نیب پرفرشتہ بھی بٹھادیں پھر بھی سیاسی انتقام لیا جائے گا، بلاول بھٹو

https://www.youtube.com/watch?v=ZF1A3LW2cZE

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ نیب پر فرشتہ بھی بٹھادیں پھر بھی سیاسی انتقام لیا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ آغا سراج درانی سے ملاقات کرنے کے لیے یہاں آیا تھا اور سندھ اسمبلی نے پاکستان کی قرارداد پاس کی تھی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی کا عہدہ پیپلز پارٹی کا نہیں اور اسپیکر ایوان کے ممبران کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے۔ آغا سراج درانی ملک کے سینئرسیاستدان ہیں اور آغا سراج درانی کو بغیر ثبوت گرفتار کیا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ آغا سراج درانی پر لگائے گئے الزامات کی مذمت کرتا ہوں اور آمدن سے اثاثے کا الزام کسی پر بھی لگ سکتا ہے۔ آغا سرانی درانی کی اسلام آباد سے گرفتار شرمناک عمل ہے اور گرفتاری کے بعد ثبوت تلاش کیے جارہے ہیں۔

پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے بعد گھر پر چھاپہ ظاہر نیب کے پاس ثبوت نہیں تھے اور چھاپے کا مطلب آغا سراج درانی کے گھر سے کچھ برآمد کرنا تھا۔ چھاپے کے دوران عورتوں، بچوں پر تشدد کیا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس نہیں لیا جبکہ چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ مشرف کے بنائے ہوئے ادارے نے آغا سراج درانی کو گرفتار کیا اور چیئرمین نیب افسران کا احتساب کریں ورنہ ہم کریں گے۔

انکا کہنا تھا کہ نیب کالا قانون ہے اور نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جائے۔ ہماری ناکامی ہے نیب میں اصلاحات نہیں لاسکے اور بی بی نے میثاق جمہوریت میں کہا تھا نیب کو ختم کرنا ہے۔

پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ نیب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے اور میرے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ سیاسی انجینئرنگ کے لیے مجھے کیس میں گھیسٹا جارہا ہے اور سابق چیف جسٹس نے کہا کس کے کہنے پر میرا نام جے آئی ٹی میں ڈالا گیا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس نے کہا بلاول بھٹو بے گناہ ہے جبکہ میرے اور وزیراعلیٰ سندھ کے لیے کوئی فیئرٹرائل نہیں رکھا گیا۔ کسی کو سنے بغیر سزا نہیں دی جاسکتی اور نیب پر فرشتہ بھی بٹھادیں پھر بھی سیاسی انتقام لیا جائے گا۔

انکا کہنا تھا کہ کسی کورٹ نے ہمیں نوٹس نہیں دیا اور سزا دے دی جبکہ آرٹیکل 10 کے تحت ہمیں فری ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ ہم پاکستان میں مضوط عدالتی نظام چاہتے ہیں اور چیف جسٹس نے کہا ہے کہ سچ کا سفر شروع ہورہا ہے۔

پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 3 بار منتخب وزیراعظم کو کوٹ لکھپت جیل میں ڈال دیا گیا اور این آئی سی وی ڈی میں مفت علاج کیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی جمہوریت، انسانی حقوق پر سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی 18ویں ترمیم پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور پولیس سے متعلق دیا گیا فیصلہ 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔ معاملے پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کیلئے سپریم کورٹ جارہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرکے پاکستان کو بچایا جائے اور وزیراعظم اپوزیشن کیخلاف بات کرسکتے ہیں کالعدم تنظیموں پر کیوں نہیں۔ الیکشن میں پی ٹی آئی کی سپورٹ کیلئے کالعدم تنظیموں کو لایا گیا اور کیا کالعدم تنظیموں کے ارکان کو اثاثوں پر گرفتار نہیں کیا جاسکتا؟

پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف جے آئی ٹی کیوں نہیں بنتی اور ایک وزیر کہتا ہے ایک کالعدم تنظیم کیخلاف ایکشن نہیں ہوگا۔ اپوزیشن کو قائل کیا جائے کہ کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی جاری ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 3 وزراء کو ہٹایا جائے پھر اپوزیشن مانے گی حکومت سنجیدہ ہے اور کالعدم تنظیموں کی حمایت میں ایک وزیر کی وڈیو بھی موجود ہے۔ وزیر خزانہ کام کرنے کے بجائے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہیں اور پیپلز پارٹی کو 3 بار کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کیا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ملکی تاریخ سب سے زیادہ ترقیاتی کام کیے جبکہ دھاندلی اور تشدد کے باوجود سندھ کےعوام نے ہمیں منتخب کیا۔ سندھ حکومت غربت کے خاتمے کے لیے پروگرام چلارہی ہے اور 18ویں ترمیم سے متعلق حکومت کو وارننگ دے دی ہے۔

پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ معاملے پر ہم سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں اور ہم جیل سے نہیں ڈرتے، جیل بھرو تحریک کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کا احتساب پیپلز پارٹی کا فرض ہے اور وفاقی حکومت سندھ میں ترقی روکنا چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سندھ کا حق بھی نہیں دیا جارہا ہے اور غیر جمہوری طریقے سے سندھ کو چھینا جارہا ہے۔ ہمارے خلاف سازشیں کرنے والے کامیاب نہیں ہوں گے اور جمہوریت کو احتساب سے کوئی ڈر نہیں ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتا رہوں گا اور افغان امن کے بغیر خطےمیں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں افغانستان میں امن قائم ہو۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay