جعلی اکاؤنٹس کیس: فریال تالپور گرفتار

اسلام آباد : پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہمشیرا فریال تالپور کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق فریال تالپور کی رہائشگاہ کو سب جیل قرار دیکر انہیں ہاؤس اریسٹ رکھا جائے گا جہاں پر اٹیچ باتھ اور ایک خاتون سکیورٹی گارڈ کی سہولت میسر ہوگی، ان سے تفتیش بھی یہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روزنیب راولپنڈی کی درخواست پر چیئرمین نیب نے فریال تالپور کے وارنٹ گرفتاری کی منظوری دی تھی۔ جبکہ اس سے قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری عمل میں آئی تھی،10 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو دونوں افراد کو گرفتار کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس

خیال رہے کہ سال 2015 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔

ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ان مشکوک منتقلیوں سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ عبداللہ لوطہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید، ان کے بیٹے اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے داماد ملک زین شامل ہیں۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے مبینہ طور پر اربوں روپے بیرون ملک بھیجنے کے معاملے پرسپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں اس مقدمے میں ملوث تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی۔

ان میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر افراد کے نام شامل تھے۔ تاہم سپریم کورٹ نے بلاول اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا۔

نیب کے چیئرمین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات ایف آئی اے سے قومی احتساب بیورو اسلام آباد کو منتقل کردی ہیں، جس کے بعد چیئرمین نے قانونی اختیار استعمال کرکے متعلقہ مقدمہ اسلام آباد میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے لہٰذا تمام ریکارڈ راولپنڈی کی عدالت منتقل کیا جائے۔

رواں سال مارچ میں کراچی کی بینکنگ کورٹ نے آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور حسین لوائی کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا مقدمہ راولپنڈی کی عدالت میں منتقل کردیا ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay