جمہوری احتجاج کرنا ہرپارٹی کاحق ہے، وزیراطلاعات پنجاب

نیوزون کے خصوصی پروگرام “پرائم ٹائم ودتھ ٹی ایم” میں وزیراطلاعات پنجاب صمصام بخاری اور صدرسپریم کورٹ بارایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے شرکت کی اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور وکلاء کے خلاف دائر ہونے والے ریفرنسز پر میزبان طارق محمود سے خصوصی گفتگو کی۔

پروگرام میں میزبان کے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراطلاعات صمصام بخاری کا کہنا تھا کہ بجٹ اجلاس سے پہلے پارلیمانی میٹنگ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری احتجاج کرناہرپارٹی کاحق ہے لیکن احتجاج تواس بات پرکیاجارہاہےکہ لوگ پکڑے جا رہے ہیں۔ کوئی اگرلوگوں کی املاک کونقصان پہنچائےتواس کیلئےقانون موجودہے اور گرفتاریوں پراپوزیشن کااحتجاج سمجھ سے بالاتر ہے کیوں کہ ان پرکیسزحکومت نہیں کررہی،یہ نیب کیسزہیں اور یہ کیسز پچھلے ادوار کے بنائے ہوئے ہیں۔

صمصام بخاری کا کہنا تھا کہ اگرکسی کی کوئی چیزنظرآئےگی توحکومت کیس بنائےگی اور حکومت کی ذمہ داری ہےعوام کے پیسوں لوٹنےوالوں پرایکشن لے۔ نیب مکمل طورپرایک آزادادارہ ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حدیبیہ کیس بندکردیاگیاحکومت اس کوکھلانہیں سکی لیکن کرپشن بچانے کے لیے احتجاج کرنامناسب نہیں ہے اور پتانہیں یہ کس کوبیوقوف بنانےکی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بدنصیبی ہے کہ سیاست سے وضع داری کاعنصرختم ہوگیاہے۔  مریم نوازنےکل جوگفتگوکی وہ کسی خاتون کوزیب نہیں دیتی، انھوں نے تقریر میں نازیباالفاظ استعمال کیے، اخلاق کادائرہ کسی کوبھی نہیں چھوڑناچاہیے، ہرجماعت میں اس طرح کےلوگ موجودان کی تربیت ہونی چاہیے ۔ وزیراعظم نےکسی کوگالی دینےکانہیں کہا۔

صمصام بخاری نے کہا کہ ایون فیلڈفراری کیمپ بناہواہے اور نوازشریف لوگوں کولڑائی کےلیےاکسارہےہیں جب کہ نوازشریف، مریم نوازکی باتوں سے مایوسی ظاہرہوتی ہے۔ 1985سے پہلے لوگ سیاست صرف عزت کیلئےکرتےتھے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتاہوں احتساب 1978 سے ہوناچاہیے۔ شاہدخاقان عباسی اندرکی کڑواہٹ کونکال رہےہیں اور اگرہم ڈلیورکرگئےتولوگ ہماری عزت کریں گے۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب کرپشن پرہاتھ ڈالو تو جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے۔ کرپشن ایک ناسورہےاسےنظام سےختم ہوناچاہیے، انہوں نےچارٹرڈآف ڈیموکریسی اچھانکاح خواں ڈھونڈلیاہے اور فضل الرحمان چارٹرڈآف ڈیموکریسی کیلئےاچھےنکاح خواں ہیں۔

صدرسپریم کورٹ بارایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے میزبان کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے 3 ستونوں میں سےعدلیہ اہم ستون ہے ہمارےحقوق کی محافظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے حقوق پرکوئی ڈاکہ نہ ڈالےیہ بھی عدلیہ دیکھتی ہے اور عوام کےحقوق کےتحفظ کیلئےواحددروازہ بھی عدلیہ ہے۔

امان اللہ کنرانی نے کہا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کوذاتی طورپرجانتےہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ریفرنس دہشتگردی کوروکنےکےلیےرکاوٹ ہے اور ریفرنس ہمارےشہیدوکلاء کےخلاف بہت بڑی سازش ہے۔ ہمیں ریفرنس اوراس کےنکات پراعتراض ہے۔ صدر،وزیراعظم نےججزکی پگڑیاں اچھالیں،ان کوبھگتناپڑےگا۔  ریفرنس کولیک کرنامعمولی بات نہیں ہے اور ریفرنس کےنکات کوپبلک کرناآئین کی خلاف ورزی ہے جب کہ ہرشہری آئین وقانون کی پرعمل کرنےکاپابند ہے۔

صدرسپریم کورٹ بارایسوسی ایشن نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی کرنے والاسنگین غداری کامرتکب ہوتاہے۔ ریفرنس کے نکات لیک کرنے والے غداری کے زمرے میں آتے ہیں جب کہ وزیراعظم اورکابینہ نےاپنےحلف کی خلاف ورزی کی ہے۔ حلف کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایاجائےگا۔ انھون نے بتایا کہ ہم نے کسی پردباؤنہیں ڈالا اور ہمیں سپریم جوڈیشنل کونسل پربھروسہ ہے۔

امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ ہمارااحتجاج صرف حکومت کےخلاف ، حکومت کی بدنیتی اوران کے اقدامات کیخلاف ہے جب کہ کل فردوس عاشق اعوان نےکہا ریفرنس کے نکات کو کسی فوٹواسٹیٹ والےنےلیک کیاہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کل ہم سپریم کورٹ کے سامنے دھرنادیں گے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay