آغا سراج درانی کے جسمانی ریمانڈ میں 10 دن کی توسیع

کراچی : احتساب عدالت نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے جسمانی ریمانڈ میں 10 دن کی توسیع کردی۔

آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر کراچی کی احتساب عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

 سماعت کے آغاز پر آغا سراج درانی نے عدالت کو بتیا کہ میری فیملی کو ملزم بنایا جارہا ہے،جس پر عدالت نے اسپیکر سندھ اسمبلی سے کہا کہ اپنے بارے میں بتائیں۔

آغا سراج نے کہا کہ مجھے ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھا ہوا ہے، نہ وہاں روشنی ہے اور نہ کوئی اخبار ٹی وی، گھر والوں سے نہیں ملنے دیا، میرے باورچی کو پکڑ لیا گیا ہے۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ باورچی کے اکاوئنٹ میں بڑی بڑی ٹرانزیکشن ہوئی ہیں اس لیے پکڑا ہے۔ ملزم نے پچھلی دفعہ شکایت کی تھی جس پر کمرے میں اے سی لگا دیا ہے، یہ 12 بجے اٹھتے ہیں، ناشتہ کرتے ہیں اور اخبار پڑھتے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم سے مزید تفتیش درکار ہے لہٰذا 15 روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ تاہم عدالت نے نیب کی 15 روز کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کا 10 روز کا ریمانڈ دیتے ہوئے جسمانی ریمانڈ میں تیسری مرتبہ توسیع کردی۔

گزشتہ سماعت میں آغا سراج درانی کے جسمانی ریمانڈ میں 21 مارچ تک توسیع کی گئی تھی، ان پر آمدن سےزائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

یاد رہے کہ 20فروری کو نیب کراچی نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں اسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی کوگرفتارکیا تھا۔

واضح رہے اپریل 2018 میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج کے خلاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی چھان بین ہوگی۔

سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف تین انکوائریز کا حکم دیا گیا تھا، جن میں آمدن سے زائد اثاثوں، غیر قانونی بھرتیوں اور ایم پی اے ہاسٹل، سندھ اسمبلی بلڈنگ کی تعمیر میں کرپشن شامل ہیں۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay