حکومتی معاشی ٹیم نجکاری کرنےآئی ہے ، ڈاکٹر قیصر بنگالی

نیوزون کے خصوصی پروگرام “پرائم ٹائم ودتھ ٹی ایم” میں ماہر معاشی امور ڈاکٹر قیصر بنگالی  نے شرکت کی اور ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر میزبان طارق محمود سے تبادلہ خیال کیا۔

میزبان نے سوال کیا کہ ایک غیریقینی کی صورتحال ہے اور ایک اضطراب ہے خاص طور پر بزنس کمیونٹی کے اندر تو اس کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں۔ گو کہ حکومت پے درپے اعلانات کرتی رہی ہے ۔ یہ بات ہوتی رہی ہے کہ فلاں ملک سے ہمیں اتنی امداد مل رہی ہے ۔ پھر کہہ رہے تھے کہ آئی ایم ایف کے پاس ہم جائیں گے تو معاملات بہتر ہوجائیں گے اور پھر اس اعلان کے بعد کے باجود بھی کہ  آئی ایم ایف سے پیکج طے پاگیا ہے لگتا یہ ہے کہ مارکیٹ میں اس  طرح سے کانفیڈینٹ بلڈ نہیں ہوسکا جس کی توقع کی جارہی تھی تو اس منظر نامے کو آپ کس طرح سے دیکھ رہے ہیں.

ڈاکٹر قیصربنگالی نے جواب دیا کہ معیشت کی جو کار گردگی ہے وہ تو پچیس سال سے بہتر نہیں ہے۔ لیکن سال 2000 کے بعد ہماری معیشت ایکسپوز ہوئی ہے بیرونی حوالے سے وہ ہمارے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے ۔ جس طرح غیرملکی کمپنیوں کو یہاں جگہ دی گئی ہے نجکاری کرکے تو وہ ساری وجہ ہے ہمارے بحران کی۔مبارکباد دینی چاہیے عمران خان اور اس کی ٹیم کو اور اب جو آئی ایم ایف کے جو کانٹریکٹرز آئے ہوئے ہیں ان کو کہ انھوں نے ایک خراب حالات کو بحران میں تبدیل کردیا ہے۔

طارق محمود نے سوال کیا کہ اس بحران سے نکلنے کی کوئی صورت آپ کو نظر آرہی ہے؟ جس ڈائریکشن میں ہم جا رہے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

ماہرمعاشی امور نے جواب دیا کہ کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہوتا ہے جس کا حل نہ ہو اور پاکستان کی جو معاشی صورتحال ہے اور اسکا بحران ہے اس کا حل بھی ہے بشرطیکہ اس کا رخ صحیح ہو۔ پچھلے 8، 9 ماہ میں یہ تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ رخ غلط تھا کیوں کہ کوئی ڈائریکشن ہی نہیں تھی اور اب جو ٹیم ہے جو معیشت پر قابض ہیں ان کے تو مقاصد ہی کچھ اور ہیں۔ یہ تو آئیں ہیں بنیادی طور پر نجکاری کرنے کے لیے آئی ہے۔

مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومتی معاشی ٹیم نجکاری کرنےآئی ہے۔ غیرملکی اشیاء پرمکمل پابندی ہونی چاہیے۔ دفاع سمیت غیرترقیاتی اخراجات پر20فیصدکمی کی جائے اور قرض لیکرملکی معیشت کوسہارانہیں دیاجاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معاشی خودمختاری پرسمجھوتہ ہوچکا،اب بالکل ختم ہوجائےگی اور یہ خطرناک راستےپرچل پڑےہیں ، احتجاج کیاجائے۔ باتیں اور تقریریں کرنے سے ایکسپورٹ نہیں بڑھ سکتی ۔ اسوقت ملک میں کارخانے بند ہورہے ہیں یہاں ایکسپورٹ کہاں سے آئے گی۔

ماہرمعاشی امور کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پیکج کےبعدڈالرکی قلت کاعلاج نہیں کیاجاتا ہے ۔ یہ رویہ ملک میں پچھلے30سال سے رہاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم کامعیشت سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ ایمنسٹی اسکیم کالےدھن کوسفیدکرنےکیلئےہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کاقصورنہیں وہ3سال کیلئےقرض دیتاہے۔ آئی ایم ایف،ورلڈبینک،ایشن بینک نمائندےگورنراسٹیٹ بینک رہے۔ 16سال سےان کے نمائندے اسٹیٹ بینک کوچلارہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی اداروں کےملازم ہماری معیشت چلارہےہیں۔ مہنگائی میں مزیداضافہ ہوگا اور شرح20فیصد سے زائدہوسکتی ہے۔

پروگرام میں ماہرمعاشیات ڈاکٹرفرخ سلیم نے بھی شرکت کی اور پاکستان کی معاشی صورتحال پر میزبان طارق محمود کی جانب سے کئے گئے مختلف سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔

ماہرمعاشیات فرخ سلیم نے کہا کہ ڈالراوپرجانےکی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ پاکستان اورآئی ایم ایف معاہدےکی تفصیلات سامنےنہیں آئیں ہیں اور روپےکی قدرمیں کمی کی وجہ بیرونی طاقتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیرروایتی جنگ میں باربارآئی ایم ایف کاذکرکیاگیاہے۔ ہمارے معاشی اداروں میں ہم آہنگی نظرنہیں آرہی اور لگتاہےہم مارکیٹ کوسنبھال نہیں پارہے۔ اوپن مارکیٹ میں سٹہ ہوتاہے۔ لگتا ہے روپے اور ڈالر کے حوالے سے خبریں لیک کی گئیں۔

فرخ سلیم نے بتایا کہ پہلی ایمنسٹی اسکیم ایوب خان کےدورمیں آئی تھی اور اس کے بعد 60سال میں جتنی بھی اسکیمزآئیں ان کامقصدخزانہ بھرناتھا ۔ ہماری ترجیح اخراجات کوکم کرنےپرہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی بیماری کی علامات دبانےکی کوشش کی جارہی ہے جب کہ 41لاکھ پاکستانی غربت کی سطح سےنیچےجاچکےہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہزارارب روپے کا ٹیکہ قوم کو لگنے والا ہے۔ چندماہ میں مہنگائی اوربیروزگاری یں ہوشربااضافہ ہوگا اور اسوقت حکومتی معاشی سمت درست ہوتی نظرنہیں آتی۔ معاشی ٹیم کی تبدیلی حکومت کی ناکامی کااعتراف ہے اور معاشی اداورں میں اصلاحات لائے بغیرسمت درست نہیں ہوگی۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay