نیب نےسابق صدرآصف علی زرداری کوگرفتارکرلیا

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا ۔

رپورٹس کے مطابق نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کوزرداری ہاؤس اسلام آبادسے گرفتار کرکے نیب راولپنڈی منتقل کردیا۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کی گرفتاری کے موقع پر پی پی کارکنان اور پولیس میں ہاتھ پائی بھی ہوئی ۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کے موقع پر زرداری ہاؤس جانے والے راستے بند کردیے گئے تھے اور ان کی گرفتاری کے خلاف سڑکوں پر نکل کر پیپلزپارٹی کے کارکنان نے احتجاج کرتے ہوئے توڑ پھوڑ اور جلاؤگھیراؤ بھی کیا۔

ذرائع کے مطابق آصف علی زردای کے میڈیکل چیک اَپ کے لیے پولِی کلینک کا3رکنی میڈیکل بوڈرتشکیل دےدیاگیا ہے جو آصف زردای کاطبی معائنہ کرےگا۔ مذکورہ میڈیکل بورڈ میں میڈیکل اسپشلسٹ، کارڈلوجسٹ ڈاکٹرزشامل ہیں۔

گرفتارآصف زرداری کانیب میں موجودملزمان کے رجسٹرمیں نام درج کیاگیا جب کہ طبی معائنےکیلئےنیب نےپمزمیں بھی میڈیکل بورڈ کےقیام کی درخواست کی ۔ نیب کی جانب سے پولی کلینک اورپمزکوایک ہی نوعیت کےخط لکھےگئے جب کہ نیب ہیڈکوارٹر راولپنڈی کی سیکیورٹی کیلئےسیکریٹری داخلہ کوبھی خط لکھ دیا گیا جس میں نیب ہیڈکوارٹرپررینجرزکی تعیناتی کی درخواست کی گئی۔

قبل ازیں نیب نے آصف زرداری کی گرفتاری کے معاملے پراسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکو خط لکھ کر اسلام آبادہائیکورٹ میں زرداری کی درخواست ضمانت مسترد ہونے سے آگاہ کیا ۔ خط میں میں اسپیکر کو آگاہ  کیا گیا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے آصف زرداری کےوارنٹ گرفتاری جاری کررکھےہیں۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کی کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کارکن مشتعل نہ ہوں ، ہم نےہمیشہ عدالتوں میں اپنی بےگناہی ثابت کی ہے۔

واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو دونوں افراد کو گرفتار کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay