آئندہ مالی سال کیلئے سندھ کا 12کھرب18ارب روپے کا بجٹ پیش

Chief-Minister-Murad-Ali-Shah

کراچی: وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال 2019-20 کے لیے  12کھرب18ارب روپے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کردیا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کے نئے مالی سال  2019-20 کے لیے  12کھرب18ارب روپے کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ بھی کیا گیا ۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ

سندھ اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہ 15 فیصد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ نئے مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 12 کھرب 18 ارب رکھا گیا ہے ۔

بورڈ آف روینو کو وصولیوں کا ہدف 145 ارب مقرر

مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں بورڈ آف روینو کی وصولیوں کا ہدف 145 ارب مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 835 ارب روپے وفاق سے محصولات کی مد میں وصول ہوں گے جو مجموعی بجٹ کا 74 فیصد ہے۔

صوبے کا ترقیاتی بجٹ

نئے مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی فنڈز کی مد میں 283 اعشاریہ 5 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ ترقیاتی فنڈز میں ضلع اے ڈی پی کے 228 ارب بھی شامل ہیں۔

شعبہ تعلیم کا فنڈ

مالی سال 2019-20 کے بجٹ میں تعلیم کیلئے 178 ارب سے زائد روہے کے  فنڈز مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے 15 ارب روپے زائد ہیں۔

یونیورسٹی اور بورڈ شعبے کیلئے 10 اعشاریہ 5 ارب روپے مختص کیے گئے ۔ وزیر اعلی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ  آئی بی اے سکھر میں مصنوعی ذہانت اور این ای ڈی میں کمپیوٹر سینٹر قائم کیے جائیں گے، جبکہ بدین اور میرپور میں سندھ یونیورسٹی کے خاص کیمپس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

شعبہ صحت

شعبہ صحت کیلئے 114 اعشاریہ 4 ارب روپے مختص رکھے گئے ہیں ۔ یہ فنڈز این آئی سی وی ڈی، جے پی ایم سی اور این آئی سی ایچ اور انڈس اسپتال، ایس آئی یو ٹی اور سیٹلائیٹ سینٹر کیلئے جاری کیے جائیں گے جبکہ ٹی بی کنٹرول پروگرام کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ لاڑکانہ میں مینٹل ہیلتھ سروسز کیلئے 275 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صوبے میں مزید چھ چیسٹ پین یونٹ بھی قائم کیے جائیں گے اور ایچ آئی وی اور خون کے امراض کی تحقیقات کیلئے ایک ارب مختص کیے گئے ہیں۔

امن و امان کے لیے بجٹ مختص/پولیس میں بھرتیوں کا اعلان

بجٹ تقریر میں وزیر اعلی سندھ مرادعلی شاہ نے اعلان کیا کہ بجٹ میں امن و امان کیلئے 110 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں 3 ہزار 6 سو 90 سپاہی اور 4 ہزار 5 سو افسران بھرتی کیے جائیں گے۔ پولیس کے شہداء کو گرانٹ کی رقم 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ ادا کی جائے گی۔

بجٹ میں اعلانات

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ آئندہ سال بھی میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کو بورڈ فیس سے چھوٹ حاصل ہوگی، ملیر ایکسپیرس وے کی تعمیر کا بھی اعلان کیا ہے جو کہ کراچی کا سب سے بڑا انفراسٹرکچر پروجیکٹ ہوگا۔ ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ آئندہ سال موٹروے ایم نائن اور این فائیو لنک روڈ کی تعمیر بھی شروع ہوجائے گی۔

بجٹ تقریر جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ نادرن بائی پاس پر 3 سو ایکڑ ماربل سٹی پروجیکٹ کا آغاز بھی آگلےسال ہوگا جس کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 2 ارب 40 کروڑ روپے ہے اور اس کی تعمیر کا دورانیہ 5 سال ہوگا۔

بلدیاتی اداروں کا بجٹ

سندھ کے نئے مالی سال کے بجٹ میں بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 26 ارب 86 کروڑ روپے، محکمہ زراعت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 8 ارب 40 کروڑ، محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کے لیے دو ارب روپے اور محکمہ صحت کے اسپیشل پروجیکٹس کےلیے 13 ارب پچاس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

گرین پاکستان منصوبہ

مالی سال 2019-20 کے بجٹ میں پاکستان منصوبے کے لیے ایک ارب روپے، سندھ سے غربت کے خاتمے کے حوالے سے 12 ارب 30 کروڑ، ٹی پی تھری منصوبے کے لیے 5 ارب روپے، واٹر سپلائی، ڈرینج اور کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے 22 ارب 95 کروڑ مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ تقریر میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ کراچی میں نکاسی آب کے بڑے منصوبے ایس تھری کو وفاقی حکومت نے بجٹ سے نکال دیا ہے، 36 ارب روپے کے اس منصوبےکے لیے وفاق نے صرف 3 ارب 90 کروڑ روپے فراہم کیے ہیں۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay