نیب اور حکومت مل کر کھیل رہے ہیں، خورشید شاہ

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ نیب اور حکومت مل کر کھیل رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ملکی معیشت کے حالات سب کے سامنے ہیں اور پہلے مسائل کی نشاندہی اپوزیشن کرتی تھی اب حکومت کررہی ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس آپ کے سامنے ہیں۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں اور دیا بھی ہے اور ملک کیلئےسوچنا ہے لیکن حکومت ایسا نہیں سوچ رہی۔ وزراء کے بیانات سامنے ہیں اور 2010 سے 2018 تک صوبے، وفاق خوش اسلوبی سے چل رہے تھے۔

انکا کہنا تھا کہ وفاق، صوبوں کو مضبوط کرنے والے 18ویں ترمیم کی مخالفت کررہے ہیں اور 2013 سے 2018 اور آج کا موازنہ کرلیں۔ 9 فیصد پر ایگری کلچر گروتھ چھوڑی تھی، آج 1.4 ہے اور نواز شریف نے جی ڈی پی کی گروتھ 5.8 چھوڑی تھی، آج 2.4 ہے۔

پی پی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈالر کی اڑان بےقابو ہوئی اور میرے جیسا وزیراعظم، وزیر خزانہ ہوتا تو استعفیٰ دے کر گھر چلا جاتا۔ ان کو اچھی معیشت ملی انہوں نے تباہ کردی۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے صورتحال خراب کی، اب کیا دودھ، شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں اور جو تجربے ماضی میں ہوتے رہے اس سے پاکستان کا ایک حصہ کھو دیا۔ نیب اور حکومت مل کر کھیل رہے ہیں اور حکومت جان بوجھ کر نیب پر تنقید کرتی ہے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں میں آمروں کی زبان بولنے والے سیاستدان آگئے ہیں اور ہم گوشت پکنے کا انتظار کررہے ہیں ابھی گوشت تیار نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ طالبان اور مجاہدین کو فوج نے بنایا۔

انکا کہنا تھا کہ اس بیان کی تحقیق ہونی چاہیے اور ملک کی معیشت کا حال سب کے سامنے ہے۔ مہنگائی، تیل، بجلی، گیس اور ڈالر سب میں اضافہ ہوگیا ہے اور جب آواز اٹھاتے تھے تو کہا جاتا تھا کارروائیوں کی وجہ سے بولتے ہیں۔

پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ اب اپوزیشن نہیں عالمی ادارے بھی بول اٹھے ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ فی الفور حکومت نکل جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 18ویں ترمیم مسئلہ نہیں، مسئلہ این ایف سی ایوارڈ کا ہے اور بعض قوتوں کو مضبوط وفاق پسند نہیں۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay