ڈیم کیلئے 10ارب کاچندا اکٹھا کیا بتایا جائے رقم کہاں گئی،خورشیدشاہ

اسلام آباد : پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ہمیں ڈیم بنانےسےروکاگیا، آپ نے10ارب کا چندا اکٹھا کیا بتایا جائے رقم کہاں گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی خورشید شاہ نے اظہار خیال دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت جب ہوتی ہےتوپارلیمنٹ ہوتی ہے،آئینی تقاضہ ہےبجٹ ایوان ہی پاس کرتاہے،کبھی کبھی ایسےبجٹ پیش کیےجاتےہیں جن پربولناہماراحق ہے،حکومتی پوزیشن اگرملک کیلئےبہترہوتواسےسپورٹ کیاجاتاہے،اگرحکومت ملک مخالف ہے تواپوزیشن کاکام حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرناہے،اپوزیشن کاحق ہےجوملکی مفادمیں نہیں اس کی مخالفت کرے۔

پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ حقیقت پرمبنی باتیں کرنی چاہئیں، جذباتی بن کرگالم گلوچ سےسیاست نہیں ہوتی،کوشش کی گئی ہےکہ ماحول کوپھرخراب کیاجائے،ہماری کوشش ہےماحول ٹھیک رکھیں،حقائق عوام تک پہنچائیں،ملک کاسب سےبڑامسئلہ آبادی ہے،ہم نےایوان اورجمہوریت پراعتمادرکھا،آج مہنگائی نےجوحالت کی ہے کسی کےبرداشت میں نہیں ۔

سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت کےاہم عہدیدار نےجوباتیں کیں وہ حقیقت پرمبنی تھیں، حکومتی عہدیدارنے وہ باتیں کیں جواپوزیشن کھل کرکہتی ہے،کچھ باتیں اپنے اورکچھ ملک کےلیےکی جاتی ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ڈیم پربہت بازگشت ہوئی ،ڈیم نہ بننامجرمانہ غفلت ہے ، ڈیم پرکتنافنڈاکٹھاہوا،باہر بھی دورےکیے،ڈیم ڈیم کیاگیا لیکن اسے سیاست کی نذرکردیاگیا، ڈیم کے حق میں ہیں جوملکی ضرورت ہے، ہمیں ڈیم بنانےسےروکاگیا،آپ نے10ارب کاچندااکٹھاکیابتایاجائےرقم کہاں گئی،ڈیم بنناچاہیے 15فیصد ڈیم پررکھ لیں ہم حمایت کریں گے،بجٹ کااثر جوعوام پرپڑےگا وہی اصل نتیجہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مجبوری ہےہمیں ماضی میں جاناپڑتاہے، 2008میں حکومت سنبھالی تواس وقت ایک آمرموجود تھا ، آمرصدرہونےکےباوجود پارلیمانی حکومت تسلیم کرنےکوتیارنہیں تھا،
پیپلزپارٹی نےحکومت سنبھالی تویہ نہیں کہاکیسےسب ٹھیک ہوگا، جب حکومت سنبھالی توکہاجاتاتھااسلام آبادکےباہرطالبان پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ سب سےپہلےہم نےاین ایف سی ایوارڈ دیا، حکومت کوبنابنایاپاکستان ملا ہے، آپ کےبقول کوئی دہشت گرد بھی نہیں ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت برے سے برا بجٹ پیش کرے اسے عوام دوست کہتی ہےبجٹ جتنا اچھا ہو، اپوزیشن اسے ہمیشہ مسترد ہی کرتی ہے، یہ روایت رہی ہے،بعض اوقات بجٹ ایسے آتے ہیں جن پر بولنا حکومت اور اپوزیشن ارکان کا فرض بن جاتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ غریب کی10فیصدتنخواہ بڑھاتےہوئےآپ کےہاتھ پاؤں پھول جاتےہیں، زراعت کو فروغ دیں ،قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی، خودکشی کرنے سے بچنے کیلئے آپ زراعت کوفروغ دیں، پاکستان کی ایکسپورٹ ہم 25بلین ڈالر پرلےگئے،2013کےبعد کوئی ایکسپورٹ کو30بلین ڈالرتک نہیں لےکرگیا،آئین کوڈکٹیٹرنےتباہ کیا ہم نے اصل حالت میں بحال کیا،صوبائیت کو چھیڑنےکی کوشش ہوئی تو فیڈریشن کوخطرہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بجلی ،گیس اورادویات کی قیمتیں بڑھادی گئیں، سبق صرف اپوزیشن کیلئےہے،اپوزیشن ہی کرپٹ ہے؟سیاستدان کی ساکھ ہونی چاہیے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay