دہشتگردی کو مدارس کے ساتھ منسلک نہیں کرنا چاہیے، نور الحق قادری

نیوزون کے خصوصی پروگرام “پرائم ٹائم ودتھ ٹی ایم” میں وفاقی وزیر مذہبی امور ڈٓاکٹر نورالحق قادری نے شرکت کی اور ملک کی اور موجود سیاسی صورتحال پر میزبان طارق محمود سے تبادلہ خیال کیا۔

میزبان نے سوال کیا کہ فاٹا بل پر آپ نےکیسے اپوزیشن کو قائل کرلیا اور یہ معاملات طے کیسے پائے؟

ڈٓاکٹر نورالحق قادری نے جواب دیا کہ دم درود کا میں قائل ہوں اس کے اثرات اور فائد ہوتے ہیں۔ اس دن کے پیچھے ، جس دن سے ہم نے اوتھ لیا تھا بلکہ الیکشن کیمپئن کے دوران بھی ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ ریفارمز اور پچھلی حکومت 25 امینڈمینٹ پاس کیا ہوا تھا اس میں فاٹا کی نمائندگی کو غیر موثر بنا دیا گیا تھا اور 12 سیٹوں سے کم کرکے قومی اسمبلی کی 6 کردیں تھیں اور صوبائی اسمبلی کی جنرل سیٹیں 16 کردیں تھیں۔ ہمارا اسٹیٹنٹ یہ تھا کہ فاٹاکی آبادی بہت زیادہ ہے اور مردم شماری صحیح نہیں ہوپائی ہے ۔ملک میں جگہ جگہ دربدر آئی ڈی پیز تھے۔ الیکشن کے دوران ہم یہ بات کرتے تھے کہ ہماری خواہش ہے کہ جب تک شفاف مردم شماری نہیں ہوتی اس وقت تک ہماری قومی اسمبلی کی بارہ سیٹوں کو بحال رکھا جائے اور کم ازکم 24 سیٹوں پر ہماری نمائندگی ہو اور اس کے لیے ہم نے متفقہ لابنگ کی اس کے لیے تمام 12 ایم این ایز کی میٹنگ ہوئی ہے۔ اس کے بعد یہاں تک پہنچنے میں ہمیں 4 ماہ لگے۔ پہلے تحریک انصاف نہیں مان رہی تھی۔ ان کو قائل کیا پھر اپوزیشن جماعتوں کو قائل کیا پھر جتنی بھی نمائندگی تھی پارلیمنٹ تھی۔ 1973 کے آئین کی بھی 18، 19 لوگوں نے مخالفت کی تھی لیکن یہ ایسی ترمیمی بل ہے جس کی کسی نے مخالفت نہیں کی۔

فاٹا کا الیکشن ٹائم پیریڈ کیا ہوگا کیوں کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ نے زبانی یقین دہانی کرائی ہے اپوزیشن کو کہ ہم اگلے 6 ماہ میں الیکشن کرادیں گے تو 2019 میں فاٹا میں الیکشن ہورہے ہیں؟

وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ یہ 6 مہینے ہیں ۔

فاٹا سے بہت سارے لوگ ہجرت کرکے گئے ہیں تو جو ووٹرز کی رجسٹریشن ہے اس کا پروسسز کیا ہوگا؟

ڈٓاکٹر نورالحق قادری نے جواب دیا کہ الیکشن شیڈول تک لوگ اپنا ووٹ بھی رجسٹرڈ کرا سکیں گے اور میرے خیال میں تمام پولیٹیکل پارٹیز کی یہ خواہش ہوگی کہ ان کا ووٹر اپنے ایریا میں رجسٹرڈ کرلے۔ پچھلا الیکشن بھی فاٹا میں پر امن تھا ، کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔ اور اس دفعہ بھی ہم امید رکھتے ہیں کہ سب کچھ پر امن ہوگا۔فاٹا کافی حدتک بہتر ہوگیا ہے۔

پولیٹیکل الائمنٹ کی کیا صورتحال ہے کیوں کہ الیکشن کا ماحول شروع ہوگا تو پی ٹی آئی الائمنٹ کرے گی۔ لوگوں کے ساتھ بات ہوگی ، سیٹ ایڈجسمنٹ ہوگی یا خود الیکشن لڑیں گے۔

ڈٓاکٹر نورالحق قادری نے پی ٹی آئی مرکز اور ایک صوبے میں اسٹیک ہولڈر ہے اور صوبے میں واضح اکثریت ہے اور بظاہر ان کی کوئی مجبوری نہیں ہے۔ لیکن سیاست میں فیصلے اور اس پر حتمی رائے قبل از وقت ہوتی ہے۔ لیکن ان سارے آپشنز پر کہ کہیں پر ہم کسی پولیٹیکل پارٹی کے ساتھ کسی آزاد امیدوار کے ساتھ اتحاد کرلیں، جہاں سیٹ ٹو سیٹ ہم دیکھیں گے کہ کونسا آپشن بہتر ہے ۔

الیکشن سے پہلے ایک بات آئی کیوں کہ کے پی میں بھی اور فیڈرل میں بھی آپ کی گورنمنٹ ہے ایک تاثر یہ ہے کہ مرکز میں جس کی حکومت ہوتی ہے ، جیسے گلگت بلتستان ،آزاد کشمیر  کے الیکشن ہیں تو اس پر فیڈرل گورنمنٹ اثر انداز ہوتی ہے۔ شیرپاؤ صاحب نے گزشتہ دنوں اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ عمران خان صاحب جلسے کر رہے ہیں یہ ایک پولیٹکل ریکنگ ہے، ہمیں اسطرح کا موقع نہیں ملا جس طرح پی ٹی آئی کے پاس ہے  ، آپ اس صورتحال کو کس طرح دیکھتے ہیں

ڈٓاکٹر نورالحق قادری نے جواب دیا کہ عمران خان کی دو حیثت ہیں۔ ایک اس کی بطور چیئرمین تحریک انصاف کے سیاسی قدوقامت ہیں اور دوسری طرف وہ وزیر اعظم ہے جو چاہتے ہیں کہ مرجر کے بعد فاٹا ، دکھ اور مسائل سے گزرا ہوا علاقہ ہے۔ لوگ کافی پریشانی سے گزرے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پہلی مرتبہ کوئی پرائم منسٹر ہے وہ چاہتا ہے کہ ڈائریکٹ عوام کے ساتھ انٹریکشن اور بات کرنا چاہتا ہے۔ اس سے فاٹا کے عوام کو بہت حوصلہ مل رہا ہے۔ اس میں ریکنگ کی کوئی بات نہیں ہے۔ پرائم منسٹر کہیں بھی آسکتے ہیں کہیں بھی جاسکتے ہیں اس میں کوئی قدغن نہیں ہے۔

پی ٹی ایم کو آپ فاٹٓا یا کے پی کے حوالے سے سیاسی حقیقت سمجھتے ہیں؟َ

ڈٓاکٹر نورالحق قادری نے جواب دیا کہ ان کی نمائندگی ہے اور ان کی آواز ہے اور مخصوص سوچ اور طرز فکر ہے جس سے اتفاق بھی کیا جاسکتا ہے اور حقیقت ہے کہ ان کا ایک وجود ہے۔ اور تمام پولیٹیکل پارٹیز کی یہ خواہش ہونی چاہیے کہ کسی طریقے سے اس جماعت کو ہم مین اسٹریم میں لاسکیں اور ایسی جماعت جو اپنے مطالبات کو آئین اور سسٹم کے اندر ان کا مطالبہ کریں اور اس کے اندر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائے۔

مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی ایم کی سوچ سے اختلاف بھی کیاجاسکتاہے۔ ایسانہیں ہےکہ پورےفاٹامیں پی ٹی ایم چھاجائےگی لیکن فاٹاکےکچھ علاقوں میں پی ٹی ایم کااثرہے  لیکن فاٹامیں صرف تحریک انصاف مقبول ہے البتہ سیاسی قوتیں پی ٹی ایم کوپاورمیں لاسکتی ہیں ہم پی ٹی ایم سےرابطےمیں ہیں۔

وفاقی وزیرنورالحق قادری نے کہا کہ قبائلی بہت مشکلات سے گزرے ہیں ۔ ملک دشمن عناصرہرجگہ موجودہیں۔ فاٹاکامستقبل پُرامن اور محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی گزارش پرسعودی ولی عہدنےپاکستان کاحج کوٹہ بڑھایا، ناکام درخواست گزاروں کےناموں کی ہی قرعہ اندازی ہوگی اور حج انتظامات کےلیےہماری بھرپورتوجہ ہے۔ حج کے لیے پہلی بار4ایئرپورٹ استعمال ہوں گے۔  کراچی،لاہور،کوئٹہ اورپشاورکےایئرپورٹس شامل ہیں۔

نورالحق قادری نے کہا کہ حاجیوں کی کسٹم اورامیگریشن ملک میں ہی ہوگی، کوشش ہوگی زیادہ سےزیادہ حجاج اولڈمنیٰ میں قیام کریں اور پاکستانی قیدیوں کےکیسزختم کروانےکی کوشش کی جارہی ہے، 3،4ماہ میں پاکستانی قیدیوں کےمقدمات ختم ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوادچوہدری میرےدوست ہیں۔فوادچوہدری کہیں بھی ٹانگ اڑاسکتے ہیں۔ ہم رویت ہلال کمیٹی ختم نہیں کررہے۔  علماءکرام کی مشاورت کے بغیرکوئی قدم نہیں اٹھاسکتے، علماءکرام کاجوفیصلہ ہوگا اسی کےمطابق عید ہوگی، مدارس کی رجسٹریشن کےحوالےسےاعتراض نہیں۔ مدارس کےانتظامی معاملات کونہیں چھیڑیں گے اور مدارس اصلاحات میں علماءکرام سےمشاورت کریں گے ۔ مدارس کووزارت تعلیم کےماتحت کرنےسےمتعلق راستہ نکالیں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کم عمری کی شادی کےمعاملےپراپنےمؤقف پرقائم ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کاکوئی مذہب نہیں ہوتا ہے اس لیے دہشتگردی کومدارس کےساتھ منسلک نہیں کرناچاہیے۔ نظام کوسودسےپاک کرناہماراحتمی ہدف ہے۔  شراب ام الخبائث ہےکھل کرکہوں گا اور ریاست مدینہ کانظام ہی ہماری منزل ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay