اسپتال انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے معصوم بچی مفلوج

[mashshare]

|تحریر : عنبر حسین سید|

ہمیں جب بھی کوئی تکلیف ہوتی ہے تو ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہے ہمارے ہر مرض کا علاج اسی کے پاس ہے۔  مجھے ذاتی طور پر یہ پیشہ بے حد پسند ہے کیونکہ ڈاکٹر مسیحا کہلاتے ہیں جو کسی بھی انسان کو بنا کسی رنگ نسل مذہب کی تفریق کے مرض سے نجات دلاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں اس پیشہ کو سب سے معزز اور قابل ستائش سمجھا جاتا ہے ۔

مگر گذشتہ رات ایک ایسا المناک واقعہ پیش آیا جس نے ہر ذی شعور انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر اسپتالوں میں بھی
غیرذمہ داری کی وجہ سے واقعات رونما ہونے لگے تو کہاں شفا ملے گی ۔

واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ کراچی کے نجی اسپتال دارلصحت کی گلستان جوہر میں واقع برانچ میں ڈاکٹرزکی مبینہ غفلت سے 9 ماہ کی بچی کادماغ متاثر ہوگیا ۔ 9 ماہ کی پھول جیسی ہنستی کھیلتی بچی نشوا کو ڈائیریا کی شکایت کے باعث کراچی کے نجی اسپتال میں لایا گیا ۔

کس کو معلوم تھا کہ یہ ننھی کلی جس نے ابھی صرف اس فانی دنیا میں محض 9 ماہ بتائے تھے وہ صرف ڈاکٹر اور اسپتال انتظامیہ کی غفلت کا شکار ہو کر معزور ہو جائے گی ۔

معصوم کلی ننھی سی گڑیا کہ والد قیصر نے جب میڈیا سے بات کی تو بتایا کہ وہ اپنی جڑواں بچیوں کو ڈائیریا کی شکایت کی وجہ سے اسپتال لیکر پہنچا۔ جہاں اسپتال کی انتظامیہ کی مبینہ غفلت سے اسکی بیٹی نشوا معذور ہو گئی ۔

بچی کے والد نے مزید بتایا کہ 3مختلف اوقات میں دونوں بیٹیوں کوڈرپس لگائی گئیں، جب بیٹیوں کو گھر لے جانے لگے تو نشوا کی طبیعت بگڑنے لگی۔ جب انہوں نے ڈاکٹر سے رجوع کیا تو ڈاکٹر سے جواب ملا کہ ایک رات اور رکیں صبح تک ٹھیک ہو جائے گی۔ صبح کے وقت نرسنگ اسٹاف آیااورڈرپ لگائی۔ بچی کےوالد نے دعویٰ کیا ہے کہ جوانجکشن 24 گھنٹے کے اندرجسم میں تحلیل کیا جاتا ہے وہ اسٹاف نے ایک ہی وقت میں لگا دیا جس کے لگتے ہی بیٹی کی حالت خراب ہونے لگی اورہونٹ پیلے پڑگئے۔

بچی کے والدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچی کی حالت غلط انجیکشن لگنے سے خراب ہوئی جس سے بچی کا دماغ مکمل مفلوج ہو چکا ہے۔ بچی کی طبیعت زیادہ بگڑی تو نشوارکورات ڈھائی بجے لیاقت نیشنل اسپتال منتقل کیاگیا ۔ ڈاکٹرز نے فوری طور پر بچی کو طبی امداد فراہم کی جس سے اس کی جان بچ گئی لیکن بعد میں معالج نے یہ افسوسناک خبر بچی کے والدین کو سنائی کے اسٹاف کی غفلت کی وجہ سے بچی کے دماغ کے خلیات کونقصان پہنچا ہے ۔ ڈاکٹرز نے حوصلہ افزا خبر یہ سنائی کے بچی کومہ میں نہیں گئی ہے ۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر نے لوگوں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ اسپتال نے بعد میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور تصدیق کی کہ بچی کی طبیعت غلط انجکشن لگنے کی وجہ سے بگڑی ۔ نشوا ایک ہفتے تک وینٹی لیٹرپراسپتال میں ہی ایڈمٹ رہی اور گزشتہ رات جب وینٹی لیٹر ہٹایا گیا تو بچی پیرالائز ہوچکی تھی۔

بچی کے والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسپتال کے عملے اور انتظامیہ کے خلاف غفلت برتنے کا پرچہ بھی کٹوادیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس نرسنگ اسٹاف نے بچی کو ڈرپ لگائی اس کا کام صرف بیڈسیٹ کرنایامریض کواٹھانابٹھاناہے۔غیرتربیت یافتہ عملے نے میری پھول جیسی بچی کومفلوج کردیا۔

آہ کیا گزری ہوگی والدین پر جب انہوں نے اپنی ہنستی کھیلتی کھلتی کلی کو یوں ڈاکٹرز کی غفلت کے ہاتھوں مرجھاتے دیکھا ہوگا ۔

ڈاکٹر ایک مسیحا اور یہ پیشہ عبادت کا درجہ رکھتا ہے یہ وہ پیشہ ہے جسے دنیا میں سب سے زیادہ اپنایا جاتا ہے اس پیشے سے لوگوں کی زندگیوں کی نئی امید وابستہ ہے لیکن آج کل یہ پیشہ صرف پیسہ بنانے کا ایک آسان ذریعہ تصور کیا جا تا ہے۔

ڈاکٹر کا کام انسانی زندگی کو بچانا اور درد سے نجات دلانا ہے مگر اب اس پیشے کو محض پیسے کمانے کا زریعہ بنا دیا گیا ہے۔ میری ڈاکٹر حضرات سے گزارش ہے کہ اس مقدس پیشے کو محض پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے خدمت خلق کا ذریعہ سمجھیں ۔

اس وقت لازم ہے کہ سندھ حکومت اور ہیلتھ کیئرکمیشن اس مجرمانہ غفلت پراسپتال انتظامیہ اور اس دردناک واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے تاکہ آئندہ کسی بابا کی لاڈلی کو غلط انجکشن لگا کر معذور نہ کیا جائے ۔

دوسری جانب کسی بھی نجی اسپتال کو لائسنس جاری کرنے سے پہلے درخواست گزار اور اس کے عملے کے تمام کوائف کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے کہ آیا مذکورہ اسپتال میں تربیت یافتہ عملہ اور ڈاکٹرز ہی کو بھرتی کیا گیا ہے ؟ میڈیکل اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے اپنے پیشے اور شعبے سے متعلق تما م ضروری معلومات اور اسناد حاصل کی ہیں یا نہیں ۔

وہ تمام ادویات جو مریضوں کو خصوصاً بچوں کو دی جاتی ہیں ان کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے کون سی دوا کس وقت اور کس مقدار میں دینا ہے ۔ خدارا ابھی وقت ہے اس جانب توجہ دیں کہ صحت کے شعبے پر کام کریں تاکہ اس طرح کا افسوسناک واقعہ مستقبل میں پیش نہ آئے ۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay