پاکستان کا اقتصادی بحران

تحریر |علمدار حیدر

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو متحدہ اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں اگر ان کے سامنے کوئی مسئلہ ہے تو وہ اقتصادی صورتحال ہے قومی اسمبلی سے نئے سال کا بجٹ تو منظور ہو گیا ہے لیکن عام پاکستانی ہوشربا مہنگائی کے باعث شدید پریشانی سے دوچار ہے۔

بجلی گیس پیٹرول مہنگا ہونے اور روپے کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے عوام کی قوت خرید دن بدن کم ہوتی جارہی ہے جبکہ تنخواہ دار طبقہ، مزدور کسان، لوئر مدل کلاس اورمڈل کلاس کم ہوتی ہوئی قوت خرید کے باعث زندگی گزارنا دشوار بلکہ ناممکن ہوتا جا رہا ہے جبکہ دکانداروں اور تاجروں نے مہنگائی کے تناسب سے اپنی اشیا کی قیمتیں بڑھا کر اپنا منافع برابر کر لیا ہے۔

گزشتہ دنوں وزیر اعطم عمران خان قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسا سسٹم تشکیل دیں جسکے زریعے بڑھتی ہوئی من مانی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ موجودہ حکومت کو گیارہ ماہ ا گر چکے ہیں لیکن اقتصادی صورتحال قابو میں نہیں
آرہی ہے جبکہ انٹر نیشنل مانیٹرنگ فنڈ آئی ایم ایف کی ہدایات کےمطابق بجٹ تشکیل دیا گیا پہلی جولائی کو بجٹ کی تفصیلات آئی ایم ایف کو دی جائیں گی اور تین جولائی آئی ایم ایف اس کی منظوری دے گا اب دیکھنا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد اقتصادی صورتحال میں کیا تبدیلی آتی ہے ۔

ڈالر کی قیمتوں میں استحکام آتا ہے یا نہیں ویسے تو پاکستان میں بنے والی ہر حکومت کو آئی ایم ایف سے تعاون لینا پڑتاہے لیکن موجودہ حکومت کے ساتھ مسئلہ کچھ مختلف ہے۔

اپو زیشن کا یہ کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے جانے میں دیر کردی جسکی وجہ سے ائی ایم ایف نے مشکل شرائط عائد کردی ہیں۔ اپوزیشن کا دیر سے آئی ایم ایف کیے پاس جانے کو غلطی قرار دینا ناقابل فہم ہے جو شرائط آئی ایم ایف نے رکھی ہیں وہ عام پاکستانی کے لئے تکلیف دہ ضرور ہیں لیکن پاکستانی اقتصادیات کو سیدھے راستے پر لانا بھی ناگزیر ہے۔

ماضی کی حکومتوں نے بھاری قرضے لے کر انھیں عوام کی بھلائی کے بجائے منی لانڈرنگ کے ذریعے اپنی پراپرٹیاں بنائیں کارخانے لگائے ہوٹل اور پلازے بنائے جسکی تفصیلات عوام کے سامنے آچکی ہیں۔

موجودہ حکومت آئی ایم ایف سے ملنے ولی رقوم کو خرد برد نہیں کرے گی یہ لوگوں کو اعتماد ہے لیکن ڈالر کی قیمت میں ااضافہ اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں کا حدسےزیادہ بڑھ جانا عوام کے لئے اور حکومت کے لئے دونوں کے لئے تکلیف دہ ہے قیمتوں کے کنٹرول کے نظام کو بہت موظر کرنا ہوگا کیونکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جس کا جتنا جی چاہتا ہے قیمتوں اضافہ کر دیتا ہے ۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو چاہئے کہ وہ عوام کو بتائیں زندگی کی ضروریات کی ہر شے مہنگی کیوں ہو رہی ہے ماضی کی حکومتوں کے لئے گئے قرض کب تک ادا ہوجائیں صنعت و زراعت کے شعبوں میں ترقی کے کیا منصوبے ہیں کرپٹ عناصر سے لوٹی ہوئی دولت کب واپس آسکتی ہے ۔

صرف یہ تسلی کافی نہیں کہ چند دن مہینے یا سال کے بعد خوش حالی آجائے گی عوام کو یہ بھی بتایا جائے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سے معیشت پر کیا کیا مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔

بہترین طریقہ یہ ہے اپنی ساری مجبوریاں عوام کے سامنے رکھ دی جائیں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ ہمارے حاکم ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہیں لگا رہے آج کی صورتحال میں کرپٹ اپوزیشن کو غیر موثر کرنے کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہو سکتا ہے ۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay