ماہ رمضان: نماز تراویح کی فضیلت اور اہمیت

Tarawih

تحریر : قاری ریحان قادری
ترتیب و تدوین : عنبرحسین سید

رمضان المبارک وہ ماہ ِ مبارک ہے جس  میں نفل عبادت کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا زیادہ عطا کیا جاتا ہے۔

دین اسلام میں قیام اللیل کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے کہ بندہ مومن اپنی نیند کو قربان کر کے رب کی بارگاہ میں سرَ سجود ہو اور صلوٰۃِ تہجد ادا کرے ، اسی قیام اللیل کی ایک صورت نماز تراویح ہے ۔

جوکہ احادیث اور صحابہ کرام ؓ کے عمل اور اجماعِ ا مت سے ثابت ہے کہ مسلمان رمضان میں پورا مہینہ نمازِ عشاء کے بعد 20 رکعت نماز ِ تراویح ادا کر کے قائِمینِ لَیل کی فہرست میں اپنا نام درج کرواتے ہیں ۔

ماہ رمضان کی راتوں میں ادا کی جانے والی بیس رکعات نماز باجماعت کا نام ’’تراویح‘‘ اس لئے رکھا گیا کہ جب لوگوں نے جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنا شروع کی تو وہ ہر چار رکعت کے بعد اتنی دیر آرام کرتے تھے، جتنی دیر میں چار رکعات پڑھی جاتی تھیں، یعنی تراویح کے معنی آرام والی نماز ہے۔

نمازِ تراویح ہر مسلمان عاقل و بالغ مرد وعورت پر سنتِ موکدہ ہے اور اِسے باجماعت ادا کرنا ‘سنتِ عَلیَ الکفایہ‘ہے ۔

احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز تراویح کی اہمیت و فضیلت بیان ہوئی ہے۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے نماز تراویح کی مداومت فرمائی ہے، چنانچہ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو اپنے اوپر لازم کرلو‘‘۔

حضرت ابوہریرہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا : جو شخص رمضان (کی راتوں) میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لیے) کھڑا ہو ، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) ثواب کی امید رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شہرت اور دکھاوے کے لیے نہیں؛ بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے عبادت کی جائے۔

رمضان نُزول قرآن کا مہینہ ہے اِسی لیے ترتیب کے ساتھ نمازِ تراویح میں اُمتِ مسلمہ قرآن کی سماعت کرتی ہے ۔اللہ کے رسول ﷺ سارا سال رات میں قیام فرماتے تھے جس کی گواہی قرآنِ کریم دیتا ہے ۔

اے چادر اوڑھنے والے نبی ! رات میں تھوڑا قیام کریں ، آدھی رات یا اس سے کم ،یا اس سے کچھ زیادہ ۔ اور قرآن ٹھہرٹھہرہر کر پڑھیں ۔(سورۃ مزمل(

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay