کچھ غیر ملکی این جی اوز پاکستان میں جاسوسی کررہی ہیں، وفاقی وزیر شیری مزاری

[mashshare]

نیوزون کے خصوصی پروگرام “پرائم ٹائم ودتھ ٹی ایم” میں تحریک انصاف کی رہنما اور انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیری مزاری نے شرکت کی اور ملک کی موجود سیاسی صورتحال پر میزبان طارق محمود سے تبادلہ خیال کیا۔

میزبان نے سوال کیا کہ کتنی تکلیف دہ صورتحال انسانی حقوق کی بطور منسٹر جو آپ پاکستان میں دیکھتی ہیں ؟ کتنی تکلیف ہوتی ہے؟

شیری مزاری نےجواب دیا کہ تکلیف تو ہوتی ہے اگر کچھ بھی انسانی حقوق کے حوالے سے گڑبڑ ہو تو تکلیف ہوگی، چائلڈ ابیوز ہے ، عورتوں  کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے، عورتوں کو ان کو حقوق نہیں ملتے، مسنگ پرسن کا ایشو ہے، دس دس سال تک لوگوں کا پتہ نہیں ہوتا ہے، ان کے والد ، بھائی ، شوہر کدھر ہیں ، یہ ایشوز ہیں۔

طارق محمود نے اگلا سوال کیا کہ یہ منسٹری ہمیشہ سے کم اہمیت والی منسٹری سمجھی جاتی ہے یہ جب آپ کو دی تو یہ بائے چوائس آپ نے لی یا خان صاحب نے آپ کو دے دی؟

وفاقی وزیر  نے کہا کہ خان صاحب نے مجھ سے پوچھا تھا کہ آپ کونسی منسٹری میں دلچسپی رکھتی ہیں تو میں نے یہ کہا تھا کہ مجھے ہیومن رائٹس دے دیں۔ میرا خیال یہ تھا کہ میں کوئی ایسی منسٹری لوں جس کا مجھ پتہ ہو کہ کام کیا ہے اور ہوتا کیا ہے۔

سوال کیا گیا کہ پانچ ہزار سے زیادہ لوگ اس وقت مسنگ ہیں ، اس سال کے اندر بھی چہیتر لوگ فروری سے مسنگ ہیں ۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی یہ صورتحال تھی تو اب آپ کیا تبدیلی لیکر آئیں ہیں؟

شیری  مزاری نے جواب دیا کہ ہم نے اس پر ڈائیلاگ شروع کیے ۔ پچھلی حکومتوں نے اس معاملے کو چھیڑا ہی نہیں، ہم نے امینڈمنٹ بل دیا ہے جو لاء منسٹری کے پاس ہے ، ہماری سیکیورٹی اسٹیبشملنٹ سے بھی ڈسکشن ہورہی ہے ، فارن آفس سے بھی اس پر بات ہوئی ہے، ہوم منسٹری ، انٹیریر منسٹری ، اور میری پرائم منسٹر سے بات ہوئی ہے کہ ہمیں اس ایشو کو ختم کرنا ہوگا۔ اور اس پر پیشرفت آہستہ آہستہ ہورہی ہے۔ اس کے نتائج شاید اتنی جلدی نظر نہیں آئیں کیوں کہ سیکیورٹٰی اسٹیبلشمنٹ کو بھی کسی کا نہیں پتہ تھا وہ بھی ٹریس کر رہے ہیں کہ کدھرہیں وہ ، کئی لوگ ریلیز بھی ہورہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ آپ قوانین کو مضبوط کریں ، انٹی ٹیررزم کورٹ کو مضبوط کریں۔ اب پاکستان میں صرف پولیس اریسٹ کرسکتی ہے لیکن پولیس میں جس قدر کرپشن ہوری ہے تو پولیس میں نہ وہ پاور ہے ، نہ وہ کر سکتے ہیں۔

امریکا میں آپ دیکھیں تو ایف بی آئی اور سی آئی اے  کے پاس پاور ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ آپ لوگوں کو کورٹ میں پیش کریں اور ان پر چارج کریں، اینٹی ٹیریزم کے قانون کو سخت کریں گے تو میں سمجھتی ہوں کہ مسنگ پرسن کا ایشو جلد ختم ہوگا ۔ چاہے دہشت گرد ہو یا کوئی ہو جس کو آپ نے پکڑا ہو اور 8، 10 سال گزر جاتے ہیں، آپ کو پتہ ہی نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مرگیا، تو کم ازکم ایسا قانون ہوچاہیے مسنگ ڈکلیئر کرکے فیملی کو اتنا رائٹ تو ملے کہ جو اس کے بینک اکاونٹ، پراپرٹی وہ سسپینڈ نہیں رہیں۔ فیملیز کو بہت تکلیف ہوتی ہے ،نہ اس بندے کے آپ اکاؤنٹس کو استعمال کرسکتے ، نہ اس کی پراپرٹی کو بیچ سکتے۔ کچھ لیگالیٹٰی کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے۔ کیوں کہ ان کی فیملی نے کوئی قانون نہیں توڑا ۔

میزبان نے کہا کہ مسنگ پرسن کا معاملہ جو ہے، اینٹی ٹیریزم لاء ہیں ان میں امینڈمینٹ نہیں ہوجائیں گی یہ معاملہ حل نہیں ہوسکتا ؟

وزیر برائے انسانی حقوق نے جواب دیا کہ میں بلکل یہ سمجھتی ہوں کہ انٹی ٹیریزم کے قانون کو سخت کرنا ہوگا۔ آپ کو اپنا کریمنل جوڈیشن سسٹم کا ریفارم جو ہماری حکومت نے شروع کردیا ہے وہ اس سال کے اختتام تک  ہوجائے گا۔

سوال کیا گیا جیسے دیگر ممالک میں انٹیلی جنس ایجنسیز کے پاس گرفتاری کرنے کی پاورہے یہاں پر بھی اسی طرح سے پاور دینا ہوگی؟

شیری مزاری نے جواب دیا کہ اس پر سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ٹیرسٹ ہیں یا دہشت گرد ہیں جن کو آپ پکڑلیں تو ان کو آپ چارج کریں، یہ نہ ہو ان کی فوری ریلیز ہوجائے ، اور پولیس کی قابلیت نہیں ہے ، پولیس کی ریفارمز میں بھی ٹائم لگے گا۔ یہ ساری چیزیں ہوتی رہیں گی لیکن آخر میں آپ ایک جمہوریت ہیں اور آپ یہ طریقہ کار استعمال نہیں کرسکتے ہیں آپ اٹھالیں صرف لوگوں کو، آپ کو ان کا چارج کریں ، ان کو بیل نہیں دیں لیکن یہ مسئلہ ہمیں اب حل کرنا پڑے گا۔

میزبان نے کہا کہ سندھ میں رینجرز کے پاس 90 دن کا اختیار تھا اس کو بھی پرولانگ کیا جاسکتا ہے تاکہ فیملی کو پتہ ہو

شیری مزاری نے کہا کہ فیملی کو پتہ ہونا چاہیے اور سیکیورٹی فورسز پر الزامات لگتے ہیں لیکن ایکچولی وہ خود غائب ہوکر چلے گئے القاعدہ میں یا کسی گروپ میں تو اس کا الزام خوامخواہ لگ جاتا ہے، کسی کو بھی اس کا فائدہ نہیں ہے، اب جو حالات ہیں  اگر آپ کو جمہوریت کو اور سیکیورٹٰی فورسز کی کریٹیبیلٹی کو اور مضبوط کرنا ہے تو آپ کو اس قسم کی چیزوں کو ختم کرنا ہوگا۔

میزبان نے سوال کیا کہ جس بل کا آپ نے ذکر کیا کہ وہ منسٹری آف لاء میں ہے اس کے بارے میں بھی عام تاثر یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ تو پوری کوشش کر رہی ہیں کہ یہ جلد سے جلد ہو لیکن وزارت قانون اس فائل کو دبا کر کہیں بھول گیا ہے اور وہ چاہتا نہیں ہے کہ اس پر کچھ ہو۔

شیری مزاری نے جواب دیا کہ بیروکریٹک پروسیجر جو ہمارے یہاں ہے وہ بہت فرسٹیڈیٹ ہے ۔ آپ کو پوری بیوروکریسی کو بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔ میرے پاس کوئی ٹائم فریم تو نہیں لیکن ہمارا انٹریکشن تمام اسٹیک ہولڈرز سے ہوتا ہے اور مجھے کوئی منسٹری نہیں ملی نہ سیکیورٹی اسٹریکچر میں کوئی ایسے وہ ملیں ہوں جنہوں نے کہا ہو کہ اس کا کچھ کرنا پڑے گا، سب کو پتہ ہے کہ ہمیں اس معاملے کو دیکھنا ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ جب سوچ ایسی ہے تو کچھ نہ کچھ مثبت ضرور ہوگا۔

طارق محمود نے اگلا سوال کیا کہ آپ کے پاس فیگرز ہیں کہ 10 ماہ کے دوران کتنے مسنگ پرسنز ہیں جو واپس آئے؟

شیری مزاری نے جواب دیا کہ ہمارے پاس صحیح فیگر اس وجہ سے نہیں ہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال صاحب ان کے پاس ہے وہ کمیٹی ہیں تو ان کے پاس آفیشل ڈیٹا جاتا ہے لیکن مختلف گروپس اپنے فیگر دیتے ہیں۔ آپ ان میں کتنی سچائی ہے اس پر سوالیہ نشان ہے۔

سوال کیا گیا کہ جسٹس (ر) جاوید نیب کے چیئرمین ہیں اور ان پر یہ ایک اور بھاری ذمہ داری ہے تو وہ عہدے رکھے ہوئے ہیں ، جس طرح سے ہمارے ہاں لوگ کرسیاں نہیں چھوڑتے ، اس پر کوئی کام کر رہی ؟

وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ میں تو نہیں کہہ سکتی ، جو ایسی اپوائنٹمنٹس چیک کرتے ہیں ، ان پر ہے۔

آپ نے تھانہ کلچر کی بات کی کہ پولیس گرفتار کرتی ہے جو خاص طور پر گرفتاری کے بعد ہوتا ہے تو جو ہمارے بیک ورڈ ایریا ہیں تو پولیس تو ایک دہشت کی علامت ہیں اور لوگوں کو مارنا، ٹارچر کرنا ، پولیٹیکل ویکٹمائزیشن؟

 شیری مزاری نے جواب دیا کہ ہمارا اینٹی ٹارچر بل بھی تیار ہے اور اس پر ہم صوبوں سے اور انٹیریر منسٹری سے کمنٹس لے رہے ہیں وہ بھی لاء منسٹری کو بھیجیں کیوں کہ ہم نے انٹرنیشنل کنونشن اگینسٹ ٹارچر سائن کیا ہوا ہے۔ ہم پر اب فرض ہے کہ ہم اپنا اینٹی ٹارچر کا قانون  بنائیں۔ وہ بنا ہوا ہے اور پروسسز میں ہے۔

طارق محمود نےپوچھا کہ اس قانون کے بعد تھانوں میں تشدد نہیں کیا جاسکے گا؟

شیری مزارنے بتایا کہ یہ قانون جب بھی پاس ہوگا تو پھر تشدد نہیں ہوگا، اس میں سزا بھی ہے اس میں پولیس فوکس ہے۔

مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے شیری مزاری نے کہا کہ اسلامی قوانین کےخلاف قوانین نہیں بناسکتے۔ این جی اوزکوکام کی اجازت دینانہ دیناہماراحق ہے۔ اب امریکاہم پرڈنڈانہیں اٹھارہا ہے۔امریکانےاپنےمفادات کیلئےہمیشہ پاکستان کواستعمال کیا اور افغان جنگ میں امریکاپاکستان کےپاس بھاگتاہواآیا۔ امریکابھارت کوخطےکاپولیس مین بناناچاہتاہے اور امریکاسی پیک پردباؤڈالتارہتاہے لیکن امریکااورایران کشیدگی میں ہم پھنس رہےہیں۔

شیری مزاری نے کہا کہ عالمی معاہدےکےبعدامریکانےخودہی اس سےانحراف کیا۔ امریکانےنیوکلیئرایشوپرایران پرپابندیاں لگادی ہیں اور ایران پرپابندیوں کےباعث گیس پائپ لائن منصوبہ متاثرہواہے۔ امریکانےایران کےقریب اپنےجنگی جہازبھیج دیئےہیں ۔ کیاٹرمپ ایران کوجنگ کی طرف لیکرجارہےہیں؟ پاکستان ان تمام صورتحال سےمتاثرہورہاہے اور ایران نےبھی کہاہےامریکی جنگی جہازہمارےلیےٹارگٹ ہیں۔

وفاقی وزیر  کا کہنا تھا کہ آرمی ایکشن کےذریعےملک سےدہشتگردی کوختم کیاگیا۔ وزیراعظم نےدورہ ایران میں دہشتگردی کے معاملے پربات کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سیکیورٹی تھریٹس ہیں ان کونظراندازنہیں کرسکتے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay