کراچی ہماری گردن ہے کاٹنی ہے توکاٹ دو،خورشیدشاہ

[mashshare]

نیوزون کے خصوصی پروگرام “پرائم ٹائم ودتھ ٹی ایم” میں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے شرکت کی اور ملک کی موجود سیاسی صورتحال پر میزبان طارق محمود سے تبادلہ خیال کیا۔

میزبان نے سوال کیا کہ آج پیپلز پارٹی جن حالات سے گزر رہی ہے اس کی وجہ پرفارمنس ہے ، یا ان پر لگنے والے الزمات ہیں، جبر ہے یا کوئی ایسی کمزوریاں جن کی وجہ سے آپ سمجھتے ہیں کہ پارٹی کرائسز میں ہے۔

مہمان خورشید شاہ نے جواب دیا کہ پیپلزپارٹی نے ایسے حالات پہلی دفعہ فیس نہیں کیے ہیں۔ بھٹو شہید سے لیکر آج تک پیپلز پارٹی پر کیا کچھ الزامات نہیں لگے۔ ہمارے اوپر فتوے بھی لگے اور ہمیں شک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا کہ مسلمان ہیں بھی یا نہیں ، کبھی سیکیورٹی رکس بھی کہا جاتا تھا ۔ کبھی ایسے الزامات لگتے تھے جن کو دیکھ کر، سن کر افسوس ہوتا تھا ۔ بی بی شہید پر بھی الزامات لگے۔ مگر آپ دیکھیں کہ بی بی پر بھی ہر قسم کے الزامات لگانے کی کوشش کی گئی ۔ الٹیمیٹلی اس نے پروف کیا اپنے باپ کی طرح کہ وہ پاکستان کی بیٹی تھی اور پاکستان اور عوام اور جمہوریت کے لیے لڑتی تھی اس نے اپنی جان دے دی۔ پیپلزپارٹی کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ہم پریشان ہوں۔ آج کی حکومت کے سامنے تو یہ حالات نہیں ہیں کہ اسلام آباد کے باہر طالبان آگئے۔ اس ملک میں کچھ نہیں ہے ، گندم بھی نہیں تھی۔ پاکستان میں طالبانائزیشن کا شور تھا ۔ بی بی نے آخری 15 منٹ پہلے اپنے جلسے میں کہا تھا کہ میں آپ کو سوات سے جھنڈا اتارنے نہیں دوں گی۔ وہ کیوں کہا تھا ؟ حالات ہوگئے تھے ایسے۔ ہم نے وہ فیس کیا ۔ اور پھر وہ تین مہینے کے اندر وہ واپس چلے گئے۔

میزبان نےپوچھا کہ آپ نے بھٹو کی پارٹی کہی ، بے نظیر کی پارٹی کہی ۔ بھٹو اور بینظیر کی پارٹی میں تو لڑنے کی سکت تھی، آج کی پیپلز پارٹی میں لڑنے کی سکت ہے اتنی۔

خورشید شاہ نے جواب دیا کہ اسلام آباد میں ایک چھوٹا سا ٹریلر دیکھایا آپ کو، زرداری صاحب بی پیشی کے اوپر ، چھوٹا سا ٹریلر تھا ، ابھی بھی جیالے ہیں۔ اب بھی اس ملک  میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو پیپلز پارٹی کو سمجھتے ہیں۔

طارق محمود نے سوال کیا کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ حکومت 5 سال پورے کرے جس پر مہمان نے جواب دیا کہ پانچ سال پورے کرنا نہ کرنے ایک علیحدہ بات ہے۔ ہم کیوں چاہیں گے کہ تباہی ہوجائے، ہم تو آج بھی چاہتے ہیں کہ ، ہم نے پہلے دن بھی اس حکومت سے کہا کہ بیٹھ جاتے ہیں ، بہت سے مسائل آرہے ہیں ، آپ کی قابلیت نہیں ہے اکیلے کام کرنے کی۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ آج بھی کنٹینر پر ہیں۔ آج بھی مدبرانہ سوچ، پولیٹیکل ویژن نہیں کیوں کہ یہ کبھی سیاست دانوں میں اٹھا بیٹھا ہی نہیں ہے، ملک کی سیاست میں یہ کبھی آیا ہی نہیں ہے ۔ یہ جب بھی آیا ریفرنڈم میں ووٹ دیکر چلا گیا۔ یا کبھی آیا اور اکیلا آیا ، میٹنگ ہوتی رہیں ، کن لوگوں سے ہوتی رہیں یہ آپ کو پتہ ہے۔ سیاست کے دھارے میں عمران خان کبھی آیا ہی نہیں ہے ۔ سیاسی حکومتیں ڈائیلاگ پر بیلیف کرتی ہیں۔

طارق محمود نے اگلا سوال کیا کہ میں نے لاء منسٹر کا ایک انٹرویو کیا تھا انھوں نے کہا کہ ہم نے بیک ڈور مذاکرات کیے تھے شاہ محمود اور میں تھے لیکن بات نہیں بن پائی کیوں کہ ایسے ایسے رخنہ بیچ میں آجاتے ہیں جو ہم ریجسریشن کرنا چاہتے تو اپوزیشن اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ۔

خورشید شاہ نے جواب دیا کہ ہم سے میٹنگ ہوئی اور کہا گیا کہ یہ چار بل ہیں۔ ہم نے کہا لے آؤ، دیکھاؤ تو صحیح، اس میں تین ایسے بل تھے جو ہم چاہتے تھے۔ ہم چاہتے ہیں ۔ بس ایک بل ایسا ہے جس پر تھوڑی بہت بات چیت ہوسکتی ہے۔ کوئی ایسا بل نہیں تھا۔ آپ کہا گئے ، خود پیچھے ہوگئے۔ کوئی بل نہیں آیا ، اگر کوئی بل آتا ہم اس کی مخالفت کرتے تو آپ کہتے کہ شاہ صاحب آپ نے بل کی مخالفت کردی ۔ ان لوگوں میں آپس میں کارڈینیشن نہیں ہے۔

میزبان نے پوچھا کہ حکومت کی طرف سے یہ ایمپریشن آتا ہے جب ہم ریجسلیشن پر بات کرتے ہیں تو اپوزیشن اس کو بارگین کرنا چاہتی ہے؟

خورشید شاہ نے جواب دیاکہ وہ ایک دفعہ کہہ دیں کہ فلاں بل پر آپ نے بارگینینگ کی تھی۔ آئیں اور بولیں کہ فلاں بل تھا۔یہ تو وہی بات ہے کہ نہ کہ این آر او مانگ رہے ہیں۔ کس سے مانگ رہے ہو بھائی! نہیں این آر او مانگ رہے ہیں۔ میں گواہ ہوں ، تو پھر بتائیں۔ طارق محمود نے سوال کیا کہ کیا نیب امینڈمنٹ پر بھی بات ہوئی ہے؟

پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے جواب دیاکہ لاء منسٹری سے بات ہوئی تھی۔ آج تک تو نہیں لائے وہ ، کمیٹی بنی اور وہ بات چیت ادھر کی ادھر ہی پڑی ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اس سیاست سے آئے ہیں جس نے آئین اور قانون کو اپنا محور سمجھا ہے۔ پارلیمنٹ ملک کا  مستقبل بناتی ہے۔ ملک کی اکنامی بناتی ہے ، ملک کے لیے قانون بناتی ہے۔ پارلیمنٹ اس لیے نہیں ہوتی ہے کہ آؤ اور گالم گلوچ کرو، پیسے لو اور چلے جاؤ۔

مہمان سے سوال کیا گیا کہ کیا اسمبلی میں اسپیکر صاحب آپ کو کسی پریشر میں نظر آتے ہیں؟

خورشید شاہ نے جواب دیا کہ وہ بہت پریشر میں ہیں ، پہلے وہ ٹھیک جارہے تھے۔ جو ابھی سیشن ہوئے اس میں ہم نے ان کو بہت خطرناک پریشر میں دیکھا ہے۔ حکومت ان کو کہتی کہ اگر تم نے اوپر نیچے بات کی تو خیر نہیں تمھاری۔

سوال کیا گیا کہ مسلم لیگ(ن) آپ کے پاس آئی اور انھوں نے آکر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملے پر آپ کو کانفیڈینس میں لیا ہے؟

پیپلز پارٹی کے رہنما نے جواب دیاکہ ان سے بات شروع ہی میں نے کی تھی۔ اور غلطی تو میری ہے کہ میں نے ان سے کہا تھاکہ چیئرمین چینج کرو۔ کیوں وہ نہیں آرہے ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں کے اوپر بجٹ کی صورت میں تباہی آجائے گی تو ٹف ٹائم کیا دیں گے، ہمارا حق بنتا ہے کہ کی وکالت کریں، ٹف ٹائم تو نہیں کہیں گے اس کو ۔

میزبان نے سوال کیا کہ آصف علی زرداری کی پیشی آرہی ہے دوبارہ۔ پیپلزپارٹی کو خطرہ ہے کہ آصف علی زرداری کو گرفتار کیا جاسکتاہے؟

خورشید شاہ نے جواب دیا کہ ہمیں ان سے کوئی بعید نہیں ہے اور آصف علی زراری کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گیارہ سال انھوں نے جیل میں کاٹا۔ اس کی زبان بھی کاٹی گئی، تشدد بھی کیا گیا ، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ، ہم تو اس ملک کی خیر مانگتے ہیں۔

میزبان نے پیپلز پارٹی کی اسٹریٹجی کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا کہ کیا پیپلزپارٹی مزاحمتی سیاست کی طرف جائے گئی؟ جس پر مہمان نے جواب دیا کہ شروع سے لیکر آج تک ہم سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ سیاست ہماری جمہوریت ہے۔  ہماری سیاست صرف پاکستان کے لیے ہے۔

طارق محمود نے سوال کیا کہ پیپلز پارٹی کی سیاست سمٹ کر سندھ تک محدود ہوگئی ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ جیسے ہی پیپلزپارٹی پر پریشر بڑھتا ہے تو وہ سندھ کارڈ کھیلنے لگتی ہے اور یہ ایمپریشن دیتی ہے کہ سندھ کی سڑکیں بلاک ہوجائیںگی؟

خورشید شاہ نے کہا کہ کب کھیلا؟  ہم تو آج بھی  کمپئیر کر رہے ہیں لوگ دعوے کر رہے ہیں ، اچھی بات ہے گورننس کا ، آج بھی ٹیکس کلیکشن صوبے کر رہے ہیں۔ ہم نے سندھ کے 9 فیصد اوپر ہیں باقی سب نیچے گئے ہیں ، یہاں سے دیکھ لیں۔ گورننس تو پیرا میٹرز ہوتے ہیں ، کیسے کیسے دیکھے جائیں۔ پنجاب میں چار آئی جی جینج ہوگئے کہتے ہیں کہ گورننس اچھی ہے۔ میزبان نے کہا کہ آپ بھی آئی جی نہیں رکھنا چاہتے ہیں ، تبدیل کرنا چاہتے ہیں جس پر انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے آئی جی کو ایک سال ہوگیا ہے ، چل رہا ہے۔

سوال کیا گیا کہ پنجاب کے اندر اتنی کمزوریاں جو ہیں اس کی وجہ کیا تھی، یوسف رضا گیلانی کے وقت کے اندر پیپلزپارٹی کا ورکر مایوس ہوکر بیٹھ گیا؟ کام نہیں ہوئے؟

خورشید شاہ نے جواب دیا کہ ایک ہوا چلی تھی، اس وقت نواز شریف کی پارٹی بہت آگے تھی، کبھی نعرہ پاکستان پر پنکھا لیکر بیٹھ جاتے تھے۔ اس وقت کے میڈیا نے ہمارے خلاف بہت اچھا رول ادا کیا۔ پروپیگنڈہ کیا ۔ ہمارے دور میں دو سیلاب آئے ۔

مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے خورشید شاہ نے جواب دیا کہ فردوس عاشق،فواد،بابراعوان کاپارٹی چھوڑنےکافیصلہ اپناہے، آج عمران خان کوہمارے وزیرخزانہ کی ضرورت پڑی ۔ انہوں نے کہا کہ جوبیانیہ بلاول بھٹوکاہےوہی آصف زرداری کاہے، کبھی بیانات سےفائدہ توکبھی نقصان ہوتےہیں ۔

خورشید شاہ نے جواب دیا کہ فاٹاکوپاکستان کی فیڈریشن کاحصہ بنناچاہیے، کچھ لوگ نئےپاکستان کوتبدیلی کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں قائداعظم والاپاکستان چاہیے۔ پنجاب، کے پی نیشنل صوبے ہیں اور اس میں مداخلت نہیں کرتے لیکن کراچی ہماری گردن ہےکاٹنی ہےتوکاٹ دو۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان کوچاہیےکہ وہ معافی مانگےاوراقتدارچھوڑدے اور یہ پاکستان ہم سب کاہے اس کے لیے ملکر سوچنا ہوگا۔ بھٹو کے دورمیں کرپشن نہیں تھی،ضیاالحق کےدورمیں شروع ہوئی ۔ ضیاالحق دورمیں ڈالرزبینک کےذریعےنہیں سی ون13میں آتےتھے اس وقت ملک کےحالات دیکھ کرخوف آرہاہے۔ ان کا مزید کہناتھا کہ حکومت نےسارے لوگ آئی ایم ایف کےبٹھادیے یہ لوگ 50لاکھ گھرغریبوں کیلئے بنائیں گے یا بلڈرزکیلئےبنائیں گے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay