔۔جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے۔۔۔آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں ۔۔۔شمع جلتی رہے تو بہتر ہے ۔}ساحر لدھیانوی{

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay