چائلڈ لیبر ڈے : 152 ملین بچے جبری مشقت پر مجبور

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج چائلڈ لیبر کے خاتمے کا منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد نو عمر بچوں کو مشقت کی اذیتوں سے نجات دلا کر ان کے حقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور انکی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کرنا ہے۔

بچوں سے مشقت نہ لینے کا دن منانے کا آغاز 1974 سے ہوا تھا جبکہ پاکستان میں پہلی بار چائلڈ لیبر کے خاتمے کا عالمی دن 2002 میں منایا گیا، جس کا مقصد بچوں کو جبری محنت و مشقت سے روکتے ہوئے انہیں تعلیم جیسی بنیادی سہولت اور چائلڈ لیبر سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں ایک سو باون ملین بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں اور اس دوران ان کا جسمانی استحصال بھی کیا جاتا ہے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی تقریباً ڈیڑھ کروڑ بچے غربت کی وجہ سے کاپی ، قلم اور کتابیں بالائے طاق کر محنت مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔

چائلڈ لیبر کا شکار غریب بچے بنتے ہیں جہاں کھانے کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی اور مجبوراً قلم اور کتابیں اٹھانے والے معصوم ہاتھ بوٹ پالش ، مشینری اوزار ، سیمنٹ بجری اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

دنیا میں پانچ سے 17 سال کے 21 کروڑ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں ۔ چائلڈ لیبرکی سب سے زیادہ شرح افریقہ میں ہے جبکہ پاکستان دنیا میں چائلڈ لیبرکی فہرست والے ممالک میں تیسرے نمبر پر آتا ہے جہاں پھول جیسے معصوم بچوں کیلئے تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات محض ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔

چائلڈ لیبر سے نمنٹے کے لیے پاکستان میں کئی قوانین بنائے گئے ہیں جن میں ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991، ایمپلائمنٹ آف چلڈرن رولز 1995، مائنز ایکٹ 1923 اور فیکٹریز ایکٹ 1934 شامل ہیں۔

ان قوانیں کے مطابق کم عمر کے بچوں کو ملازم رکھنے پر 20 ہزار روپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا مل سکتی ہیں مگر یہ قوانیں صرف ایک ردی کی نظر ہوگئے اور پاکستان میں اب بھی نو عمر بچے کھلے عام مزدوری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

آج بھی ان قوانین اور چائلڈ لیبرڈے سے بے خبر بچے فیکٹریوں میں مزدوری کرتے ، جوتے پالش کرتے، گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ، اخبار ، کھلونے ، پھل اور سبزیاں بیچتے ، کچرا چونتے اور کھیتی باڑی کررہے ہیں۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay